نوشہرہ //دوروز قبل گھر سے لاپتہ ہونے والے ایک ڈرائیور کی سیوٹ لمیڑی سے نعش برآمد ہونے پر اس کے لواحقین نے جموں پونچھ شاہراہ بند کرکے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے نتیجہ میں لگ بھگ ڈھائی گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی ۔ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ رات دھنکار لمیڑی میں ایک نعش پائی گئی جس کی اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیم موقعہ پر پہنچی اور اس نے نعش کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کیلئے نوشہرہ ہسپتال منتقل کیا ۔سیوٹ کے رہنے والا نوجوان رام چندر ولد رمیش چندر نو دسمبر کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوگیاتھا جس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی پولیس تھانہ دھرمسال میں درج کروائی گئی اور آج تیسرے روز اسکی نعش لمیڑی گائوں سے برآمد ہوئی ۔مہلوک منی بس کا ڈرائیور تھا جو پچھلے کچھ روز سے لاپتہ تھا ۔اس دوران نعش ملنے کی اطلاع سنتے ہی نوجوان کے آبائی گائوں کے لوگ قومی شاہراہ پر جمع ہوئے اور انہوں نے صبح گیارہ بجے سے گاڑیوں کی آمدورفت بند کرکے احتجاج شروع کردیا ۔ ان کا یہ احتجاج لگ بھگ تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سچن دیو سنگھ اور ایڈیشنل ایس پی نوشہرہ جی ایل شرما موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے مظاہرین سے بات چیت کرکے انہیں تحقیقات کا یقین دلایا جبکہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا چیک بھی پسماندگان کو دیاگیا۔ اس دوران نوشہرہ ہسپتال میں نعش کا پوسٹ مارٹم کرکے نعش سپرد آتش کردی گئی ۔حکام نے لواحقین کو یقین دلایاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد پولیس کسی کارروائی کی مجاز ہوگی ۔اس ضمن میں پولیس تھانہ دھرمسال میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔ایڈیشنل ایس پی نوشہرہ گردھاری لعل شرما نے بتایاکہ پولیس تھانہ دھرمسال میں اغواکاری اور قتل کا ایک مقدمہ زیر دفعات 302اور364کاکیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ۔