یادِ ماضی
شفیع نقیب
پرانا سری نگر صرف اینٹوں، دکانوں، پلوں، بازاروں اور عمارتوں کا نام نہیں تھا۔ وہ ایک کیفیت تھی، ایک تہذیب تھی، ایک دھڑکتا ہوا احساس تھا۔ اُس زمانے کا لال چوک صرف سیاسی نعروں یا تجارتی رونقوں کی پہچان نہیں رکھتا تھا بلکہ وہاں زندگی اپنے پورے رنگ، شور، خواب اور دیوانگی کے ساتھ چلتی تھی۔ پلیڈیم سینما کے باہر فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر، ریگل کے اطراف نوجوانوں کی چہل پہل، فلموں کی ٹکٹ بلیک میں فروخت کرنے والوں کی عجیب پکار۔مشہور ٹکٹ بلیکرس جن میں اسمال،نذیر ڈان ،نذیر چکن ،مرحوم مغل ،نندہ اور صئیبہ پُج کے نام زبان زد عام تھے۔پلیڈم میں ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ایک بہت ہی تنگ اور گلی نماء آہنی سلاخوں سے گزرنا کسی عظیم معرکہ کو سرکرنے سے کچھ کم نہ تھا۔اسمال نامی بلیکر کی ان ڈائیہ،ان ڈائیہ کی مسلسل پکار،سموسے ،پوری،مسالہ اور مٹر پراٹھے بیچنے والوں کی ہانک ۔بس اڈوں پر مسافروں کا شور اور انہی ہجوموں کے بیچ کچھ ایسے کردار بھی ہوا کرتے تھے جو رفتہ رفتہ شہر کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئے۔
انہی کرداروں میں ایک عجیب و غریب مگر انتہائی دلچسپ شخصیت بھی تھی، جسے کچھ لوگ’’سری نگر کا محمد رفیع‘‘ کہتے تھے، کچھ ’’مجنون ‘‘اور بعض لوگ محض ’’موٗت‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ آج شاید نئی نسل کو اُس شخص کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو، مگر جنہوں نے ستر اور اسی کی دہائیوں کا لال چوک دیکھا ہے، اُن کی یادوں میں اُس بکھرے بالوں والے نوجوان کی آواز آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔وہ اکثر پلیڈیم سینما کے آس پاس، کبھی KMD بس اسٹینڈ کے نزدیک اور کبھی لال چوک کے ہجوم میں اچانک نمودار ہوجاتا تھا۔ اُس کے بال ہمیشہ بکھرے ہوتے، لباس بے ترتیب، ہاتھ میں سگریٹ اور چہرے پر ایک عجیب سی ویرانی۔ وہ مسلسل سگریٹ کے کش لگاتا رہتا، جیسے دھواں اُس کے اندر کے کسی دکھ کو باہر نکالنے کی ناکام کوشش کررہا ہو۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جونہی وہ گانا شروع کرتا، آس پاس کا شور جیسے تھم جاتا تھا۔
اُس زمانے میں دلیپ کمار کا جادو پورے برصغیر پر چھایا ہوا تھا۔ محمد رفیع کی آواز دلوں پر حکومت کرتی تھی۔ فلمی گانے صرف تفریح نہیں تھے بلکہ لوگوں کے جذبات، محبتوں، تنہائیوں اور خوابوں کی زبان بن چکے تھے۔ کشمیر کے نوجوان بھی انہی نغموں میں اپنی دنیا تلاش کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ جب وہ مجنون نما نوجوان رفیع کے درد بھرے گیت گاتا، تو لوگ بے اختیار اُس کے گرد جمع ہوجاتے۔ہم جیسے اُس وقت کے کئی اسکولی لڑکے بھی اُس کے سحر سے بچ نہیں پاتے تھے۔ یاد آتا ہے کہ کبھی کبھی ہم اپنا سکول بیگ کسی جاننے والے کی دکان پر چھپا دیتے یا کسی دوست کے حوالے کرکے خاموشی سے لال چوک پہنچ جاتے۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ شاید آج وہ ’’دیوانہ گلوکار‘‘ مل جائے۔ اور جب واقعی وہ کہیں نظر آجاتا تو ہم بھیڑ میں خاموش کھڑے ہوکر اُسے سنتے رہتے۔
آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت ہم صرف ایک گلوکار نہیں سن رہے تھے، بلکہ ہم ایک شہر کی روح کو سن رہے تھے۔وہ اکثر دلیپ کمار کی فلموں کے اُداس گیت گاتا تھا۔ اُس کی آواز میں ایک عجیب درد ہوتا تھا، جیسے وہ صرف گانا نہیں گا رہا بلکہ اپنی پوری زندگی سنا رہا ہو۔ اُس زمانے کے لوگ کہتے ہیں کہ اُس کی آواز حیرت انگیز حد تک محمد رفیع سے ملتی تھی۔ شاید اسی لئے اُسے ’’سری نگر کا محمد رفیع‘‘ کہا جانے لگا۔مگر اُس کی اصل کہانی کیا تھی؟یہ سوال آج بھی ایک معمہ ہے۔کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ عشق میں ناکام ہوا تھا۔ بعض کہتے تھے کہ ذہنی صدموں نے اُسے دنیا سے کاٹ دیا تھا۔ کچھ لوگوں کے مطابق وہ کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا مگر حالات نے اُسے سڑکوں تک پہنچادیا۔ مگر حقیقت شاید اب کبھی معلوم نہ ہوسکے، کیونکہ اُس دور کے ایسے کردار تاریخ کی کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتے۔ وہ صرف لوگوں کی یادداشتوں میں زندہ رہتے ہیں اور جب وہ نسلیں رخصت ہوجاتی ہیں تو یہ کردار بھی دھند میں گم ہوجاتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کے لئے شاید یہ سب عجیب ہو۔ آج ہر چیز موبائل کیمرے میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ ہر آواز ریکارڈ ہوجاتی ہے۔ ہر چہرہ سوشل میڈیا پر موجود ہوتا ہے۔ مگر اُس زمانے میں زندگی زیادہ حقیقی تھی، مگر زیادہ بے رحم بھی۔ بہت سے لوگ جیتے جی داستان بن گئے مگر اُن کا کوئی ریکارڈ محفوظ نہ ہوسکا۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اُس مجنون گلوکار کی کہانی دراصل صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ پورے پرانے کشمیر کی کہانی ہے۔ ایک ایسا کشمیر جہاں جذبات ابھی زندہ تھے، جہاں لوگ کسی اجنبی کی آواز سننے کے لئے رک جاتے تھے، جہاں فنکار صرف اسٹیجوں پر نہیں بلکہ سڑکوں پر بھی پیدا ہوتے تھے۔
لال چوک اُس وقت صرف سیاست کا مرکز نہیں تھا بلکہ ثقافت، موسیقی، خوابوں اور نوجوانی کا استعارہ بھی تھا۔ پلیڈیم سینما کے باہر فلم دیکھنے والوں کی قطاریں، چائے خانوں میں فلمی گانوں پر بحث اور انہی سب کے درمیان وہ نوجوان، جو شاید دنیا کی نظروں میں پاگل تھا مگر اپنے اندر ایک پوری کائنات رکھتا تھا۔
وقت بدل گیا۔پلیڈیم سینما کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ پرانے چہرے غائب ہوگئے۔ وہ ہجوم بھی نہیں رہے جو کسی گمنام گلوکار کے گرد جمع ہوجاتے تھے۔ اب لوگ جلدی میں ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس رک کر سننے کا وقت نہیں۔ شاید اسی لئے اب ایسے’’مجنون‘‘ بھی پیدا نہیں ہوتے۔مگر پرانی نسل کے دلوں میں وہ کردار آج بھی زندہ ہیں۔ جب کبھی لال چوک کا ذکر آتا ہے، پرانے سینما گھروں ،جن میں ریگل ،نیلم، فردوس،شیراز،صمد ٹاکیز ،براڈوے کی بات ہوتی ہے، یا محمد رفیع کا کوئی درد بھرا گیت کہیں سنائی دیتا ہے، تو ذہن کے کسی کونے سے وہ بکھرے بالوں والا نوجوان پھر اُبھر آتا ہے۔ ہاتھ میں سگریٹ، آنکھوں میں اُداسی اور لبوں پر کوئی اُداس نغمہ۔شاید وہ واقعی پاگل نہیں تھا۔شاید وہ صرف اپنے زمانے سے زیادہ حساس انسان تھااور حساس لوگ اکثر اس دنیا میں 93۔مجنون۔94ہی کہلاتے ہیں۔میں آج محسوس کررہا ہوں کہ ہم اپنے شہروں کی ایسی گمشدہ یادوں کو محفوظ کریں۔ کیونکہ تاریخ صرف حکمرانوں، جنگوں اور سیاستدانوں کی نہیں ہوتی۔ اصل تاریخ وہ ہوتی ہے جو گلیوں، بازاروں، سینما گھروں، چائے خانوں اور عام انسانوں کی یادوں میں سانس لیتی ہے۔
ہوسکتا ہے اس کالم کو پڑھنے کے بعد کوئی بزرگ اُس شخص کا اصل نام یاد کرلے۔ ہوسکتا ہے کسی کے پاس اُس کی تصویر موجود ہو۔ ہوسکتا ہے کسی کو اُس کی پوری کہانی معلوم ہوتاکہ ایک بار پھر ہم سری نگر کی ایک کھوئی ہوئی روح کو دوبارہ لفظوں میں زندہ کرسکیں۔کیونکہ بعض لوگ مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے ۔وہ شہروں کی یادداشت بن جاتے ہیں۔
(رابطہ۔ 9622555263)