سرینگر// لاک ڈائون کے بیچ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں صارفین کی قوت خرید میں جہاں تنزلی دیکھنے کو مل رہی ہے وہی ناجائز مافع خوروں نے صارفین کا قافیہ حیات تنگ کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا کرفیو کے دوران گراں فروشوں سے 3لاکھ60ہزار سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا اور28کیسوں کا اندراج بھی کیا گیاہے۔ ناجائز منافع خوروں کی طرف سے اشیائے ضروریہ کی نرخوں میں از خود اضافے کا رجحان اور من مرضی کا چلن جاری ہے اور ناجائز منافع خور خریداروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے میں کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ وادی میں کورونا کی دوسری لہر میں اضافے کے پیش نظر29 اپریل سے لاک ڈائون جاری ہے،تاہم ضروری لوازمات اور اشیائے ضروریہ کی دکانوں کو کچھ وقفہ کیلئے دکانیں کھولنے کی بھی اجازت دی جا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کا ناجائز فائدہ اٹھا کر سبزی فروش،شیر فروش،نان فروش ،میوہ فروش،پولٹری و مٹن فروش خریداروں کی جیبیں کاٹنے میں کوئی بھی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔تیل سیاہ فروخت کرنے والے تاجروں نے راتوں رات جہاں تیل سیاہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا،وہی خریداروں کا کہنا ہے کہ قریب2700روپے فی15کلو ڈبہ اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔سبزی فروشوں کا بھی یہی حال ہے،جنہوں نے من مرضی کا چلن جاری رکھا ہے،اور طے شدہ قیمتوں کے بجائے زیادہ داموں پر سبزیاں اور پھل فروخت کر رہے ہیں۔ صارفین نے الزام عائد کیا کہ لاک ڈائون کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکاندار دن کی روشنی میں اپنی مرضی کی قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کو فروخت کرتے ہیں۔ قصابوں اور مرغ فروشوں نے سرکاری نرخ نامے کو بالائے طاق رکھا ہے،اور ایک ایسے وقت میں جب بیشتر محنت کش بے روزگار ہوگئے ہیں اور مشکل سے دو وقت کے کھانے کا انتظام کر رہے ہیں،منافع خوروں نے لوٹ مچا رکھی ہے۔ تجارتی حلقے اور انجمنوں کی جانب سے بار بار اگرچہ تاجروں سے اپیل کی گئی کہ وہ ناجائز منافع خوری سے پرہیز کریں اور لوگوں کو ان مشکل ایام میں رعایت دیں تاہم اس کے باوجود بھی منافع خوروں نے کسی کی نہ سننے کی قسم کھائی ہے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے نائب صدر حاجی نثار نے کہا’’ گزشتہ برس کی ہی طرز پر امسال بھی اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے تاجروں سے بار بار درخواست کی گئی کہ وہ کرونا بیماری کے پیش نظر لاک ڈائون،بے روزگار،کمزور معیشت اور ابتر مالی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر اخلاقی و غیر قانونی طور پر ناجائز منافع خوری ترک کریں اور جہاں ممکن ہو سکے وہاں صارفین کو رعایت بھی دیں‘‘۔ کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے بتایا کہ تاجروں کو از خود بھی یہ بات سمجھنی چاہے کہ گزشتہ3برسوں کے حالات اور لاک ڈائون کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے اور ہر ایک طبقہ متاثر ہوا ہے،اور اس میں ایک دوسرے کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا اپنی ہی ٹانگوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ جات سرکاری نرخ نامہ کی خلاف ورزی کرنے،زائدالمعیا اشیاء فروخت کرنے اور بوسیدہ اشیاء کو فرخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے۔محکمہ شہری رسدات و امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کے دوران محکمہ کے چیکنگ اسکارڈ متحرک رہیں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے3لاکھ64ہزار440روپے جرمانہ وصول کیا گیا جبکہ28 کیس پولیس تھانوں میں درج کئے گئے اور35دکانوں کو سیل بھی کیا گیا۔محکمہ امور صارفین کے انفورسمنٹ ونگ کے سربراہ مشتاق احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نہ صرف لاک ڈ ائون بلکہ باقی ایام میں بھی محکمہ کی انفورسمنٹ ونگ متحرک رہی اور مرتکبین سے12لاکھ41ہزار150روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا،جبکہ مجموعی طور پر42کیسوں کا اندراج کیا گیا،جبکہ مجموعی طور پر144دکانات و تجارتی مراکز کو سربمہر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں قصابوں کی7دکانات کو سیل کیا گیا،جبکہ گراں فروشوں سے11ہزار400روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔