سری نگر//سی پی آی ایم کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی، عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ اور پنتھر س پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ نے مرکزی سرکار کی جانب سے مرکزی بجٹ پر تیکھا ردعمل ظاہر کیا ہے۔تاریگامی نے مرکزی حکومت کی طرف سے سوموار کوپارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بجٹ کومایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں لوگوں کے مسائل جیسے بے روزگاری،بھوک،مہنگائی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کہ یہ بجٹ لوگوں کی اقتصادی کسادبازاری اور لوگوں کی قوت خریدمیں کمی جیسے مسائل کو حل کرنے میں مکمل ناکام ہوا ہے۔اس میں نابرابری کے جرثومہ کوختم کرنے کیلئے کوئی موثرتجویز نہیں ہے۔منظم سیکٹر میں روزگار کے ختم ہونا تشویش ناک ہے اورتعلیم یافتہ لوگوں کو روزگار کھودیناباعث فکر ہے۔ادھر مظفر شاہ نے جموں و کشمیر یوٹی کیلئے 30757 کروڑ روپے فراہم کرنے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے ۔انہوں نے اس اعلان کے فوراً بعد کہا ہے کہ 5اگست 2019کے فیصلے کے بعد جموں وکشمیر میں صرف سیاحت،ٹرانسپورٹ ۔ہوٹیلرس سیکٹروں کو ایک سو کوروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔میڈیانمائندوں کے ساتھ پارٹی ہیڈ کواٹر پر بات کرتے ہوئے مظفر شاہ نے بتایااس دوران مرکزی حکومت نے یہاں گیس پائپ لائن بچھانے کا بھی منصوبہ بنا لیا ہے ۔انہوں نے کہا اس گیس پائپ لائن کو سرینگر جموں شاہراہ سے کشمیر تک پہنچانا ہے لیکن سرینگر جموں شاہراہ کی حالت انتہائی خراب ہے اور سرکار شاہراہ کو قابل آمد رفت بنانے میں ناکام ہوئی ہے ۔مظفر شاہ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میرے لئے یونین ٹریٹری نہیں ہے بلکہ ملک کی سب سے پرانی ریاست ہے ۔اس دوران پروفیسر بھیم سنگھ نے مرکزی حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے سالانہ بجٹ 2021کوغریبوں کولوٹنے(کسانوں،مزدوروں اورکمزورطبقوں)اور سرمایہ داروں کے خزانے بھرنے سے تعبیر کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی کل آبادی کا80فیصد بھاجپا کے بجٹ سے متاثر ہوا ہے۔انہوں نے امیدظاہر کی ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر متحد ہوکر 80فیصدآبادی کے مفاد میں بھاجپاحکمرانوں کی مخالفت کرکے انہیں برطرف کریں گے