سرینگر//’لیبر اور میٹریل‘ کے تناسب کو برقرار رکھنے کی تاکیدکرتے ہوئے وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج عبدالرحمٰن ویری نے کہاہے کہ مہاتماگاندھی نریگاو دیگر سکیموں کے تحت وہ مقاصد پورے کئے جائیں جن کیلئے ان سکیموں کو شروع کیاگیاہے۔واضح رہے کہ نریگاسکیم کے ضوابط کے مطابق 60فیصد رقومات مزدوری جبکہ 40رقومات میٹریل پر خرچ کی جاتی ہیں۔صوبہ کشمیر کے اے سی ڈیز کے ساتھ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ مہاتماگاندھی نریگا کی عمل آوری میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ کا اہم رول ہے جنہیں بہر صورت عوام کی جائز شکایات کا ازالہ کرناہوگا اور ہر ایک کو اس کا حق ملناچاہئے۔ان کاکہناتھاکہ اے سی ڈی مجموعی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی خدمات انجام دیں اوراپنے اپنے اضلاع میں نگرانی کے عمل کومستحکم بنائیں۔وزیر موصوف نے کہاکہ ضوابط کا خیال رکھ کر تمام کام سرعت سے انجام دیئے جائیں اور اہداف مقرر کرکے انہیں پورا کیاجائے۔ویری نے کہاکہ مہاتماگاندھی نریگا ایک ایسی سکیم ہے جس سے مزدور سے لیکر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تک جڑے ہوئے ہیں اور اس کے ذریعہ ان لوگوں کو روزگار فراہم کیاجائے جو کہیں دوسری جگہ روزگار نہیں کماسکتے۔ان کاکہناتھاکہ دراصل اس سکیم کا مقصد ہی یہی ہے کہ اثاثوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو روزگار فراہم کیاجائے جن کیلئے کمائی کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ وزیرموصوف نے اجرتوں کی ادائیگی کے عمل میں نرمی لانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوناچاہئے اور نہ ہی غریبوں کوبلوں کی ادائیگی کیلئے دفاتر کے باربار چکر لگوانے پر مجبور کیاجائے بلکہ صاف وشفاف طریقے سے ہر کام مقررہ مدت کے اندر نمٹایاجاناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ اے سی ڈی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نچلی سطح پر ملازمین کو جوابدہ بنائیں اور ایسا طریقہ کار اپنایاجائے کہ کسی غریب کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے اور نہ ہی کام رکناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ زراعت ، محکمہ آبپاشی،محکمہ کھیل کود ، محکمہ باغبانی وغیرہ کے ساتھ کانور جنس کے ذریعہ ورمی کمپوزٹ، آبپاشی نہروں،کھیل کود میدانوں جیسے کام کئے جائیں اور ایسے اثاثوں پر خصوصی توجہ دی جن سے عوام کا مجموعی مفاد جڑاہو۔انہوں نے گاو?ں کو آرگینک ولیج کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔پی اے ایم وائی(گرامین)اور سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے تحت ہوئے کاموں کی رقومات کی جلد واگزاری کی ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایس بی ایم کے بنیادی سروے سے باقی رہ جانے والے مستحق کنبوں کو نریگا کے تحت بیت الخلاتعمیر کرکے دیئے جائیں۔وزیر موصوف نے نامکمل کاموں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ہر ایک پنچایت میں پنچایت گھرتعمیر کئے جائیں اور اگر زمین کی عدم دستیابی،اراضی تنازعہ یا کسی دوسری وجہ سے یہ کام التواکاشکار ہیں تو ان کی تفصیل فراہم کی جائے تاکہ یہ معاملہ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں سے اٹھاکر اسے حل کروایاجاسکے۔ویری نے ایک بار پھر افسران کو ہدایت دی کہ وہ عید الفطر سے قبل مزدوروں کی اجرتیں اور نریگا ملازمین کی تنخواہیں واگزار کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔اس موقعہ پر محکمہ کی سیکریٹری شیتل نندا،ڈائریکٹر رورل سینیٹیشن نذیر احمد شیخ ،ڈائریکٹر فائنانس شادی لعل پنڈتا،ڈائریکٹر پلاننگ سید شبیر ،ایڈیشنل سیکریٹری راکیش بڈیال،تمام اضلاع کے اسسٹنٹ کمشنرڈیولپمنٹ و دیگر افسران بھی موجو دتھے۔