محتشم احتشام
پونچھ// مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ میں تحصیل بھر کے نکاح خواں، ائمہ مساجد اور مذہبی ذمہ داران کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت علمائے کرام منعقد ہوا، جس میں عصری سماجی بگاڑ، غیر شرعی رسوم و رواج اور شادی بیاہ کے مواقع پر بڑھتی ہوئی بے اعتدالیوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر کئی مضبوط اور مؤثر فیصلے کئے گئے جن کا مقصد معاشرے میں دینی شعور کو عام کرنا، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق نکاح کو آسان بنانا اور فضول رسومات کے خاتمے کی طرف عملی قدم بڑھانا ہے۔اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ غیر شرعی تقاریب اور ایسے نکاح جن میں فضول خرچی، بے حیائی یا غیر اسلامی رسومات شامل ہوں، ان میں کوئی نکاح خواں نکاح نہیں پڑھائے گا۔ شرعی اصولوں کے مطابق سادگی، تقویٰ اور طہارت کے ماحول میں منعقد نکاح ہی جائز تصور کیا جائے گا۔ علماء نے واضح کیا کہ اسلام میں نکاح عبادت ہے اور اسے لغویّات، بے پردگی، ناچ گانے یا غیر اخلاقی رسوم کے ساتھ جوڑنا گناہ کے مترادف ہے۔مزید برآں، شادیوں میں ڈھول، ڈی جے اور دیگر شور انگیز آلاتِ موسیقی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علماء نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ ان آلات کے ذریعے فحاشی اور بے راہ روی کو فروغ مل رہا ہے، جو اسلامی ماحول اور معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔اجلاس میں موجود نکاح خوان حضرات نے اپنی خدمات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے متفقہ طور پر نکاح خواں کی فیس میں ضروری اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا، تاکہ معاشرتی ضروریات اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق یہ خدمت باوقار انداز میں جاری رہ سکے۔تمام علماء و آئمہ نے اس موقع پر قائدِ اہلِ سنت کے بنیادی فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل سرنکوٹ کے ہر نکاح خوان، امام مسجد اور مذہبی ذمہ دار اب ان فیصلوں پر بلا استثناء عمل کریں گے اور عوام میں بھی ان اصولوں کی آگاہی کو عام کیا جائے گا۔اجلاس کا اختتام اجتماعی دعا پر ہوا، جس میں امن، اتحاد اور اسلامی اقدار کے فروغ کی خصوصی دعا کی گئی۔