قربانی

عید قربان کی آمد آمد تھی،بازار میں کافی گہما گہمی تھی اور لوگ باگ عید کی خریداریوں میں مصروف تھے جب کہ قربانی کی جانوروں کی اونچے داموں خرید فروخت بھی عروج پر تھی ۔ احسان چودھری جو روزے سے تھا، عصر کی نماز ادا کرکے گھر آیا تواس کی گھر والی پھٹ سے بول پڑی۔ 
’’اجی سنتے ہو، عید میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیںاور آپ نے ابھی تک قربانی کے لئے کوئی جانور نہیںلایا‘‘۔ 
’’یہ کونسی بڑی بات ہے ،میں کل ہی جاکے قربانی کے لئے جانور خرید لائوں گا‘‘۔  
اس نے مسکرا تے ہوئے مختصر سا جواب دیا اور دنیا ئے مافیا سے بے خبر تلاوت قران پاک میں مصروف ہوگیاَ۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی ،اسنے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے فوزیہ کھڑی تھی،جسے دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔
رسمی علیک سلیک کے بعد وہ اندر داخل ہو گئے ۔
’’ فوزیہ بیٹی ۔۔۔۔۔۔ آج کیسے ادھر کاراستہ بھول گئی‘‘ ۔
اسی لمحے احسان کی گھر والی نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہاجس کے ساتھ ہی فوزیہ کے آنکھوں سے آنسئوں کی دھار نکل پڑی ۔
’’کیا بات ہے بٹیا ۔۔۔۔۔۔گھر میں سب ٹھیک تو ہے نا بھابی جان ٹھیک تو ہے ؟‘‘ 
اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا تو فوزیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ تو پھر کیا بات ہے ؟‘‘
احسان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
’’انکل ۔۔۔۔۔۔ شہر سے الیاس انکل نے خطرناک پیغام بھیجا ہے جس پر اگر اس نے اگر عمل کیا تو پتا نہیں کتنا خون بہے گا‘‘ ۔
فوزیہ نے نم آنکھوں سے کہنا شروع کیا ۔
دراصل چودھری خاندان میں کئی سالوں سے اراضی کا تنازعہ چل رہا تھا اور آج الیاس چودھری نے پیغام بھیجا تھا کہ اتوار کو وہ آکر اپنے بھائی اعجاز چودھری سے زبر دستی اپنے حصے کی زمین چھین لے گا ۔اس تنازعے کے سبب اعجاز کی بیٹی فوزیہ ،جو الیاس کی بہو تھی ،کی زندگی اجیرن بن چکی تھی اور وہ دو برسوں سے بچوں سمیت میکے میں پڑی تھی۔
’’غم نہ کرو بیٹی ،اللہ خیر کرے گا انشاء اللہ،یہ بتاو کہ اعجاز اس وقت کہاں ہے ؟‘‘
احسان نے فوزیہ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھا ۔  
’’انکل ۔۔۔۔۔۔ پا پا جانی بہت غصے میں تھے ،وہ فارم ہاوس میں قربانی کے لئے جانور دیکھنے گئے ہیں۔خدا کے لئے کچھ کرو انکل ورنہ عید کے اس مقدس تہوار پر نہ جانے کیا ہوگا؟‘‘
فوزیہ سے سارے معاملے کی تفصیلات جاننے کے بعد احسان کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ،فکر مندی اور پریشانی کے عالم میں کچھ دیرتک سوچوں میں گم رہنے کے بعد وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد شریف کی طرف نکلا توکئی دوستوں نے اسے بتایا کہ گائوں کے لوگ اس مسئلے پر طرح طرح کی چمیگوئیاں کر رہے ہیںجس کے سبب اس کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ۔  
چودھری اکرام الدین گائوں کا بڑازمیندار اور نہایت ہی عزت والا انسان تھا ۔جس کے پاس سینکڑوں کنال اراضی کے علاوہ کئی میوہ باغات بھی تھے جب کہ شہر میں بھی کئی ایکڑ زمین اور فیکٹریاں تھیں ۔چودھری کے تین بیٹے تھے جو ایک ہی حویلی میں خوشی خوشی رہ رہے تھے ،یہاں تک کہ باپ کی خواہش کے مطابق اس کے بیٹے الیاس چودھری نے اپنے بیٹے کی شادی اپنے بھائی اعجاز چودھری کی بیٹی سے انجام دی لیکن چودھری کے انتقال کے کچھ مہینوں بعد ہی نہ جانے کس کی نظر بد لگی کہ ان میں ان بن ہونا شروع ہوگئی ،خلوص نا پید ہوگیا اور محبت اور اپنائیت کے درمیان خود غرضی کی دیواریں حائیل ہوگئیں ۔جس کے نتیجے میں اس خاندان کا بٹوارہ عمل میں آیا ۔جائیداد کی تقسیم کے دوران چودھری کے دو بیٹوں اعجاز چو دھری اور الیاس چودھری کے درمیان تنازع شروع ہوگیا اور کافی لے دے ہوئی، یہاں تک کہ بات کورٹ کچہری تک بھی پہنچ گئی ۔اس دوران ان کا تیسرا بھائی احسان چودھری اس تنازعے سے دور ہی رہا اور ان دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کرتا رہا لیکن بات نہیں بنی۔جب تعلقات حد سے زیادہ خراب ہوگئے تو الیاس نے اپنے لئے نئی حویلی تعمیر کی اور اپنے اہل و عیال سمیت وہیں جا کر رہنے لگا۔کچھ عرصہ بعد ہی اعجاز اور احسان کے درمیان بھی ان بن ہوگئی اور احسان نے بھی ایک چھوٹاسا مکان تعمیر کیا اور حویلی چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں اور ماں کو لے کر وہی جا کر رہنے لگا۔بات یہی پر ختم نہیں ہوئی بلکہ کچھ عرصہ بعد جب الیاس شہر میں ایک عالی شان بنگلہ خریدکر وہیں جاکررہائش پزیر ہوگیا تو اعجاز نے اس کے ایک ایکڑ پر مشتمل میوہ باغ پر یہ کہہ کر قبضہ جمایا کہ اس نے شہر میں چل رہے کار خانوں کی آمدنی میں لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کیا ہے ۔اس طرح ان کے تعلقات دن بہ دن کشیدہ ہوتے گئے اور یہ دونوں نہ صرف ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے بلکہ فوزیہ ،جو دو بچوں کی ماں بن چکی تھی، کا رشتہ بھی خطرے میں پڑ گیابلکہ کئی بار طلاق تک بھی نوبت پہنچی لیکن احسان کی کوششوں سے ہی ابھی تک یہ رشتہ بنا ہوا تھا ۔چودھری خاندان کے دوستوں اور گائوں کے معززین نے بھی معاملہ سلجھانے کی کافی کوششیں کیں لیکن بے سود ،جب کہ احسان ،جو اپنے بھائیوں کے اس تنازعے سے کافی پریشان تھا، نے بھی کافی ہاتھ پیر مارے لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ حالانکہ جائیداد کے معاملے میں اس کے ساتھ بے حد نا انصافی ہوئی تھی، یہاں تک کہ اسے حویلی بھی چھوڑنا پڑی اور باقی جائیداد میں سے بھی پورا حصہ نہیں ملا لیکن وہ صبر اور شکر کے ساتھ اطمینان سے زندگی گزارتا رہا ۔
نماز ادا کرنے کے بعد احسان سیدھے اعجاز کی حویلی پر پہنچ گیا جہاں اعجاز اپنے کچھ دوستوں اور وفادار نوکروں سے اسی معاملے پر صلاح مشورے میں مشغول تھا ۔گھنٹے بھر کے بعد جب وہ فارغ ہوا تو احسان نے اسے بڑی عاجزی کے انداز میں کہا ۔
’’اعجاز ۔۔۔۔۔۔ بھائی جان سے کوئی سمجھوتہ کرلے ،آخر وہ ہمارا بڑا بھائی ہے‘‘ ۔
’’ہرگز نہیں ،میں اس کمینے کو سبق سکھائوں گااور ایک انچ زمین بھی نہیں دونگا‘‘ ۔
’’مگر کیوں ؟‘‘
’’کیوں کہ اس نے شہر میں ہماری زمین ہڑپ لی ہے‘‘ ۔
’’کون سی زمین ؟سب کو برابر حصہ ملا ہے‘‘ ۔
’’بائی پاس والی دس کنال زمین ہم سب کی ہے‘‘ ۔
’’کیسی باتیں کرتے ہو،وہ زمین تو بھائی جان نے بٹوارے کے بعدخریدی ہے‘‘ ۔
’’ تو تُو بھی اس کمینے سے ملا ہوا ہے ،دفاں ہوجائو میرے گھر سے‘‘ ۔
اعجاز نے آگ بگولہ ہو کر احسان کی بے عزتی کرتے ہوئے کہا ۔
’’اچھا تو پھر ایسا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’بولا نا دفاں ہوجائو یہاں سے‘‘ ۔
اعجاز نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
’’غصہ کیوں کرتے ہو ،میری پوری بات تو سنو‘‘ ۔
احسان نے عاجزی کرتے ہوئے بولا ۔
’’مجھے کچھ نہیں سننا ہے ،چلے جاو یہاں سے‘‘ ۔
اعجاز نے گرجدار آواز میں کہا ۔                  
اعجاز،جو مُنہ زور قسم کا گھمنڈی انسان تھا، اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوا اور احسان مایوس ہو کر گھر چلا گیا ۔یہ بات اب اچھی طرح سے اس کے دل میں گھر کر گئی کہ اس کے دونوں بھائی زمین کے تنازعے کے سبب کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور خون خرابے اور بدنامی کے علاوہ فوزیہ کی جوانی اور اس کے معصوم بچوں کی زندگی بھی برباد ہو کر رہ جائے گی۔ سخت پریشانی کے سبب وہ رات کو ایک پل کے لئے بھی نہیں سو سکا اور اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے ترکیبوں پر غور کرتا رہا ۔صبح اٹھ کر اپنی ماں اوربیگم سے صلاح مشورہ کرکے کہیں باہر چلا گیا اور بعد دوپہر جب واپس آیا تو اس کے چہرے پر پریشانی کی جگہ سکون کی طمانیت تھی ۔شام کو پہلے اس نے فون پرماں کی اعجاز سے بات کروائی پھر فون کرکے الیاس کو اس بات کے لئے راضی کر لیا کہ آپ دونوں کل میرے گھر میں بیٹھ کر بات کریں گے تاکہ مسئلے کا کوئی قابل قبول حل نکل سکے اور خاندان مزیدبد نامی سے بچے ۔
دوسرے دن صبح صبح ہی اعجاز نے اپنے حواریوں کو لاٹھیوں اور درانتیوں سے لیس کرکے متنازع میوہ باغ کے ارد گرد بٹھادیا اور خود دل و دماغ میں تکبر کے پہاڑ لئے احسان کے گھر پہنچ گیا ،جب کہ الیاس بھی بیسوں غنڈ وں کے ساتھ شہر سے آگیا اور سیدھے اپنے فارم ہاوس میں جاکر قربانی کے لئے جانور پسند کر نے گیااور واپس آکرمونچھوں کو تائو دیتے ہوئے احسان کے گھر پہنچ گیا ۔چودھری خاندان کے کچھ نزدیکی دوست اور گائوں کے کچھ معززین بھی احسان کے گھر پہنچے جہاں احسان نے عمدہ ضیافتوں کااہتمام کیا تھا ۔
’’جب تک مجھے اپنی زمین واپس نہیں مل جاتی میں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پیوں گا‘‘ ۔
الیاس نے کچھ بھی کھانے پینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ۔
’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔ یہ خیا دل سے نکال دیں۔ میں تمہیں زمین کی ایک انچ بھی نہیں دونگا چاھیے خون کی ندیاں کیوں نہ بہہ جائیں ‘‘۔
اعجاز نے اسے للکارتے ہوئے کہا ،جس کے بعد دونوں بھائیوں کے بیچ کافی گرما گرمی ہو گئی ۔
’’ دیکھئے اگر آپ اس طرح اپنی اپنی زد پر اڑے رہے تو مسئلہ کیسے حل ہو گا آپ ایک عزت دار باپ کی اولادیں ہیںاور آپ کے پاس بہت سی زمینیں بھی ہیں اور زمین کے ایک ٹکڑے کے لئے لڑنا ٹھیک نہیں ہے‘‘ ۔
وہاں موجود گائوں کے ایک معزز شخص نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔
’’ زمین کی پرواہ کس کو ہے حاجی صاحب ،یہ میرے عزت اور وقار کا معاملہ ہے‘‘ ۔
یہ الیاس کی آواز تھی ۔
’’ اگر یہ آپ کے وقار کامعاملہ ہے تو میں بھی آپ کا بھائی ہوں ،دیکھتے ہیں آپ کیسے زمین لیتے ہیں‘‘۔
اعجاز نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ۔
’’تو چلئے پھر قضیہ زمین بر سر زمین کے مصد اق وہاں ہی فیصلہ کریں گے ‘‘۔
الیاس گرجتے ہوئے اٹھ کر جانے لگا ۔
’’بھائی صاحب آپ اطمیناں سے بیٹھیں ،لڑائی ،جھگڑے اور خون خرابے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔آپ کو اپنی زمین ملے گی اور اعجاز کا بھی کچھ نہیں جائے گا‘‘ ۔ 
دونوں بھائیوں کی انا کے بے لگام گھوڑے جب سر چڑھ کر ڈوڑنے لگے تو احسان ،جو اب تک خاموش بیٹھا تھا ،نے اٹھ کر الیاس کو نیچے بٹھاتے ہوئے کہا ۔
’’ احسان ۔۔۔۔۔۔ تم ہمیں دھوکہ دے رہے ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟‘‘
اعجاز نے احسان کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’ایسا ہی ہوگا ،آپ لوگ مجھ پر بھروسہ رکھیں اور کھانا تناول فرمائیں‘‘۔
احسان نے بڑے ہی پر اعتماد لہجے میں کہا ۔
’’ ہم کھانا ضرور کھائیں گے ،لیکن اگر آپ کے پاس اس مسلئے کا کوئی حل ہے تو پہلے بتائو‘‘۔
’’میرے پاس اس مسلئے کا ایک ہی حل ہے کہ میرے چھوٹے بھائی اعجاز کے پاس اپنی پوری زمین رہے گی اور میرے بڑے بھائی یعنی آپ کو میرے حصے کی زمین ملے گی ۔اگر آپ کو یہ حل قابل قبول ہے تو یہ لیجئے‘‘ ۔
اس نے اپنی زمین کے کاغذ ات الیاس چودھری کو تھماتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی ۔
’’ لیکن میری بھی ایک شرط ہے‘‘ ۔
’’کیسی شرط۔‘‘ 
ان دونوں نے حیرت واستعجاب میں ڈوبتے ہوئے بیک زبان پوچھا ۔
’’ فوزیہ بِٹیا آج ہی اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھر چلی جائے گی‘‘ ۔
احسان کی بات سن کر فوزیہ کے شوہر ،جو اپنے باپ کے ساتھ آیا تھا، کی آنکھیں خوشی سے نم ہوئیں۔
اسی لمحے الیاس کا فون بجھ اٹھا ۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔۔ جی میں قربانی کے لئے جانور لانے گائوں گیا ہوں ،اسی لئے آپ سے نہیں مل سکا ‘‘۔
’’آپ کا کام ہو گیا ہے ‘‘۔
’’بہت شکریہ جناب ،اب میرے لئے کیا حکم ہے‘‘ ۔
’’کچھ خاص نہیں بس ہمارے لئے بھی قربانی کے ایک دو تکڑے سے بھیڑ لے آنا‘‘ ۔
’’جی ضرور‘‘۔
کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا اور احسان سے مخاطب ہوکر بولا۔ 
’’مگر تم ہمارے لئے اتنی بڑی قربانی کیوں دے رہے ہوـ؟‘‘
’’یہی میں بھی جاننا چاہتا ہوں‘‘۔
اعجاز بھی بے تابی سے بولا۔  
’’ ارے بے غیرت ،تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ۔جائواپنے غرور اور انا کو سنبھال کے رکھو اور دکھاوے کے لئے قربانی کے نام پربے  زبان جانوروں کو کاٹ کر خوشیاں منائو‘‘۔
ان کی ماں جو ایک کونے خاموشی سے بیٹھی سب سن رہی تھی نے اپنے دونوں بیٹوں پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے تھکے سے لہجے میںکہااور سر سے چادر اتار کر اللہ سے گڑ گڑاتے ہوئے احسان کو دعائیں دینے لگی ۔ احسان کی پیشانی کھل اٹھی جب کہ اعجاز اور الیاس،جن کی کانوں کی لوئیاں سرخ ہوگئیں، کھسیانے سے ہوکر شرمندگی کی حالت میں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔
٭٭٭
رابطہ؛اجس بانڈی پورہ ،کشمیر، موبائل نمبر؛9906526432
ای میل؛[email protected]