ڈوڈہ// بھاجپا کی قیادت میں مرکزی حکومت ہر سطح پر ناکام ہوئی ہے،مہنگائی و بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے عام آدمی و تعلیم یافتہ نوجوان پریشان ہیں۔مرکزی سرکار نے نوٹ بندی و پلاننگ کمیشن کو منسوخ کر کے ایک تاریخی غلطی کی ہے۔ ان باتوں کا اظہار سابق وزیر و پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عبدالمجید وانی نے پارٹی دفتر ڈوڈہ میں منعقد پریس کانفرنس سے کے دوران کیا۔اس موقع پر سابق رکن اسمبلی رام بن اشوک کمار و کانگریس ضلع صدر شیخ مجیب علی بھی موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وانی نے کہا کہ کانگریس ملک کی ایک قدیم جماعت ہے جس کی محنت اور کاوشوں سے ملک نے ترقی کے منازل طے کئے۔اور جتنے بھی اثاثے ملک میں قائم ہوئے وہ کانگریس کی مرہون منت ہے۔ ا±نہوں نے بتایا کہ وہ ملک کے اثاثوں کو بیچنے نہیں دیں گے کیونکہ یہ حکومت مسلسل سرمایہ داروں کے اشاروں پر نجی کاری کو فروغ دے رہی ہے۔ جس وجہ سے ملک کی اقتصادی حالت بدحالی کا شکار ہو گئی ہے۔ا±نہوں نے بتایا کہ ملک نجی کاری سے کہاں تک چلے گا۔یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا ہے۔ ا±نہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمام وسائل ختم ہو گئے ہیں جی.ایس.ٹی نے تمام تاجر پیشہ افراد کو کمزور کر دیا۔وانی نے بتایا کہ کانگریس کے تمام سابق وزراءاعظم ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں کامیاب رہے۔ جب دنیا میں اقتصادی بحران چل رہا تھا ا±س وقت بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کی اقتصادی حالت کو مضبوط اور مستحکم بنائے رکھا. لیکن بی جے پی حکومت کے اپنے ہی لوگ غلط اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جس وجہ سے تمام لوگ گمراہی کا شکار ہیں۔اس موقع پر اشوک کمار نے بتایا کہ ملک کے اثاثوں کو مختصر رقومات میں فروخت کیا جا رہا ہے یہ عوام مخالف پالیسی ہے اس سے ملک کا غریب غریب تر ہو گا۔منیٹائزیشن ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ جموں و کشمیر کو ریاست کو دو حصّوں کو تقسیم کر کے کیا گیا۔شیخ مجیب نے بتایا کہ اقتصادی بحران سب کے سامنے عیاں ہے۔کارخانے ،بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اکنامیک ڈپریشن کا شکار ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی فریق کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ لیتی ہے یہ ایک عامرانہ طرز حکومت ہے۔اس میں بڑے سرمایہ داروں کو ہی اعتماد میں جاتا ہے۔ ا±نہوں نے حکومت نے دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک پورا نہیں ہوا۔