مقدمہ درج، شکایت کنندہ سے بار بار رشوت طلب کرنے کا الزام،تحقیقات جاری
سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ایک اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے محکمہ جنگلات کے دو ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کی شناخت محمد زمان، فارسٹ گارڈ اور اعجاز احمد، فارسٹر کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع راجوری کے کنڈی رینج میں تعینات تھے۔سرکاری بیان کے مطابق، اے سی بی نے دونوں ملازمین کے خلاف پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں ایف آئی آر نمبر 04/2026 درج کی ہے، جو انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 (ترمیم شدہ 2018) کی دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ یہ مقدمہ ایک شہری کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی زمین پر سیپٹک ٹینک اور زیر زمین ٹینک کی کھدائی کر رہا تھا، جہاں اس کا مکان پہلے سے موجود ہے۔ 13 مارچ کو محمد زمان نامی فارسٹ گارڈ اس کے گھر پہنچا اور یہ کہہ کر کھدائی کا کام رکوا دیا کہ مذکورہ زمین محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔شکایت کنندہ کے مطابق، اس نے بارہا وضاحت کی کہ زمین اس کی ذاتی ملکیت ہے، تاہم اہلکار نے اس کی ایک نہ سنی اور 50 ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی دھمکی دی گئی کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خوف اور دباؤ کے تحت شکایت کنندہ نے 30 ہزار روپے ادا کیے، جو موقع پر ہی ملزمان کی جانب سے فراہم کردہ اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے۔ اس کے باوجود دونوں ملازمین نے مزید 10 ہزار روپے کی رشوت کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو مسلسل ہراساں کرنا جاری رکھا۔مسلسل دباؤ اور ہراسانی سے تنگ آ کر متاثرہ شخص نے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا اور تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور جال بچھایا۔کارروائی کے دوران اے سی بی ٹیم نے دونوں ملزمان کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا جب وہ شکایت کنندہ سے مزید 7 ہزار روپے رشوت وصول کر رہے تھے۔ دونوں کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔بعد ازاں اے سی بی نے ملزمان کے رہائشی گھروں پر بھی تلاشی کارروائی انجام دی۔ حکام کے مطابق اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور بدعنوانی میں ملوث دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔