مفرور خاتون گرفتار
راجوری //راجوری پولیس نے ایک فرار خاتوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ دھرم شال پولیس اسٹیشن کو تیریٹھ پولیس پوسٹ کے ایک کیس کی تحقیقات میں مطلوب تھی۔خاتوں کی پہچان شمیمہ اختر دختر نور محمد ساکنہ منوا بارباڑی تیریٹھ کے بطور کی گئی ہے۔پولیس پوسٹ تیریٹھ کے ہیڈ کانسٹیبل بھان سنگھ کی قیادت میں ایک پولیس پارٹی نے راجوری قصبہ میں ایک مکان پر چھاپہ مارا اور مبینہ ملزمہ کو گرفتار کیا۔وہ 2014سے پولیس اسٹیشن دھرم سال میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر102/2014 میں مطلوب تھی ،تب سے ہی خاتوں فرار چل رہی تھی۔مبینہ ملزمہ کی گرفتاری کے لئے کالاکوٹ کی آنریبل عدالت نے وارنٹ گرفتاری اجرا کیا ہے۔
۔08 مویشی بازیاب،ڈرائیور گرفتار
پونچھ//پونچھ پولیس نے سرنکوٹ سے08 مویشیوں کو بازیاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق پولیس پوسٹ بہرام گلہ کی ایک پولیس ٹیم نے زیر قایدت ایس آئی سکھویر سنگھ زیر نگرانی ڈپٹی ایس پی سرنکوٹ اصغر ملک بہرام گلہ میں ایک ناکہ لگایا اور ایک وہیکل زیر نمبر JK22-3198،جسے رہیز اقبال ولد رشید ساکنہ فضل آباد سرنکوٹ چلا رہا تھا ،کو روکا اور دوران تلاشی وہیکل سے 08 مویشوں کو برآمد کرکے ڈرائیور کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 246/2017 زیر دفعہ 188آر پی سی درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔
راجوری جیل میں طبی کیمپ کا اہتمام
عظمیٰ نیوز
راجوری //ضلع جیل کے قیدیوں کی صحت کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات کی ہدایت پر چیف میڈیکل آفیسر راجوری سریش شرما نے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ترتیب دی تھی جس نے گزشتہ روز 131قیدیوں کا مفصل طبی معائینہ کیا اور خاص کر ٹی بی، شوگر اور بلڈ پریشر جیسے امراض کی تشخیص کی۔ اس موقعہ پر جیل سپرنٹنڈنٹ محمد رفیق بھی موجود تھے۔ قیدیوں کو جہاں امراض کے بارے میں جانکاری دی گئی وہیں انہیں صحت و صفائی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی بھی ترغیب دی گئی۔ ان کے خون اور تھوک وغیرہ کے نمونے لئے گئے تا کہ کیمیائی تجزیہ کر کے ٹی بی جیسے امراض کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے ۔ لیبارٹری سے رپورٹ آنے کے بعد ہی ان مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے قدم اٹھائے جائین گے۔ اس موقعہ پر ایک رنگا رنگ پروگرام کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
سب ڈویژن کوٹرنکہ کی سڑکوں کی خستہ حالی پراظہارتشویش
ظفرپوسوال
راجوری//سب ڈویژن کوٹرنکہ کی بیشترسڑکیں خستہ حالی کاشکارہیںجس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں کاکہناہے محکمہ پی ڈبلیوڈی کے تحت جوسڑکیں سب ڈویژن کوٹرنکہ ہیں ان پرکچھوے کی چال کام چل رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کیلئے یہ سڑکیں سونے کی کان بنی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کابینہ وزیر ذوالفقارچوہدری کی طرف سے محکمہ کوجاری کی گئی ہدایات کی بھی حکم عدولی کی گئی ہے ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ کوٹرنکہ سب ڈویژن میں کافی سڑکیں ہیں جن کی تعمیر محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے ذمہ ہے لیکن ان سڑکوں پر گاڑیوں کو چلانا تو دور کی بات ہے یہ گھوڑے چلانے کے لائق بھی نہیں ہیں ۔انجینئر سجاد چوہدری اورالطاف حسین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن سڑکوں پر کئی سال پہلے محکمہ پی ڈبلیو ڈی نے کام شروع کیا تھا وہ ابھی تک تشنہ تکمیل ہیں ان کے کام کی رفتار دیکھ کر نہیں لگتا ہے کہ اگلے دس سالوں تک یہ سڑکیں مکمل ہو پائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ مقامی وزیر برائے امورصارفین واطلاعات چوہدری ذوالفقار علی نے بھی محکمہ کو کافی مرتبہ سڑکوں کی تعمیر کے کام میں تیزی لانے کیلئے کہاہے لیکن محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے اعلی افسران کے کان میں جوں تک بھی نہیں رینگی ہے ۔انہوں نے ہماری مانگ کی کہ سڑکوں کی تعمیرکے کام میں تیزی لائی جائے تاکہ لوگوں کودرپیش پریشانیوں کاازالہ ہوسکے۔
کوٹرنکہ بازارمیں ٹریفک کی
بدنظمی سے لوگ پریشان
ظفرپوسوال
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ بازار میں ٹریفک نظم ونسق کے ناقص نظام کی وجہ سے لوگوں کوپریشانیوں کاسامناکرنا پڑرہاہے۔ مین بازار میں سیب فروشوں نے ٹاٹاموبائل گاڑیاں لگائی ہوئی ہیں جن پر سیب فروخت کیے جارہے ہیں اوران گاڑیوں کی پارکنگ کی وجہ سے پورا دن ٹریفک نظام بد نظمی کا شکار ہوتا ہے ۔ایسی حالت میں اگر کسی کو ایمرجنسی ہسپتال پہنچنا ہو تو بہت مشکل در پیش آتی ہے یہاں بازار میں ٹریفک کا کوئی نظم ونسق نہیں ہے کوئی پارکینگ کی جگہ دستیاب نہیں ہے جہاں لوگ کہاں اپنی گاڑیوں کو پارک کرکے مارکیٹ میں خریدوفروخت کریں۔ انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ کی کوئی دیکھ ریکھ نہیں ہے کوئی جائے تو جائے کہاں۔ پولیس انتظامیہ اگر حرکت میں آئے تو سیب بیچنے والوں کی گاڑیاں کودوسری جگہ پرلگایاجاسکتاہے جس سے لوگوں کی پریشانیوں میں کسی حدتک کمی واقع ہوسکتی ہے۔
محکمہ تعلیم کے ہیڈاسسٹنٹ کی سبکدوشی کے سلسلے میں الوداعی تقریب
عشرت بٹ
منڈی// تحصیل صدر مقام منڈی میں رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کی جانب سے زونل صدر شکیل نازکی کی قیادت میں الحاج مقبول احمد ہیڈ اسسٹنٹ محکمہ تعلیم کی سبکدوشی کے سلسلے میں ان کے اعزازمیں الوداعی تقریب کااہتمام کیاگیاجس میں مقررین نے الحاج مقبول احمد کی محکمہ کے تئیں خدمات کوسراہا اوران کی سبکدوشی کے بعدکی خوشحال زندگی کیلئے نیک خواہشات پیش کیں۔اس دوران تقریب کی صدارت منڈی ذون کے ذونل آفیسر غلام حسین نے کی ۔اس دوران تحصیلدار منڈی عبدل قیوم مہمان خصوصی تھے ۔ عبدالقیوم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کہ مقبول احمد ایک اعلیٰ فرض شناس آدمی ہیں-اس موقعہ پر فورم کے ضلع صدر حمید نباض ، ایم ایم.پٹھان نے کہا کہ مقبول احمد کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے اعزاز میں زون منڈی ہر کمپلیکس میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جو کہ گزشتہ ایک ماہ سے چلا آرہا ہے اور ایسا اس زون میں پہلی بار کیا گیا ہے یہ سب انکی محبت اور دیانت داری کا صلہ ہے -اپنے صدارتی خطبے میں بیان فرماتے ہوے منڈی کے زونل آفیسر غلام حسین نے کہا کہ ہم تمام شرکاء حضرات کو مقبول احمدکے نقش و قدم پر چلنا چاہے جو ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہے۔اس موقع پر فورم کے صوبائی نائب صدر نشاط تانترے'،ضلع نائب صدر انعام الرحمٰن سیکرٹری اسلم چوہان ,اسحاق خیال'مشتاق بیتاب 'مہراج خالد, طارق نایک وغیرہ نے بھی خطاب کیا- تحصل صدر ریاض ہمدانی, ریاستی الیکشن کمشن ممبر افضل شیخ, عبدل رعف, فاروق منگرال, مقداد جعفری, معشوق خان , اسرار خان پرویز احمد, جہانگیر احمد, نزیر تانترے, محمد ایاز , شکیل خان, ممتاز ضیای, جاوید مغل ,فردوس احمد, بشیر میر, شبیر احمد شہنواز ملک,دلپزیر احمد شہنواز چک, مختار تانترے پرویز احمد وغیرہ موجود تھے۔
راجوری میں ٹریفک پولیس کا کرین ایک مذاق بن گیا
راجوری//راجوری میں ٹریفک پولیس کا کرین لوگوں کے لئے ایک مذاق بن گیا ہے کیونکہ ٹریفک انتظامیہ وہیکلز کو اُٹھانے کے مقصد سے رکھے گئے اس کرین سے مشکل سے ہی کوئی وہیکل اُٹھاسکتا ہے ۔ راجوری میں برسوں سے قائم اس کرین کی حالت بد سے بر تر ہوئی ہے ۔اسکی اسٹیل کی رسیوں کو پتھروں سے باندھا جاتا ہے اور سکے وہیکل اُٹھانے کا میکنزم بھی ناکارہ ہوا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ راجوری قصبہ میں گشت کرتا ہے اوربعض اوقات اسکی سائرن بھی لوگوں کی توجہ بن جاتی ہے۔مقامی لوگوںنے ٹریفک پولیس پر مبینہ الزام لگایا ہے کہ وہ راجوری میں ٹریفک کی صورتحال بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ روز بروز گاڑیوں کے اضافہ سے ٹریفک کا نظام تباہ ہوا ہے۔. انہوںنے کہا کہ غلط پارکنگ کی وجہ سے راجوری میں بھاری ٹریفک جام لگا رہتا ہے جس کے لئے محکمہ ٹریفک کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ایک مقامی شخض سمت کمارنے کہا ہے کہ جہاں پر ٹریفک منیجمنت کی بہتری کیلئے ٹریفک لائٹس نصب کرنے کی باتیں کر رہے ہیں وہیں ہمارے پاس ایک قابل کار کرین بھی نہیں ہے ،جس سے راجوری کے ٹریفک حُکام کی پول کھلتی ہے۔اس نیھ مزید کہا کہ قصبہ میں رکھا گیا کرین مشکل سے ہی کسی وہیکل کو اُٹھا سکتا ہے، حالانکہ یہ قصبہ میں گھومتا پھرتا ہے۔مامی لوگوں نے قصبہ کے لئے ایک قابل کار کرین کا مطالبہ کیا ہے ،جس کا استعمال نو پارکنگ زون میں پارک کی گئی گاڑیوں کو اُٹھانے کے لئے کیا جائے گا ،تاکہ ٹریفک کی بد حالی سے عوام کو نجات دلائی جا سکے۔
جموں کشمیر کو بجلی پروجیکٹوں کی واپسی سے متعلق مرکز اور ریاست کی خط وکتابت
حق اطلاعات کے تحت این ایچ پی سی سے متعلق جانکاری فراہم کرنے سے مرکزی انفارمیشن کمیشن کا انکار
سرینگر//ریاست میں’’ این ایچ پی سی‘‘ کے پروجیکٹوں سے متعلق ریکارڑ سے متعلق معلومات کو منکشف کرنے سے انکار کرتے ہو ئے مرکزی انفارمیشن کمشنر نے کہا ہے کہ یہ جانکاری تجارتی نوعیت سے حساس ہے اور کمپنی کے حصص داروں میں غیر ضروری کنفیوژن اور افراتفری پھیلنے کا احتمال ہیں۔ حق اطلاعات کارکن وینکٹیش نائک نے پن بجلی پروجیکٹوں کو واپس خریدنے،تجاویز کے امکانات اور فائلوں کی نوٹنگ سے متعلق مرکزی اور ریاستی سرکار کے درمیان خط و کتابت کی تفصیلات کیلئے رجوع کیا تھا۔ نائک کا کہنا ہے’’جموں کشمیر کی حکومت نے سال2000میں مرکزی حکومت کے ساتھ ایک باہمی یاداشت پر دستخط کئے ،جس میں کہا گیا ہے کہ7پن بجلی پروجیکٹوں کو10برسوں کیلئے فنڈز کے ذرائع،عملدرآمد اور آپریشن کیلئے این ایچ پی سی کو سونپ دیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کیس سے متعلق مزید جانکاری فرہم کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے باہمی یاداشت میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان پروجیکٹوں کو واپس ریاست کو سونپنے کیلئے باہمی قابل قبول طریقہ کار کے تحت کام کریں گے۔ونکٹیش نائک نے مرکزی وزارت بجلی کو حق اطلاعات قانون کے تحت عرضی دی تھی،کو این ایچ پی سی لمیٹیڈ کو منتقل کیا گیا،جس نے معلومات دینے سے نکار کیا۔مذکورہ کمپنی نے کہا’’یہ ایک لسٹڈ کمپنی ہے،اور (جانکاری) منکشف ہونے سے حصص داروں میںغیر ضروری خدشات اور کنفیویژن پیدا ہونے کا امکان ہے،اور اس کی وجہ سے این ایچ پی سی کی تجارتی اعتماد سازی کو دھچکہ لگ سکتا ہے‘‘۔ادھر مرکزی انفارمیشن کمیشن سدھیر بھگوا کا ا س سلسلے میں کہنا ہے’’کمیشن سمجھتا ہے کہ عرضی گذارکی طرف سے طلب کی گئی جانکاری،تجارتی اعتبار سے حساس ہے،اور اس کو منکشف کرنے میں کوئی بھی عوامی مفاد کار فرما نہیں ہے،جبکہ مذکورہ پبلک سیکٹر انڈ ٹیکنگ میں حصص داروں کو غیر ضروری طور خدشات پیدا ہونگے‘‘۔ان کہنا تھا کہ طلب کی گئی انفارمیشن حق اطلاعات قانون کے تحت منکشف کرنے کے حوالے سے مستثنیٰ ہیں،اور یہ’’تجارتی اعتماد اور تیسرے فریق کے دائرے میں آتی ہیں۔ انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر سوالیہ انداز میں نائک نے کہا کہ تیسری فریق کی شق اس میں لاگو نہیں ہوتی،کیونکہ جس پبلک اتھارٹی نے حصول معلومات کی درخواست وصول کی اور اس پر مرکزی پبلک انفارمیشن افسر کے زریعے فیصلہ لیا،وہ دوسرا فریق ہے۔انہوں نے کہا ’’ این ایچ پی سی جموں کشمیر کے پن بجلی گھروں سے40فیصد بجلی کی پیدوار حاصل کرتا ہے‘‘۔وینکٹیش نائک نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کو12فیصد بجلی مفت میں فرہم کی جاتی ہے،اور این ایچ پی سی کی طرف سے ریاست کو19سے20فیصد بجلی تجارتی قیمتوں پر فروخت کی جاتی ہے۔نائک نے کہا کہ پبلک اتھارٹی کو تیسرا فریق اور جواب دہندہ ماننا قانوناغلط ہے،اور اگر یہ عام روش بنگئی تو،کسی بھی سرکاری دفتر میں سنیئر افسر کسی بھی حق اطلاعات قانون کی درخواست میںتیسرا فریق ہونے کا دعویٰ کرے گا۔حق اطلاعات قانون کے دفعہ11کے تحت اگر کوئی عرضی گزار کسی بھی پبلک اتھارٹی سے تیسرے فریق سے متعلق جانکاری طلب کرتا ہے،تو اس صورت میں متعلقہ افسر کو اس جانکاری کو منکشف کرنے سے قبل اس کا نقطہ نظر لینا ہوتا ہے،تاہم حتمی فیصلہ کا حق متعلقہ افسر کے پاس محفوظ رہتا ہے۔