محرکات ِکتب و اخبار بینی اور اسباق میری بات

سید مصطفیٰ احمد ، بڈگام

زندگی کا عمیق مطالعہ یا تو زندگی جی کر کیا جاسکتا ہے یا پھر دوسروں کی زندگیوں کو پڑھ کر کسی حد تک زندگی کے متعلق ایک نقطہ نظر تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں اس اخبار کے ایڈیٹر صاحب نے میری ایک تحریر کے جواب میں بولتے ہوئے کہا تھا کہ سارے مصنفین اپنے بات دوسروں کی زبان سے بولتے ہیں۔ یعنی ایک آدمی اپنی بات دوسرے شخص کے وساطت سے بولتا ہے۔ کتب بینی اور اخبار بینی بھی اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اگر میں اپنی بات کروں تو Greater Kashmir اور Kashmir Reader جیسے موقر اخبارات نے مجھے کتب بینی کی دنیا میں پہنچا دیا۔ دس سال پہلے کی بات ہے جب مندرجہ بالا اخبارات میں اتنے نفیس مضامین شائع ہوا کرتے تھے کہ ایک قاری کی پیاس بجھے بھی نہیں بجھ پاتی تھی۔ اتنی گہرائی اور باریک بینی سے مضامین لکھے اور سنوارے جاتے تھے کہ زندگی کی دوسری ذمہ داریوں سے ایک قاری لگ بھگ کٹ ہی جاتا تھا۔ کتب بینی کے شوق کے پیچھے ان شفیق اساتذہ کا بھی ہاتھ ہے جنہوں نے ہماری بے بسی کو ختم کرنے کے لئے حکمت اور تجسّس کی شمعیں روشن کیں اور ہمیں کتب بینی کی باریکیوں کے اول دروس بہم پہنچائیں۔ DH Lawrence اپنی ایک نظم ” Last Lesson of the Afternoon” میں بھی ایک شعلہ جلانے کی بات کرتا ہے تاکہ وہ طلباء کی بے غرضی کو ختم کریں جو صنعتی انقلاب کے پس منظر میں نمودار ہوئی تھی۔ ہماری مثال بھی ان طلباء جیسے تھی۔ ترقی کے دور میں رہ کر بھی ہم علم و حکومت کے چشموں سے کوسوں دور تھے مگر جیسے کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ کیسے محسن اساتذہ اور کچھ مشہور اخبارات نے ہماری ویرانیوں میں تازگی اور توانائیوں کے دریا رواں دواں کئے۔ مندرجہ بالا اخبارات کے علاوہ The Hindu، The Indian Express, The New York Times,The Wall Street Journal, The Economist, The Time Magazine, Frontline, The Caravan، وغیرہ نے ہماری زندگیوں میں نکھار لایا۔ کالج کے زمانے میں جب ہم نے پنکھوں کو پھیلانا شروع کیا تھا، دنیا کے مشہور اخبارات اور رسالوں نے ہمارے اذہان پر گہری چھاپیں چھوڑی تھیں۔ جب ہماری عمر گھومنے اور پھیرنے کی تقاضے کر رہی تھی، اس وقت ہم معیاری اردو اور انگریزی پڑھنے کے جنون میں مبتلا تھیں۔ The Economist کی سلیس انگریزی نے جیسے ہمیشہ انگریزی زبان کا دیوانہ بنا دیا۔ The Caravan کی گہرائی نے جیسے زندگی میں گہرائی کے سامان مہیا رکھیں۔ Frontline کی چاشنی کبھی بھی پھیکی نہیں پڑی۔ India Today کے اوراق کو ہاتھ میں تھام کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کیا کبھی کوئی ایسا دن بھی آئے گا کہ میں بھی ایسا اداریہ لکھ سکوں گا جو اس موقر ہفتہ وار رسالے کی پہچان ہے۔ ایسے کتنے مواقع تھے جب ہم نے اخبار اور رسالوں کی خاطر کھانا پینا ترک کرکے اگلے شمارے کو سب سے پہلے خریدنے کی کوششیں کیں۔ اب ایسے کونسے اسباق ہیں جو ہم نے اخبارات اور رسالوں سے حاصل کیں۔ کچھ کا مختصر ذکر آنے والی سطروں میں کیا جارہا ہے۔
پہلا ہے ذہنی وسعت :۔مختلف اخبارات اور رسالوں سے ہمارے ذہن کے دریچے کھل گئے۔ مطالعہ کرنے سے پہلے جہالت اور جھوٹ کے ڈھیرے ہر سو تھے لیکن مطالعہ کے بعد کسی حد تک جہالت میں کمی وقوع پذیر ہوئی اور سچ کی تلاش کا مادہ پیدا ہوگیا۔ اب ہر تسلیم شدہ بات کو سچ کے مختلف مراحل سے گزرنا جیسے عادت سی بن گئی ہے۔ کسی بھی بات کو اب ہم پتھر کی لکیر سمجھنے کی نادانی نہیں کرتے ہیں۔ اس سے اور لوگوں کے نظریات کی عزت کرنے کے شاندار اور جاندار اوصاف بھی پیدا ہوئے۔
دوسرا ہے زبان پر عبور :۔انگریزی سے لے کر اردو اخبارات اور رسالوں نے زبان کی باریکیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ الفاظ کی جملہ بندی کیسے کی جاتی ہے، یہ سب ان معیاری اخبارات اور رسالوں کی دین ہیں۔ مطالعہ سے پہلے الفاظ کا جوڑ توڑ بالکل غلط تھا لیکن مطالعہ کے بدولت الفاظ کی پہچان کے علاوہ ان کی بناوٹ کیسےکی جاتی ہے، یہ سب جمہوریت کے چوتھے سکون، خاص کر پرنٹ میڈیا کی ہی دین ہے۔ دنیا کے قابل اور ذہین مصنفین کو پڑھ کر یہ بات ہمارے اذہان پر چھا گئی کہ ہم بھی اتنی خالص اور دل کو موہ لینے والی تحریر قلم بند کرسکتے ہیں۔
تیسرا ہے وقت کا صحیح استعمال :۔ ہر روز ایک سے زیادہ اخبارات اور رسالوں کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے وقت کا صحیح استعمال ہوتا ہے۔ مطالعہ کے دوران ایک قاری گہرائیوں کی ایسی وادیوں میں پہنچ جاتا ہے کہ قلت ِوقت کا احساس دامن گیر ہوجاتا ہے۔ بے کار ذہن شیطان کا آشیانہ ہے، اس کے برعکس اخبارات اور رسالوں کا مطالعہ ذہن کے علاوہ احساسات اور خیالات کی پختگی کا باعث ہے۔
چوتھا ہے جدوجہد زندگی :۔میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ گھر میں روزگار کے بڑے بڑے ذرائع موجود نہیں ہیں لیکن پھر بھی مزدوری اور دوسرے چھوٹے موٹے کام کر کے میں سالوں سے کتابیں، اخبارات اور رسالوں کا خریدار رہا ہوں۔ کبھی دوستوں سے تو کبھی مزدور والد صاحب سے کچھ پیسے لے کر ان چیزوں کی خریداری کرتا ہوں۔ اپنے پیٹ پر لگام لگاتے ہوئے اوراق کو ہاتھوں میں لینا اور پھر ان کو گھر کی لائبریری کی زینت بنانا، الگ ہی مٹھاس پیدا کرتی ہے۔ اس سے احساس ذمہ داری کے علاوہ پیسوں کی قیمت کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ اس سے زندگی جینے میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
پانچواں اور آخری سبق ہے آنے والے نسلوں کی فکر:۔ جو قوم تعلیم یا کتابوں پر خرچ کرتی ہے وہ کبھی بھی تباہ نہیں ہوسکتی ہے۔ اس قوم کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہوتی ہے۔ اس قوم میں اٹھنے کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ Umberto Eco کی مثال یہاں دی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ بات بڑی افسوس سے لکھی جاتی ہے کہ کیسے اب کتب بینی کے علاوہ اخبار بینی اور رسالوں کے مطالعہ کا شوق نایاب ہوتا جارہا ہے۔ کسی بھی کتب فروش اور اخبار بیچنے والے سے بات کرے، تو ان سب کا ایک ہی جواب ہوگا کہ مصنوعی ذہانت اور Generative AI کے اس دور میں اب e-learning اور PDFs نے لے لی ہے۔ اب سو میں سے ایک یا دو آدمی کتابیں اور اخبار خریدتے ہیں۔ ان کے مطابق کتابوں کے علاوہ اب اخبارات اور رسالے بھی بک چکے ہیں۔ اب ان میں باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرکے دکھایا جاتا ہے۔ راہزن کو رہبر اور رہبر کو راہزن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کا گلا کاٹنے والے اب ان کتابوں اور اخبارات میں جمہوریت کے پاسباں کے طور پر دکھائے جاتے ہیں۔ معصوموں کا قتل کرنے والوں کو محسن مان کر ان کا سواگت پھولوں سے کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کون قاری ہوگا جو ان کتابوں کا مطالعہ کرکے اپنے دماغ کو خراب کردے۔
حالات کا رخ کسی بھی طرف ہو اور کتابیں اور اخبارات جھوٹ سے بھرے ہی کیوں نہ پڑے ہوں، سنجیدہ قاریوں کی قطار میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کی نظر ایک سکے کے دونوں طرف پر ہے۔ وہ اوروں سے ہٹ کر دیکھتے ہیں۔ اگر ہم بھی اپنے آپ کو اس خاطے میں ڈالیں، تو بڑی بے ادبی ہوگی لیکن خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی سطح پر سچ کی تلاش میں رواں دواںہیں۔ بدلتے حالات کے ساتھ اب مختلف قاریوں کی ضرورت ہے۔ بکے ہوئے اخبارات اور رسالوں کے علاوہ بکی ہوئی کتابوں میں بھی سچائی کے موتے نکال کر دوسرے لوگوں تک پہچانا وقت کی ضرورت ہے۔ قاریوں کی تعداد میں کمی اور اضافہ ہوتا رہے گا لیکن خالص قاری ہمیشہ حق کا متلاشی ہوتا ہے۔ اس کا جینا مرنا حق کی خاطر ہے۔ اس سچائی کی خاطر وہ کسی بھی جائز حد جاسکتا ہے اور اسی وجہ سے آج بھی مطالعہ کا ذوق برقرار ہے۔ جاتے جاتے میں قاریوں سے کتب بینی کا شوق اپنے اندر پیدا کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔ میں نے مضمون کی ابتداء اپنی کہانی سے اس لئے کئی تھی تاکہ اس سے ایک قسم کی ذہن سازی ہوں۔ مجھے بہت سارے مصنفین پسند ہیں لیکن Kazuo Ishiguro کی کتابوں کا مطالعہ کرنے میں کچھ الگ ہی مزہ ہے۔اس لئے آپ سب کو چاہیے کہ اس کی کتابوں کو ضرور پڑھیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع عطا کرے۔
رابطہ۔7006031540
[email protected]