ایجنسیز
دبئی//متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے ’’اوپیک ‘‘ اور’’اوپیک پلس‘‘ سے علیحدہ ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کے شعبے میں شدید بحران پیدا ہو چکا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔یہ اعلان سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے کیا گیا، جس کے مطابق یہ اقدام یو اے ای کی طویل مدتی حکمت عملی اور معاشی ترجیحات کے مطابق ہے۔یو اے ای نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم اس کے ’’بدلتے ہوئے توانائی پروفائل‘‘ اور مقامی سطح پر توانائی کی پیداوار میں اضافے پر بڑھتی توجہ کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی میں ایک ’’ذمہ دار اور قابلِ اعتماد کردار‘‘ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار ہے۔بیان میں کہا گیا،’’یہ فیصلہ یو اے ای کے طویل مدتی اسٹریٹجک اور معاشی وڑن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ملکی توانائی کی پیداوار میں تیزی سے سرمایہ کاری شامل ہے، اور عالمی توانائی منڈی میں ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور مستقبل پر نظر رکھنے والے کردار کو مضبوط بناتا ہے۔‘‘یو اے ای نے مزید کہا کہ علیحدگی کے بعد بھی وہ ذمہ داری کے ساتھ عالمی منڈی میں بتدریج اور محتاط انداز میں اضافی پیداوار فراہم کرتا رہے گا، جو طلب اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ہوگی۔یہ پیش رفت یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو مختلف معاشی اور جغرافیائی سیاسی معاملات، خصوصاً یمن تنازع میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حوالے سے پالیسی اختلافات پر مبنی ہیں۔