ٹیکس جمع کرانے کے عمل میں اضافہ:حکام
جموں//ریاستی ٹیکس محکمہ نے کہا ہے کہ اُن کے متواتر معائنہ کے بدولت جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس جمع کرانے کے عمل میں اضافہ ہوا ہے۔محکمہ ریکارڈز کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ ریاست میں مختلف مقامات پر ای اے بِلوں پر بھی نظر گذر رکھ رہا ہے تا کہ جی ایس ٹی کے تحت بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کو روکا جاسکے۔محکمہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ایس ٹی این کے تحت92000 ڈیلروں میں سے پچھلے ماہ تک صرف52000 تاجر ادارے ہی ریٹرن داخل کرتے آرہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ کی انفورسمنٹ سرگرمیوں کی بدولت یہ تعداد اکتوبر ماہ کے آخر تک72000 تک پہنچ گئی۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پچھلے مہینوں کے دوران آئی جی ایس ٹی کے تحت ریاست کو اوسطاً225 کروڑ روپے موصول ہوئے تھے۔ تا ہم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمہ کی کاروائی کے بعد اکتوبر ماہ میں آئی جی ایس ٹی کے تحت ریاست کو265 کروڑ روپے موصول ہوئے۔
کنٹریکچول لیکچراروں کی بھوک ہڑتال
۔662 ویں دن میں داخل
جموں// جموں کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں ملازمت کی مستقلی کے مطالبہ کے حق میں+2کنٹریکچول لیکچراروں کی مسلسل بھوک ہڑتال جمعہ کو 662 ویں روز بھی جاری رہی۔ کنٹریکچول لیکچرار ملازمت کی مستقلی کے مطالبے کے حق میں آل جے اینڈکے پلس ٹوکنٹریکچول لیکچر ارس فورم کے بینر تلے نمائش گراونڈ میں طویل عرصہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔اس بھوک ہڑتال میں لیکچرار باری باری بھوک ہڑتال پر بیٹھتے ہیں۔جمعہ کو 662 ویں روز بھی اپنے جائزمطالبے کے حق میں لیکچراروں نے نمائش گراونڈ میں احتجاج مظاہرہ کیا ۔فورم کے صدر ارون بخشی نے بتا یا کہ وہ ملازمت کی مستقلی کے مطالبے کے حق میں گزشتہ 662دنوں سے یہا ں بھوک ہڑتال بیٹھے ہوئے ہیں اور احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگی۔انہوں بتایاکہ’ جب حکومت کے پاس لیکچراروں کی قلت تھی اور ریاست میں ملی ٹینسی عروج پر تھی اس وقت ہم نے اسکولوں میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھاتھا ،ہم نے دورافتادہ علاقوں میں جاکر بچوں کو پڑھایا ہے لیکن ریاستی حکومت نے ہمارے مطالبات کو حل کرنے بارے کبھی بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا ِ‘۔انہوں نے بتا یا کہ کنٹریکچول اور ایڈہاک ملازمین کی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کے لئے ریاستی حکومت نے 2010 میں ایک ریگولرئزیشن پالیسی ’ سیول سروسزسپیشل پرویژن ایکٹ 2010‘بنائی تھی جس کی تحت سات سال کی مدت پوری کرنے والے کنٹریکچول اور ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا جانا تھا ۔اس پالیسی کے تحت حکومت نے دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کی ملازمت کو باقاعدہ بھی بنایا تھا ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومتوں نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک روارکھا کر اس پالیسی کے تحت پلس ٹو کنٹریکچول لیکچراروں کو نظر انداز کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارامطالبہ پورا ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
جموں اکھنور فورلین پروجیکٹ
اُڑنے والی دھول ماحولیاتی آلودگی کا باعث:سیول سوسائٹی
جموں //جموں اکھنور شاہراہ کو چار گلیارہ بنانے کے پروجیکٹ پر جاری کام اور ٹریفک کی وجہ سے اُڑنے والی دھول کی وجہ سے انسانی و حیوانی زندگی کے علا وہ قدرتی ماحول کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں سیول سوسائٹی فار ڈیولپمنٹ آف جموں وکشمیر کے صدر پنیت سنگھ جموال نے کہا کہ تعمیر اتی ایجنسی کی طرف سے کئی احتیاطی اقدامات بھی اٹھا ئے جارہے ہیں لیکن ان کے باوجود گاڑیوں کی آمد و رفت سے اڑنے والی دھول سے ملحقہ علا قہ جات میں سانس لینے میں مشکلات کے ساتھ ساتھ کئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ شاہراہ کے ارد گرد آنے والی دکانوں ودیگر کارو بار کے متاثر ہونے کیساتھ ساتھ سبزی فروشوں کو بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس پروجیکٹ کو جلداز جلد مکمل کرنے کی کوشش کرنے کے علا دہ دیگر احتیاطی تدیبر بھی اپنائی جایں تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے عام زندگی متاثر نہ ہو ۔
گورنر رول کے دوران عوامی مسائل کا نپٹارہ
جموں//ریاست میں30 جون2018 ء کو گورنر راج نافذ ہونے سے7 دسمبر2018 تک گورنر گریوینس سیل بشمول گورنر سیکرٹریٹ کو35322 شکایات موصول ہوئیں جن میںسے34313 کو نپٹارے کے لئے متعلقہ محکموں کو بھیجا گیا ہے جبکہ639 شکایات کو نپٹانے کا عمل جاری ہے۔گورنر کی ہدایات پر اُن کے چاروںمشیر سرینگر اور جموں میں عوامی دربارو ں کے دوران مسلسل بنیادوں پر لوگوں کے مسائل سُنتے ہیں اور اُن کے نپٹارے کے عمل کا جائیزہ بھی لیتے ہیں۔
گورنر نے لوسر کے موقعہ پر عوام کو مبارک باد دی
جموں//لداخ کے نئے سال لوسر کے موقعہ پر گورنر ستیہ پال ملک نے لداخ کے عوام کو مبارک باد دی ہے۔ اپنے ایک پیغام میں گورنر نے کہا ہے کہ لوسر کا تہوار آپسی رواداری ، بھائی چارے ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اخوت جیسی اعلیٰ روایات کا عکاس ہے جس کے لئے لداخ کے عوام صدیوں سے مانے جاتے ہیں۔گورنر نے لوسر کی مبارک باد دیتے ہوئے ریاست میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا کی ۔
جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس جمع کرانے کے عمل میں اضافہ:ریاستی ٹیکس محکمہ
جموں//ریاستی ٹیکس محکمہ نے کہا ہے کہ اُن کے متواتر معائنہ کے بدولت جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس جمع کرانے کے عمل میں اضافہ ہوا ہے۔محکمہ ریکارڈز کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ ریاست میں مختلف مقامات پر ای اے بِلوں پر بھی نظر گذر رکھ رہا ہے تا کہ جی ایس ٹی کے تحت بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کو روکا جاسکے۔محکمہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ایس ٹی این کے تحت92000 ڈیلروں میں سے پچھلے ماہ تک صرف52000 تاجر ادارے ہی ریٹرن داخل کرتے آرہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ کی انفورسمنٹ سرگرمیوں کی بدولت یہ تعداد اکتوبر ماہ کے آخر تک72000 تک پہنچ گئی۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پچھلے مہینوں کے دوران آئی جی ایس ٹی کے تحت ریاست کو اوسطاً225 کروڑ روپے موصول ہوئے تھے۔ تا ہم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمہ کی کاروائی کے بعد اکتوبر ماہ میں آئی جی ایس ٹی کے تحت ریاست کو265 کروڑ روپے موصول ہوئے۔
قومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان کی تشکیل نو
جموں وکشمیرسے ڈاکٹرریاض احمداورڈاکٹرنصیب علی کمیٹی کے رکن نامزد
جموں//وزارت فروغ انسانی وسائل نئی دہلی ، محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت ہندکے تحت قائم قومی کونسل برائے فروغ اُردونئی دہلی کی دوروزپہلے تشکیل نوکی گئی جس کے تحت ڈاکٹرشاہداخترکوادارے کاوائس چیئرمین تعینات کرنے کے علاوہ اُردوکے حوالے سے کام کررہی رضاکارتنظیموں کے 4 نمائندوں اوراُردوزبان وادب کے سلسلے میں کام کررہے مختلف ریاستوں کے 6 نمائندوں کوبھی ادارے میں رکنیت دی گئی ۔جموں وکشمیرسے ایک اسکالر کوقومی کونسل کی اکائی کے اسکالروں کی فہرست میں جگہ دی گئی جس میںشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میں تعینات ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹرمحمدریاض احمدکانام شامل ہے جبکہ چارریاستوں اُترپردیش،مہاراشٹر،تلنگانہ اورجموں وکشمیرکے ایک ایک نمائندے کوجگہ دی گئی ہے جس میں جموں وکشمیرسے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں کام کررہے لیکچررڈاکٹرنصیب علی کے نام کواہمیت دی گئی ہے۔شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میں تعینات ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرمحمدریاض احمد آدھی درجن کتابوں کے مصنف ہیں اورلگ بھگ بیس برس کاتدریسی تجربہ رکھتے ہیں ۔اُردوزبان وادب کی ترقی وترویج کے حوالے سے ملک بھرمیں منفردشناخت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹرریاض کی زیرنگرانی درجنوں اُردواسکالرایم فل وپی ایچ ڈی مقالات تحریرکرچکے ہیں اورموصوف درجنوں قومی وبین الاقوامی کانفرنسوں میں شمولیت اوران میں مقالات پڑھ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں چودھری نصیب علی اساس کی بنیاد پرپبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقدہ تحریری وزبانی امتحان کے بعدمحکمہ اعلیٰ تعلیم میں پلس ٹولیکچررتعینات ہوئے ہیں اورتندہی سے فرائض منصبی انجام دینے کے ساتھ ساتھ اُردووادب کی ترقی کیلئے بھی سرگرم عمل ہیں۔اس سے پہلے جموں یونیورسٹی میں گوجربکروال سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اوراین ایس یوآئی کے نیشنل کوآرڈی نیٹرکے طورپرکافی عرصہ تک کام کیااورطلباء کی رہبری ورہنمائی کرکے اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔چوہدری نصیب علی کاتعلق گوجربکروال قبیلہ سے ہے ۔ابتدائی تعلیم آبائی گائوں سے حاصل کرنے کے بعدچھٹی سے بارہویں جماعت تک تعلیم گوجربکروال ہوسٹل جموں سے حاصل کی ۔انہوں نے دوران تعلیم مختلف مشکلات کاسامناکرنے کے باوجودمختلف سیاسی وسماجی تنظیموں سے وابستہ رہ کرطلباء کے مسائل کے ازالہ کرنے میں پیش پیش رہے اورنوجوانوں کیلئے تحریک کاذریعہ بنے۔
حکومت ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کی وعدہ بند :کے کے شرما
کٹھوعہ//کے کے شرما نے کہا ہے کہ گورنر انتظامیہ ریاست کی کلہم ترقی کو یقینی بنانے کی وعدہ بند ہے اور تمام اِلتوأمیںپڑے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی طرف توجہ دی جارہی ہے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کو دوام حاصل ہوسکے۔ مشیر موصوف نے اِن باتوں کا اِظہار ایک میٹنگ کے دوران کٹھوعہ ضلع میں مختلف سیکٹروں میں اِلتوأ میں پڑے پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے دوران کیا۔کے کے شرما نے کہا کہ ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے ریاستی اِنتظامی کونسل نے جموں و کشمیر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کو منظوری دی۔انہوں نے کاکہا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی ایک نیا تصور ہے اور اس کے ذریعے سے اِلتوأ میں پڑے تمام ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ۔اس سے پہلے کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر روہت کھجوریہ نے مشیر کو جانکاری د ی کہ ضلع میں اس وقت 72.73 کروڑ روپے لاگت والے مختلف سیکٹروں کے اِلتوا ٔمیں پڑے53 پروجیکٹ ہیں۔ اُنہوں نے اکتوبر 2018ء کے آخر تک ضلع میں مختلف سیکٹروں کی حصولیابیوں کے بارے میں بھی جانکاری دی۔مشیر نے رُکے پڑے پروجیکٹوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی پروجیکٹوں کی جلد از جلد ٹینڈرنگ عمل میں لائی جانی چاہیئے ۔اُنہوں نے کہا کہ پروجیکٹوں کی عمل آوری میں شفافیت اور جواب دہی لائی جانی چاہیئے۔اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت د ی کہ وہ اِن پروجیکٹوں کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیں۔کے کے شرما نے کہا کہ مناسب تخمینے اور جائزے کے بعد زیادہ سے زیادہ ڈی پی آر تیار کئے جانے چاہیئے تاکہ ان پروجیکٹوں کی عمل آوری کے لئے رقومات کا اِنتظامات کیا جاسکے۔میٹنگ کے دوران مختلف سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی منتقلی سے جُڑے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اُنہوں نے تجارت میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے پی ڈی ڈی محکمہ پر زور دیا کہ وہ بجلی شیڈول سے متعلق جانکاری ایک ماہ پہلے ہی مشتہر کیا کریں۔اُنہوں نے کٹھوعہ کے انڈسٹریل ایسٹیٹ اور دیگر پروجیکٹوں کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی۔کے کے شرما نے جے کے پی سی سی پر زور دیاکہ وہ جٹھانہ گائوں میں اُجھ کے مقام پر ڈبل لین برج کا کام اگلے برس جون مہینے تک مکمل کریں۔اُنہوں نے میونسپل کمیٹی کٹھوعہ کے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ میونسپلٹی کے تحت آنے والے ترقیاتی منصوبے مرتب کرتے وقت نومنتخبہ کونسلروں کو اعتماد میں لیں۔اس موقعہ پر مختلف محکموں کے چیف انجینئر اور کئی دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
مانسر جھیل میں بیٹری کار کا افتتاح
بیٹری کار کی شروعات سے سیاحتی سرگرمیوں کر بڑھاو ملے گا:کے وجے کمار
جموں//گورنر کے مشیر کے۔ وجے کمار نے مانسر جھیل میں بیٹری پر چلنے والی ایک کار کا افتتاح کیا۔ یہ قدم سٹیٹ وائلڈ لائف محکمہ نے ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کی ایک کڑی کے طور پر اُٹھایا ہے اور بیٹر ی کار خدمات کی شروعات سے جنگلات سے گھیری اس جھیل میں سیاحتی سرگرمیوں کو بڑھاوا حاصل ہوگا۔ کمشنر سیکرٹری جنگلات منوج کمار دویدی اور کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ کافی تعداد میں سیاح اس سیاحتی مقام کا دورہ کرتے ہیں اور اب انہیں جھیل کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے میں آسانی ہوگی۔اس کار کی شروعات کرنے کے بعد مشیر موصوف اور کمشنر سیکرٹری جنگلات نے آلودگی سے مبرا اس کار پر سواری کی۔مشیر کو اس موقعہ پر محکمہ کے ان اقدامات کے بارے میں جانکاری د ی گئی جو وہ اس علاقے میں ایکو ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے اُٹھارہا ہے۔اس موقعہ پر افسران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مشیر نے وائیلڈ لائف محکمہ اور ایس ایم ڈی اے افسروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کر کے جھیل کے ماحولیات کو صاف رکھنے میں اپنا بھر پور تعاون دیں۔بعد میں مشیر نے رینج آفیسر وائیلڈ لائف پروٹیکشن محکمہ کا بھی دورہ کیااور کام کاج کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔کے ۔ وجے کمار نے اس موقعہ پر افسروں کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے علاقے میں جنگلی حیات کے مختلف اقسام کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور اُنہیں تحفظ دینے کے لئے محکمہ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔