راجوری//راجوری ضلع کے دورافتادہ علاقہ تریڑو سے خواس جانے والی سڑک پر کٹورہ دریا پر پل نہ بنائے جانے کی وجہ سے لوگوںکو سخت مشکلات کاسامناہے اور انہیں دریا عبور کرتے ہوئے اپنی جان پر کھیلناپڑتاہے ۔اس پل کی تعمیر کیلئے اگرچہ ضلع انتظامیہ نے ڈی پی آر تیار کرکے مہینوںپہلے حکام کو بھیج دیاتھاتاہم اس کی منظوری ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور فنڈز کی فراہمی کا بھی انتظار کیاجارہاہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق تریڑو سے خواس جانے والی سڑک کئی گائوں کیلئے رابطہ سڑک ہے لیکن اس پر اہم پل نہ بن پانے کی وجہ سے لوگ مشکلات سے دوچار ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پل کی تعمیر کا کئی برسوں سے انتظار کیاجارہاہے اور خاص طور پر برسا ت کے موسم میں ان کی مشکلات اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عبور و مرور میں جان ہتھیلی پر رکھناپڑجاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اس سڑک پر گاڑیاں عارضی راستے سے چلتی ہیں لیکن برسات کے موسم میں جب پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے تو گاڑیاں بھی بند ہوجاتی ہیں اورپھر لوگ پیدل سفرکرتے ہیں جو جوکھم بھرا کام ہے ۔ان کاکہناہے کہ ٹریفک کا سلسلہ منقطع ہوجانے کے دنوں میں پانی کی سطح بھی بلند ہوجاتی ہے اور خواس ، دلیری ، کٹورہ ، لاٹھی وغیرہ کے لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات درپیش آتی ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ یہاں تک کہ طلباء کو بھی جان جوکھم میں ڈال کر دریا پار کرناپڑتاہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی دھیان نہیں دیاجارہا اور اس پل کی تعمیر نہیں کی جارہی ۔انہوںنے کہاکہ انہوںنے وقت بروقت اس حوالے سے حکام اور سیاسی نمائندوںسے اپیل کی لیکن سب نے یقین دہانیاں دلائیں اور عمل کسی نے نہیں کیا۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹرشاہد اقبال چوہدری نے کہاکہ محکمہ تعمیرات عامہ نے اس سلسلے میں 4.69کروڑ روپے کی لاگت کاڈی پی آر تیار کرکے حکام کوروانہ کردیاہے تاہم رقومات اور اس کی منظوری کا انتظار کیاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ پل کی تعمیر لوگوں کی مانگ ہے لیکن اس کو تاحال منظوری نہ ملی ہے ۔