محکمہ تعلیم میں646انچارج پرنسپلوں کی باقاعدگی کاحکم

سرینگر// سرکار نے ایک جامع پیش رفت کے تحت محکمہ تعلیم میں646 سے زائد انچارج پرنسپلوں کو با قاعدہ طور پر پرنسپلوں کے عہدوں پر تعینات کیا۔ محکمہ تعلیم کے انتظامی سیکریٹری بی کے سنگھ نے بتایا کہ اسکولوں میں تعینات انچارج پرنسپلوں کی حیثیت سے جو مدرسین کام کر رہے تھے اور انہیں مستقل طور پر ان عہدوں پر فائز کیا گیا ۔ان  میں سینئر لیکچررز اور زونل ایجوکیشن آفیسر بھی شامل ہیں۔سنگھ نے کہا ہے کہ یہ احکامات 2019 میں تشکیل دیئے گئے محکمہ جاتی ترقیوں سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر جاری کیے گئے ۔ اس سلسلے میں یہ حکم بھی جاری کیا گیا ’’محکمہ اسکول ایجوکیشن میں انچارج پرنسپل ، سینئر لیکچررز ور زیڈ ای اوز کو پرنسپل اور مساوی عہدوںکے طور پر باقاعدہ بنانے کومنظوری دی گئی ہے۔‘‘ مستقلی کی شرائط بتاتے ہوئے ، احکامات میں لکھا گیا ہے کہ منتخب کردہ پرنسپل جو ڈرائنگ اینڈ ڈسٹربوسنگ آفیسرز (ڈی ڈی او) کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہیں ، وہ متعلقہ افسر سے انڈ ر ٹیکنگ لیں گے۔حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے ’’درجہ اول مجسٹریٹ کے ذریعہ اس معاہدے(انڈر ٹیکنگ) کی تصدیق حلف نامے کی شکل میں یہ ہونی چاہئے کہ اگر ان کی خا دمات(ڈیوٹی) کی تفصیلات ، پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ میں قلمزنی،نقلی، جعلی ،  یا غیر تسلیم شدہ یونیورسٹی کے ذریعہ جاری کی گئی ہے یا یہ کورس غیر تسلیم شدہ ثابت ہوتا ہے، تو کسی بھی مرحلے پر  ، ان کو باقاعدگی کے لئے کوئی دعوی نہیں ہوگا اور اس کے حق میں جاری کردہ باقاعدگی کے آرڈر کو بغیر کسی نوٹس کے منسوخ سمجھا جائے گا۔‘‘ مزید کہا گیا ہے کہ  ڈی ڈی ائوز  ان افسران کی تنخواہ طے کرنے سے قبل متعلقہ ڈی ڈی اوز وقتا فوقتا ترمیم شدہ متعلقہ تنخواہوں میں، انکے اصل محکموںکے دفاتر کے متعلقہ ڈی ڈی اوز سے ایل پی سی اور دیگر متعلقہ تفصیلات حاصل کریں گے۔