امتیاز خان
کائنات کے کارخانے میں رشتے تو بہت ہیں، مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو مٹی اور خون کے مادی بندھنوں سے کہیں بلند، روح کے کسی ان دیکھے تار سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں جو اپنی مادی موجودگی میں جتنے توانا ہوتے ہیں، اپنی عدم موجودگی میں اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کئے جاتے ہیں۔ میری زندگی کی کتاب میں ایک ایسا ہی باب ہے جسے میں نے کبھی پڑھا نہیں، مگر اس کا ہر حرف میرے وجود کی سطروں میں رچا بسا ہے۔ وہ باب ’ماں‘ہے۔ وہ ہستی جسے میں نے کبھی دیکھا نہیں، جس کی صورت کا تصور میری بصارت کی حدوں سے باہر ہے، مگر اس کا لمس میری بصیرت میں ایک مستقل اور میٹھے درد کی طرح بسیرا کئے ہوئے ہے۔
میں نے ماں کو کبھی نہیں دیکھا۔ یہ جملہ کہنے میں جتنا مختصر ہے، اپنے اندر اتنی ہی طویل داستانِ الم سموئے ہوئے ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے چہرے کی روشنی کیسی تھی، اس کی پیشانی پر ابھرنے والی لکیریں کن فکروں کی امین تھیں یا اس کی آنکھوں میں میرے لئے کتنے خواب سجے تھے۔ مجھے اس کے ہاتھوں کی وہ مخملی نرمی بھی یاد نہیں جس کا تذکرہ دنیا بھر کے شعرا اپنے کلام میں کرتے ہیں۔ مگر انسانی جبلت بھی کتنی عجیب ہے!جس ہستی کو آنکھوں نے کبھی دیکھا نہ ہو، اس کی عدم موجودگی ایک ایسی مکمل موجودگی بن کر ساتھ رہتی ہے جیسے کوئی سایہ، جو اجالے میں نظر نہ آئے مگر وجود کا حصہ رہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ماں کی گود جنت کا وہ ٹکڑا ہے جو زمین پر اتار دیا گیا ہے۔ میں اکثر تنہائی کے لمحات میں، جب دنیا کا شور تھم جاتا ہے، سوچتا ہوں کہ وہ جنت کیسی ہوگی؟ کیا وہ واقعی اتنی پرسکون ہوتی ہے جتنی لوریوں اور کہانیوں میں سنائی جاتی ہے؟ یا وہ ایک ایسا ماورائی احساس ہے جسے انسانی زبان کے محدود لفظوں میں قید کرنا ممکن ہی نہیں؟ میرے لئے ماں ایک دائمی سوال ہے ایک ایسا سوال جس کا جواب میں نے بچپن کی گلیوں سے لے کر جوانی کی دہلیز تک ہر موڑ پر تلاش کیا، مگر ہر بار جواب کا دامن ادھورا ہی پایا۔
بچپن، جو ہر انسان کیلئے رنگوں اور خوشیوں کا استعارہ ہوتا ہے، میرے لئے ایک خاموش مشاہدے کا نام تھا۔ مجھے وہ شامیں آج بھی یاد ہیں جب میں محلے کی گلیوں میں دوسرے بچوں کو دیکھتا تھا کہ کیسے وہ چھوٹی سی چوٹ لگنے پر تڑپ کر اپنی ماں کی طرف بھاگتے تھے۔ وہ اپنی ننھی منی شکایات، اپنے معصوم سے دکھ اور اپنی بڑی بڑی فرمائشیں ایک ایسی ہستی کے سامنے ڈھیر کر دیتے تھے جس کے پاس ہر مسئلے کا حل ایک مسکراہٹ یا ایک پیار بھرے لمس کی صورت میں موجود ہوتا۔ میں ایک خاموش تماشائی کی طرح یہ سب دیکھتا اور سوچتا کہ کیا میرے پاس بھی کوئی ایسا کندھا ہے جہاں میں اپنا بوجھ ہلکا کر سکوں؟ اس وقت شاید میں ’محرومی‘کے اس بھاری لفظ سے واقف نہیں تھا، مگر آج وہ گزرے ہوئے خاموش لمحے ایک گہری اور گھنی اداسی میں ڈھل چکے ہیں۔
وقت ایک ایسا بے رحم استاد ہے جو آپ کو تھپڑ مار کر سبق سکھاتا ہے۔ اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ جب سینے میں درد اٹھے تو اسے مسکراہٹ کے لبادے میں کیسے چھپانا ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ تنہائی کو اپنا دوست کیسے بنانا ہے اور اپنی شخصیت کی عمارت کو بغیر کسی سہارے کے کیسے کھڑا کرنا ہے۔ میں مضبوط بن گیا، میں نے خاموشی کی زبان سیکھ لی، میں نے اپنے آنسوئوں کو پلکوں سے باہر نکلنے سے روکنا سیکھ لیا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل مل جاتا ہے، سوائے ماں کے۔ یہ وہ خلا ہے جو زندگی کی ہر بڑی سے بڑی خوشی کے عین درمیان میں ایک سیاہ نقطے کی طرح موجود رہتا ہے۔ آپ کتنا ہی بڑا مقام حاصل کر لیں، جب تک وہ ہستی دیکھنے والی نہ ہو، کامیابی کا ذائقہ کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔ جیسے کسی عالی شان محفل کے پس منظر میں کوئی بہت ہی اداس اور ادھورا سا گیت بج رہا ہو۔
انسانی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی میں خود سے ہمکلام ہوتا ہوں کہ اگر میری ماں میرے سر پر ہاتھ رکھنے کیلئے موجود ہوتی تو کیا میں آج مختلف ہوتا؟ شاید میں زندگی کے تلخ حقائق سے اتنا واقف نہ ہوتا، شاید میرے اندر وہ بے فکری ہوتی جو ایک محفوظ بچپن کا خاصہ ہے۔ مگر پھر ایک روحانی تسلی دل کو تھام لیتی ہے کہ شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ میں اس محرومی کی بھٹی میں تپ کر کندن بنوں۔ آج اگر میں دوسروں کے دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہوں، اگر میں کسی کی خاموشی میں چھپی داستان پڑھ لیتا ہوں یا اگر میرے لہجے میں دوسروں کیلئے نرمی اور احساس ہے، تو یہ سب اسی ’ادھورے پن‘کی دین ہے جس نے مجھے انسان دوست بنا دیا۔
زندگی کا یہ طویل سفر مجھے ایک عجیب حقیقت سے روشناس کروا چکا ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مادی طور پر ہمارے بالکل پاس ہوتے ہیں، جن سے ہم روز ملتے ہیں، مگر وہ ہمارے دل سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جو کبھی ہماری نظروں کے سامنے نہیں آئیں، جن کا ساتھ ہمیں ایک لمحے کیلئے بھی میسر نہیں رہا، مگر وہ ہماری شہ رگ کے سب سے قریب ہوتی ہیں۔ ماں میرے لئے اسی ان دیکھے مگر دائمی تعلق کا نام ہے۔ وہ میرے وجود کے خلیوں میں سانس لیتی ہے، وہ میرے لہجے اور میری مسکراہٹ میں کہیں نہ کہیں چھپی ہوئی ہے۔
آج جب میں اس کالم کے ذریعے اپنے دل کے بند کواڑ کھول رہا ہوں، تو میرا مقصد صرف اپنی اداسی بانٹنا نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے جن کے پاس یہ عظیم نعمت موجود ہے۔ ہمیں اکثر نعمتوں کی قدر ان کے چھن جانے کے بعد ہوتی ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کی خوشخبری صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو سکونِ قلب کی تلاش سے آزاد کر دیتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو تھکے ہارے گھر لوٹتے ہیں تو کوئی ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا ہوتا ہے، کوئی ان کے ماتھے کی شکن دیکھ کر ان کا دکھ بانٹ لینے والا ہوتا ہے۔میں اپنے رب کے حضور سربسجود ہو کر دعا کرتا ہوںکہ اے پروردگار!تمام مائوں کی مغفرت فرما۔ انہیں جنت الفردوس کے ان باغات میں جگہ عطا فرما جہاں کوئی دکھ اور کوئی جدائی نہ ہو اور جن کی مائیں حیات ہیں، انہیں صحت، سلامتی اور تادیر اپنے بچوں کا سایہ بنا۔
[email protected]
���������������