فاضل شفیع بٹ
مکان کی چھت پر بڑی دیر سے ایک کالا کوّا منڈلا رہا تھا۔ نیچے لان میں مرغی کے دو چوزے زمین کے اندر سے کینچوے ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔ پاس میں ہی بطخ کے دو چوزے پانی میں نہا رہے تھے۔
چند دن پہلے ہی میں نے جب اپنی بیٹی کے ساتھ بازار کا رخ کیا تھا تو بازار میں رنگ برنگے مرغی کےچوزے اور بطخ کے چوزے دیکھ کر میری بیٹی کا دل للچا گیا اور اس نے ان کو خریدنے کی ضد کی۔ حالانکہ میں نے اپنی بیٹی کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ گھر میں ان کی دیکھ بھال، ان کے دانہ پانی، ان کے رہنے کی جگہ کا مسئلہ درپیش ہوگا, لیکن میری بیٹی اپنی ضد پر اڑی رہی اور میں نے بیٹی کی ضد کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنا ہی مناسب سمجھا۔ میں نے دکاندار سے دو بطخ اور دو مرغی کے چوزے خرید لیے۔ میری بیٹی خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ آج کے بعد وہ موبائل فون کے استعمال سے گریز کرے گی اور ان پرندوں کے ساتھ اپنا بیشتر وقت صرف کرے گی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی جب بیوی نے باپ بیٹی کا کارنامہ دیکھا تو تلخ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئی:
” آپ کے پاس کوئی کام دھندا تو ہے نہیں۔ میں سارا دن گھر کی صاف صفائی کرنے میں مصروف رہتی ہوں اور آج آپ ایک نئی آفت کو لے کر گھر آگئے۔ اب میں کہاں جاؤں۔۔ گھر کا کام کاج دیکھوں یا ان چوزوں کی دیکھ بھال کروں۔۔ اور ہاں ان کو اپنے پاس سلاؤ گے کیا؟ ڈربا تو ہے نہیں۔۔”
” بیگم۔۔ آپ بے فکر رہیں۔۔ میں نے لوہار سے بات کی ہے۔ ایک آدھ گھنٹے میں لوہے کا ڈربا تیار ہو کر آئے گا۔۔ ان چوزوں کی دیکھ بھال ہم سب مل کر کریں گے” میں نے محبت آمیز لہجے میں جواب دیا۔
چوزوں کی آمد سے گھر میں ایک رونق سی آگئی۔ اب میری بیوی ان کے ساتھ بے انتہا محبت سے پیش آتیں۔ صبح تڑکے ہی چوزوں کے ڈربے کی صاف صفائی کرتیں۔ ڈربے میں دانہ پانی کا اہتمام کرتیں۔ بیٹی اسکول سے آنے کے بعد چوزوں کے ساتھ کھیلتی، ان سے پیار کرتی۔ کبھی کبھار شام کے اندھیرے کے بعد بیوی ان چوزوں کو کچن میں لے کر آتی۔۔ دونوں ماں بیٹی بڑی دیر تک چوزوں سے اپنے دل کو لبھاتی تھیں، روم ہیٹر کی مدد سے ان چوزوں کو گرمی فراہم کرتیں، کبھی کمبل میں ان کو لپیٹ لیتیں۔ چوزے بھی اس کھیل سے کافی لطف اندوز ہوتے۔۔ ان کی آوازوں سے گھر کے ماحول میں ایک عجیب کیفیت چھا جاتی۔۔ یہ آوازیں بڑی دلفریب تھیں۔ ان میں سکون تھا۔ ان میں ایک کشش تھی۔۔ میں یہ سب دیکھ کر بڑا ہی محظوظ ہوتا تھا۔۔
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گھر میں ان چوزوں کی آمد سے واقعی میری بیوی اور بیٹی کے رویئے میں بہت بدلاؤ آچکا ہے۔ اس سے قبل میری بیوی کی دوستی کالے کوّے سے تھی۔ ہر روز صبح کھڑکی کے باہر ایک کالا کوّا کھانے کا منتظر رہتا اور میری بیوی گھر کا بچا کھچا کھانا کوّے کی نذر کرتیں۔ بیوی تو چوزوں کا بھرپور خیال رکھتیں لیکن ساتھ میں اس نے کوّے سے بھی اپنی دوستی برقرار رکھی۔۔
اب گھر کا یہ معمول بن چکا تھا کہ شام سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے چوزوں کو ڈربے سے باہر لان میں نکال دیا جاتا۔ بطخ کے چوزوں کو پانی سے بے حد لگا تھا اور مرغی کے چوزے کینچوے ڈھونڈنے میں اپنا سر کھپاتے رہتے اور کالا کوّا اوپر منڈلاتا رہتا۔ میں نے اپنی بیوی سے بارہا کہا کہ شاید یہ کالا کوّا اپنے شکار کی تاک میں بیٹھا ہے لیکن الٹا وہ مجھے ہی ڈانٹتی۔۔۔۔ ان کا کہنا تھا:
” یہ کوّا بیچارہ محض دانہ پانی کے لئے منڈلاتا رہتا ہے۔ یہ میرا پرانا دوست ہے اور یہ ایسی حماقت کبھی نہیں کرے گا”
کوّا سرگوشی کر رہا تھا۔ اس نے غرا کر مجھ سے کہا:
” میں نمک حرام نہیں ہوں۔ میں ان چوزوں کی رکھوالی کروں گا اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ اس مسئلے میں اپنی ٹانگ اڑانا بند کریں۔۔” کوّا فر سے اڑ گیا
میں دنگ رہ گیا۔ کیا واقعی ایک کوّا بھی اتنا وفادار ہو سکتا ہے۔ اور ایک دن اس وفاداری کا ثبوت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لان میں چوزے چوں چوں کر رہے تھے۔۔ کالا کوّا دانہ پانی نوش فرما رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کالا کوّا ہنس پڑا اور آناًفاناً اپنے پروں کو حرکت دی۔
میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ میرا دل کوّے کی وفاداری کو لے کر پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ دو مہینے بیت گئے۔ اب چوزوں نے تھوڑا وزن بڑھا لیا تھا۔ ڈربے میں چوں چوں کی آوازیں بلند تر ہوتی گئیں۔ بطخ اور مرغی کے چوزوں میں خوب دوستی ہو گئی۔گھر کا ماحول بڑا دوستانہ تھا۔۔ چوزوں کی دوستی۔۔۔۔ کالے کوّے کی دوستی۔۔۔ میاں بیوی کی دوستی۔۔۔ باپ بیٹی کی دوستی۔۔۔ چوزوں کی ماں بیٹی سے دوستی۔۔۔
ایک روز میں کسی کام سے گھر سے باہر نکلا ہی تھا کہ بیٹی کا فون آگیا۔۔وہ زار و قطار رو رہی تھیں:
” بابا۔۔۔ بابا۔۔ وہ چوزہ”
میں فوراً گھر واپس لوٹا۔۔ گھر کا ماحول گویا ماتم کدہ تھا۔ میری بیوی اور بیٹی کی آنکھیں نم تھیں۔۔وہ دونوں خاموش بیٹھے تھے۔۔ مجھے دیکھتے ہی میری بیٹی میرے سینے سے لپٹ گئی اور رقت آمیز لہجے میں کہا:
” بابا۔۔۔ بابا۔۔ مما لان میں تھیں۔۔ چوزے ڈربے سے باہر کینچوے ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔۔ وہ مما کا دوست کالا کوّا آیا اور چوزے کو اپنی چونچ میں لے کر رفو چکر ہو گیا۔۔
بابا۔۔۔ کوّے نے چوزے کی گردن پر وار کیا۔ اس کی چونچ میں وہ چوزہ لہو لہان تھا۔۔ بابا۔۔ کوّے نے ایسا کیوں کیا۔۔
بابا۔۔ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔۔ مجھے وہ چوزے بہت اچھے لگتے تھے۔۔
بابا۔۔۔ بابا۔۔۔ چوزہ مر گیا”
میں نے اپنی بیٹی کو دلاسہ دینے کی بھرپور کوشش کی حالانکہ اندر سے برا لگ رہا تھا۔وہ میرا بھی پسندیدہ چوزہ تھا۔۔ مجھے بھی اس سے بے حد لگاؤ تھا۔
میں نے اپنی بیٹی کو گلے سے لگایا۔ بیوی جیسے شرمندہ شرمندہ سی تھیں۔ میں نے اداس نظروں سے چھت کی جانب دیکھا۔۔ چوزہ کالے کوّ ےکی چونچ میں تھا۔۔ وہ مر چکا تھا۔۔ کالا کوّا بڑی بے رحمی سے ہنس رہا تھا۔۔ اور زور زور جیسے بول رہا تھا:
” بے وقوف عورت، میں دو ماہ سے اپنے شکار کے تاک میں تھا۔۔ آپ نے آج تک میری خوب خاطرداری کی ہے۔۔ پر میں کیا کروں۔۔میں مجبور ہوں۔۔ گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟
مجھے معاف کرنا”
کالا کوا ا چوزے کو اپنی چونچ میں لے کر دور افق کی نارنجی چادر تلے کہیں غائب ہو گیا۔
���
اکنگام، انت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419041002