عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر/ /کشمیر میں اس سال لہسن کی ریکارڈ پیداوار نے کسانوں اور تاجروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔ بہتر فصل، مناسب قیمتوں اور ملک کے مختلف حصوں سے بڑھتی ہوئی طلب کے باعث لہسن کی کاشت و تجارت وادی کی معیشت میں ایک اہم شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں لہسن کی کاشت کے رقبے میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اس سال بھرپور پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ وادی سے ہزاروں ٹن لہسن ملک کی مختلف منڈیوں، خصوصاً جنوبی ہند کی ریاستوں، کو بھیجا جا رہا ہے جہاں اس کی مانگ کافی زیادہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ فصل کا معیار بھی بہتر ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمتیں بھی حوصلہ افزا ہیں، جس سے انہیں بہتر آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے۔ ان کے مطابق اچھی پیداوار اور مستحکم مارکیٹ نے کسانوں کو مزید رقبے پر لہسن کی کاشت کی ترغیب دی ہے۔تاجروں کے مطابق کشمیر سے بڑی مقدار میں لہسن جنوبی ریاستوں سمیت ملک کے دیگر علاقوں کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے کاروبار میں وسعت آئی ہے اور مزید لوگ اس شعبے سے وابستہ ہو رہے ہیں۔زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ لہسن کی کاشت کسانوں کے لیے ایک منافع بخش متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔ بہتر نقل و حمل، وسیع منڈیوں تک رسائی اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب نے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کسانوں اور تاجروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس صنعت کو مزید فروغ دینے کے لیے ذخیرہ گاہوں، جدید مارکیٹنگ سہولیات، نقل و حمل میں معاونت اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ شعبہ مزید ترقی کرے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مناسب سرکاری سرپرستی اور سہولیات فراہم کی جائیں تو کشمیر کی لہسن صنعت مستقبل میں ایک مضبوط زرعی کاروباری شعبے کے طور پر ابھر سکتی ہے جو نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔