قاضی طس رمضان حرا
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق سے متعلق منصوبے کو فرشتوں کے سامنے رکھا تو فرشتوں پر انسان کی برتری کو علم سے واضح کیا ۔ اور فرمایا’’ اس نے آدم کو تمام کل الاسماء سکھائے‘‘ ۔وہ تعلیم اسماء کیا تھی ؟ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ آیا وہ اسماء العلوم کی تعلیم تھی ، اسماء الاشیاء ،اسماء اللغات، علم رنگ و بو میں موجود حقائق سے متعلق معلومات تھی یا کہ اسماء الصالحین و صالحات کی تعلیم تھی۔غرض انسان کی برتری کو ثابت جس چیز سے کیا گیا، وہ علم و آگہی تھی ۔علم وہ زینہ ہے جس سے انسان ایسی بلندیوں کو سر کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے جو کسی اور شئے سے ممکن نہیں۔علم ہے کس چیز کا نام ؟ اگر مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو بقول مولانا وحید الدین خان مرحوم’’ Realisation of truth‘‘ یعنی سچائی تک رسائی حاصل کرنا۔اور کائنات کی سب سے بڑا ٹروتھ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت ہے‘‘۔اگر ایک انسان علم سے اس حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہا تو علامہ الدہر ہو کر بھی نرا جاہل ہے ۔امام مودودی رحمہ اللہ سورہ الفاطر کی ایک آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’ یعنی جو شخص اللہ کی صفات سے جتنا زیادہ ناواقف ہو گا، وہ اس سے اتنا ہی بے خوف ہو گا اور اس کے برعکس جس شخص کو اللہ کی قدرت ، اس کے علم ، اس کی حکمت ، اس کی قہاری اور جباری ، اس کی دوسری صفات کی جتنی معرفت حاصل ہو گی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے خوف کھائے گا ۔ پس درحقیقت اس آیت میں عہم سے مراد فلسفہ و سائنس اور تاریخ و ریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہیں بلکہ صفات الٰہی کا علم ہے ، قطع نظر اس سے کہ آدمی خواندہ ہو یا ناخواندہ ۔ جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ علامہ دہر بھی ہو تو اس علم کے لحاظ سے جاہل محض ہے ۔ اور جو شخص خدا کی صفات کو جانتا ہے اور اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا ہے، وہ اَن پڑھ بھی ہو تو ذی علم ہے ۔ اسی سلسلے میں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ اس آیت میں لفظ ’’ علماء ‘‘ سے وہ اصطلاحی علماء بھی مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہے جاتے ہیں ۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں ہوں گے جبکہ ان کے اندر خدا ترسی موجود ہو ۔ یہی بات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمائی ہے کہ’’لیس العلم عن کثرۃ الحدیث ولکن العلم عن کثرۃ الخشیۃ‘‘ ۔’’ علم کثرت حدیث کی بنا پر نہیں ہے بلکہ خوف خدا کی کثرت کے لحاظ سے ہے ۔‘‘ اور یہی بات حضرت حسن بصری ؒ نے فرمائی ہے کہ ’’العالم من خشی الرحمن بالغیب و رغب فیما رغب اللہ فیہ و زھد فیما سخط اللہ فیہ‘‘۔’’ عالم وہ ہے جو اللہ سے بے دیکھے ڈرے ، جو کچھ اللہ کو پسند ہے اس کی طرف وہ راغب ہو ، اور جس چیز سے اللہ ناراض ہے اس سے وہ کوئی دلچسپی نہ رکھے ‘‘۔(سورة فَاطِر۔حاشیہ نمبر :49)
جس تعلیم و فکر سے انسان پندرہ بیس سال بعد زیادہ سے زیادہ بندۂ نفس ہی بن پائے ،اسے تعلیم نہ کہیے بلکہ جہالت کہیے۔تعلیم اگر ایک انسان کو صرف پیٹ سے لیکر بیت الخلا تک کا سفر کرائے تو انسان سے بڑھ کر یہ کام درندے اور جانور بخوبی انجام دیتے ہیں۔ اگر ایک انسان ساری جد و جہد پیٹ کے لئے کر رہا ہے تو کیا چوپائے اور دیگر مخلوقات بھی ساری زندگی پیٹ کے پیش نظر نہیں گزارتے ہیں۔ایک کتا آپ کو گلی کوچوں میں گردش کرتا نظر آئے گا ۔کبھی ایک نکڑ پر تو کبھی چوراہے پر،کبھی وہ رال ٹپکاتے دوڑتا ہوا آئے گا ، کبھی ہانکتے ہوئے دوڑ پڑتا ہے۔ آخر وہ کس غرض سے گلی بہ گلی ،صحن بہ صحن اور کوچہ بہ کوچہ گردش میں ہوتا ہے؟ کوئی سرکاری سروے میں اتنی دوڑ دھوپ نہیں کرتا ہے بلکہ نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر جانور یہ سب کچھ کرتے ہیں۔
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اور دیگر مخلوقات میں مادی اور بدنی سطح سے بلند ہو کر ایک خط امتیاز ہے ،ایک پہچان ہے ۔ جس سے انسان انسان ہے ۔ اور وہ عظیم وصف معرفت رب اور اطاعت رب العالمین ہے ۔اسی بلند مقام کو پانے کے لیے مختلف راستے ہیں جو انسان کو وہاں تک پہنچنے کے لئے نشان راہ دکھاتے ہیں۔
وہ نقوش منزل الہامی ، تکوینی ، آفاقی یا کہ آیات انفس ہوں ۔ سب کا مدعا ایک ہی ہے اور وہ تبیین حق ہے۔ تعلیم و تعلم بھی اسی مقصد تک پہنچنے کا زینہ ہے اور مؤثر ترین طریقہ ہے۔
تعلیم کے بہت دور رس نتائج ہوتے ہیں۔تعلیم کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی دہائیوں پر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہوتی ہیں ۔ تعلیم قوموں کی تہذیب و ثقافت بدلتی ہے،تعلیم اقدار بدلتی ہے اور تعلیم افکار سے بڑھ کر اعتقادات تک کو بدل دیتی ہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی تعلیم ہو۔تعلیم کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی فکر اور سوچ کو اگر کسی طاقت سے بدلا جاسکتا ہے تو وہ تعلیم ہی ہے۔تعلیم کی نگرانی میں آنے والی تبدیلی کو علمی قوت سے ہی روکنا ممکن ہے۔
دنیا میں آج تک جو بھی قوم علوم و فنون کی بنیاد پر اٹھی ہے۔ اس کی فکر اور تہذیب بھی اسی طرح دنیا میں مؤثر رہی ہے جس طرح ان کی تحقیقات اور انکا علم و فن مؤثر رہا ہے۔
امت مسلمہ بھی جب تک علم اور فن کے میدان میں امامت کرتی رہی تب تک دنیا جس فکر کو تیزی کے ساتھ تسلیم کرتی تھی اور جو فکر و تہذیب سرعت کے ساتھ پھیل رہی تھی ،وہ اسلام کی فکر و تہذیب تھی ۔ جو قوم اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی نشو و نما کو صرف قوت کی بنیاد پر قائم رکھنا چاہتی ہو، اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ ان کی اس شیش محل کی بنیاد کھوکھلی پگڈنڈی پر ہوتی ہے جو کبھی بھی سیلان کے ساتھ ہی بکھر کر چور ہو سکتا ہے۔ قوت کی بنیاد پر قائم ہونے والی اقوام کی تہذیب و شناخت بہت کم وقت میں دم توڑ دیتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں جو انقلاب دنیا نے دیکھا، اس میں علم و فن کو عروج پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ اسلام جس علمی قوت اور بلند کردار کے ساتھ ابھرا ،اس کی مثال پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ۔
دنیا میں ہمیشہ وہی قوم منصب امامت پر رہی ہے جو علم کے میدان میں اپنا لوہا منوا چکی ہو ۔ اور اسی کو سیاسی اور سماجی بلکہ فکری تمکن حاصل ہو جاتا ہے۔ امام ابن خلدون مقدمہ ابن خلدون میں لکھتے ۔’’ غالب قوم ہمیشہ مغلوب قوم کی تہذیب و تمدن کو ختم کر دیتی ہے ۔‘‘
اس مؤثر قوت کے مقابلے میں نہ ہی نری جہالت کوئی حل ہے ، نہ اس الزامات کی بوچھاڑ سے اس کے زور کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی خالی کھولی جذبات اس پر کوئی اثر ڈال سکتے ہیں۔اس سب سے بڑھ کر اگر کوئی چیر ہمیں کھوکھلا کر سکتی ہے اور حقیقت سے دور کر سکتی ہے، وہ جذباتیت ہے ۔اس کے سہارے ہم صدیوں جی تو سکتے ہیں لیکن ایک ملت اور اُمت بن کر اس کے سہارے ابھرنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لئے لازماً ہمیں ہر ایک علم و فن کو خالق کائینات سے جوڑنا ہے۔
اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ سب سے زیادہ اہل علم کے شانوں پر ہی پڑ جاتا ہے ۔چاہے وہ الہامی علم کے حاملین ہوں یا تکوینی علوم یا تکوینی تعامل کے نتیجے میں وجود میں آنے والے علوم و فنون کے ماہرین ہوں ۔
(ہامرے بارہمولہ،رابطہ۔ 7889396236)
<[email protected]
�����������������