کولکتہ/مہندر سنگھ دھونی کے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ریدھیمان ساہا کو ٹیسٹ ٹیم سے مکمل طور پر باہر کیا گیا ہے ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ساہا اور رشبھ پنت ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم انڈیا کی وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ تاہم پچھلے دو سالوں سے پنت نے ساہا پر برتری لے لی تھی۔ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد ساہا نے کرک انفو سے بات کی۔ساہا نے کہا ‘‘میں کبھی ناراض نہیں ہوتا ہوںاور نہ ہی اب ہوں۔ مجھے سلیکشن کے اس فیصلے سے جنوبی افریقہ میں ہی آگاہ کردیا گیا تھا، لیکن میں نے اس بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ اب جب ٹیم کا انتخاب ہو چکا ہے تو میں نے صرف ان سوالات کے جوابات دیے ہیں جو مجھ سے پوچھے گئے تھے ۔آپ کو یہ کب اور کیسے بتایا گیا؟ انہوں نے کہا ‘‘جنوبی افریقہ سیریز کے بعد، راہل بھائی (راہل ڈریوڑ، ہیڈ کوچ) نے مجھے کمرے میں بلایا اور کہا ‘‘ردھی میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے کہنا ہے ، لیکن سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ اب ایک نئے چہرے کی تلاش میں ہیں۔ چونکہ آپ ہمارے پہلے وکٹ کیپر نہیں ہیں اور آپ پلیئنگ الیون میں بھی نہیں ہیں، اس لیے اب ہم کسی نوجوان وکٹ کیپر کو ٹیسٹ ٹیم میں رکھنا چاہتے ہیں ’’۔ میں نے کہا ‘ او کے کوئی بات نہیں’۔اس کے بعد انہوں نے کہا ‘‘اگر آپ سری لنکا کے خلاف ٹیم میں منتخب نہیں ہوتے ہیں تو حیران نہ ہوں۔ تب تک اگر آپ کوئی اور فیصلہ لینا چاہتے ہیں تو لے سکتے ہیں’’۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ میں ریٹائرمنٹ کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوں۔ میں نے کرکٹ کھیلنا اس لئے شروع کیا کیونکہ مجھے یہ کھیل کھیلنا پسند ہے اور کھیلوں گا جب تک مجھے یہ کھیل اچھا لے گا۔10-12 دنوں کے بعد مجھے چیتن شرما (چیف آف سلیکشن) کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تم رانجی ٹرافی میں کھیل رہے ہو؟ میں نے کہا کہ میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پھر انہوں نے وہی بات دہرائی جو راہل بھائی نے کہی تھی۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ یہ صرف اس سیریز کے لیے ہے یا آسٹریلیا اور انگلینڈ کی سیریز کے لیے بھی؟ تو انہوں نے دو سیکنڈ کے لیے رکتے ہوئے کہا ‘‘اب آپ کو انتخاب کے لیے آگے کبھی کنسیڈر نہیں کیا جائے گا’’۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ یہ میری کارکردگی اور فٹنس کی وجہ سے ہے یا میری عمر کی وجہ سے ؟ انہوں نے کہا کہ فارم اور فٹنس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اب ہم ٹیم میں نئے چہرے دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ آپ کو ڈراپ کیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔