ایجنسیز
جگدل پور (چھتیس گڑھ)// صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ہفتہ کے روز کہا کہ ماؤ نوازوں کے خلاف حکومت کی فیصلہ کن کارروائی سے بستر خطے میں خوف اور بداعتمادی کا ماحول ختم ہو گیا ہے اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔بستر ضلع کے صدر مقام جگدل پور میں تین روزہ ڈویڑن سطح کے بستر پانڈم میلے کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر نے اْن لوگوں سے اپیل کی جنہوں نے تشدد ترک کر کے قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے کہ وہ آئین اور جمہوریت پر اعتماد رکھیں اور امن کے راستے سے ہٹانے والوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ بستر کی قدرتی خوبصورتی اور بھرپور ثقافتی روایات ہمیشہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ خطہ کئی برس تک ماؤ ازم کے مسئلے سے متاثر رہا۔صدر مرمو نے کہا کہ نکسل ازم سے سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں، قبائلی برادری اور دلت طبقے کو پہنچا، تاہم اب ماؤ نواز سرگرمیوں سے وابستہ افراد تشدد چھوڑ رہے ہیں جس سے خطے میں امن واپس آ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند کی فیصلہ کن کارروائی نے خوف اور عدم اعتماد کے ماحول کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صدر نے بتایا کہ بڑی تعداد میں نکسلائٹس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ قومی دھارے میں واپس آنے والوں کو باعزت اور معمول کی زندگی میسر ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں اور عوام کے تعاون سے بستر میں ترقی کی نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔صدر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ نظام پر اعتماد رکھیں اور محنت و لگن سے آگے بڑھیں، جمہوریت کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کے راستے سے ہٹانے والوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔اپنے ذاتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے صدر مرمو نے کہا کہ ایک چھوٹے سے گاؤں (اوڈیشہ) کی بیٹی کا صدر بننا ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اس سے بھی زیادہ ہمت اور طاقت موجود ہے اور حکومت ان کے لیے وقف ہے۔صدر نے کہا کہ حکومت غریبوں، محروم اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے پْرعزم ہے اور ان کی ترقی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے اس تصور کو مسترد کیا کہ چھتیس گڑھ ایک پسماندہ ریاست ہے اور ریاست کی شان و شوکت اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا۔ قبائلی ثقافت کو قیمتی، قدیم اور پائیدار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مساوات اور شمولیت کو سمجھنے کے لیے بستر پانڈم جیسے میلوں کا تجربہ ضروری ہے۔اس موقع پر چھتیس گڑھ کے گورنر رامن ڈیکا، وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔۔