سرینگر// انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا ہے کہ24گھنٹے سے بھی کم وقت میں لاوے پورہ حملے میں بڑی پیش رفت کی گئی اور ملوثیں کی نشاندہی کر کے جنگجوئوں کے دو ساتھیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور جرم میں استعمال کی گئی گاڑی بھی ضبط کی گئی۔ہمہامہ میںسی آر پی ایف کے خصوصی تربیتی مرکز میں لاوے پورہ حملے میں مہلوک اہلکاروں سب انسپکٹر جی ڈی منگا رام دیوبرمن اورر کانسٹیبل ڈرائیور اشوک کمار کی نعشوں پر گلباری کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہاکہ سرینگر پولیس اور بانڈی پورہ پولیس نے حملے کے فورا بعد انتھک محنت کی اور لاو ے پورہ حملے میں حصہ لینے والے 3 افراد کی شناخت کی۔انہوں نے کہا ’’ دو بالائے زمین کارکنوںکی مظفر احمد میر اور جاوید احمد شیخ نے لشکر کے ایک جنگجوندیم ابرار بٹ عرف ابو برار ، جو نارہ بل ، بڈگام کا رہائشی ہے ، کو عملی مدد فراہم کی۔ ‘‘ آئی جی پی نے بتایا کہ اطلاعات پر کام کرتے ہوئے پولیس نے جاوید شیخ کو پہلے گرفتار کیااور وہ ماروتی کار زیر نمبر HR10Q/6583 بھی ضبط کی ،جو حملے کے دوران استعمال کی گئی تھی۔ گاڑی سے کچھ خالی کارتوس بھی بر آمد ہوئے ۔۔ان کا کہنا تھا کہ پوچھ گچھ کے بعد ، پولیس نے مظفر کو بھی گرفتار کرلیا،جبکہ دو ٹھکانوں پر چھاپے ڈالے گئے ، لیکن لشکر طیبہ جنگجو ندیم اور دو غیر ملکی عسکریت پسند،مظفر اور جاوید کی گرفتاری کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد فرار ہوگئے ۔آئی جی پی نے بتایاکہ گرفتار دونوں بالائے زمین کارکنوںنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں نے 24 مارچ کو علاقے کا جائزہ لیا تھا جس کے بعد انہوں نے جمعرات کی سہ پہر ہدف کا انتخاب کیا۔یہ پوچھے جانے پر کہ آیا واقعہ سے کوئی ہتھیار غائب ہے ، آئی جی پی نے کہا ہاں ، ایک ہتھیار غائب ہے۔سرینگر اور اس کے مضافات میں جنگجوئوںں کے حملوں میں اضافے کے بارے میں پوچھے جانے پر ، کشمیر پولیس چیف نے کہا کہ شہر کے مضافات میں سرینگر جموں شاہراہ پر جنگجوئوں کی نقل و حرکت جاری ہے کیونکہ وہ سرینگر کو کشمیر کے باقی اضلاع سے جوڑتا ہے۔ آئی جی پی نے کہا ’’ہم دیکھیں گے کہ آیا اس میں کوئی کمی ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کمیوں کو پورا کریں‘‘۔سرینگر اور مضافاتی علاقوں میں بینک ڈکیتی کے واقعات میں اضافے کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ پچھلے 12 دنوں میں تین واقعات رونما ہوئے ہیں اور ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے،جبکہ مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہم جلد ہی پریس کے ساتھ تفصیلات کا تبادلہ کریں گے۔ 28 جون سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا پر لاؤے پورہ جیسے حملے کے سائے پڑنے کے بارے میں ، وجے کمار نے کہا کہ یاترا شروع ہونے سے پہلے کل کے حملے میں ملوث افراد کو ہلاک کردیا جائے گا۔اس موقع پر آئی جی، سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر مس چارو سنہا نے لاوے پورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا’’اس طرح کے واقعات اپنی ہی پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ، اور یہ ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’ میں نے اسے کشمیری عوام پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ امن ، ہم آہنگی اور تشدد کے درمیان انتخاب کریں۔‘‘
لنگیٹ، کنزر اور پلوامہ میں تلاشیاں
ہندوارہ /اشرف چراغ/سیکورٹی فورسز نے پلوامہ اور لنگیٹ میں جنگجو مخالف آپریشنز کے دوران تلاشیاں لیں۔50آر آر اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے غوثیہ وقف سکول کاکہ پورہ کے علاوہ لون محلہ کی اردگرد بستی میں تلاشی کارروائی انجام دی، جس دوران سیکورٹی فورسزنے ایک شل برآمد کیا ۔ تاہم اس سلسلے میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ روشن گولہ تھا، جسے بر آمد کیا گیا۔ادھر یارو لنگیٹ ہندوارہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر محاصرہ کیا گیا اور بعد میں تلاشیاں لیں گئیں۔تاہم کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ادھرایس او جی کنزر اور 176بٹالین سی آر پی ایف نے بونہ گام کنزر کے ڈار محلہ کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی لی۔ فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ محلے میں ملی ٹنٹ چھپے ہیں۔ تاہم کچھ ہاتھ نہ آنے پر محاصرہ ختم کیا گیا ۔