عظمیٰ نیوز سروس
راجوری// جموں و کشمیر حکومت نے یوٹی میں حقوق جنگلات قانون (ایف آر اے) کے مؤثر نفاذ کے لئے ایک اہم تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت موجودہ نوڈل اختیار جنگلات محکمہ سے تبدیل کرتے ہوئے محکمہ قبائلی امور کو دیا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کی اطلاع قبائلی امور کے وزیرِ اعلیٰ، جاوید رانا نے راجوری میں میڈیا سے بات چیت کے دوران دی۔جاوید رانا نے کہا کہ خانہ بدوش اور گھمّنتو قبائل نہایت سخت زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر لوگ جنگلاتی علاقوں اور زمین پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ قبائلی خاندانوں کو ہراساں نہ کیا جائے اور انہیں اْن کے روایتی حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دعوؤں کے باوجود جموں و کشمیر میں ایف آر اے کے حقیقی حقوق اور اس قانون کا مؤثر نفاذ عملاً ایک خواب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں محکمہ قبائلی امور ہی اس قانون کا نوڈل اختیار ہوتا ہے، مگر جموں و کشمیر میں اب تک جنگلات محکمہ یہ اختیار سنبھالے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے حکومت کے سامنے تجویز رکھی ہے جسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا، تاکہ محکمہ قبائلی امور کو ایف آر اے نفاذ کا نوڈل اختیار دیا جا سکے،‘‘ ۔
جل شکتی محکمہ کے وزیر کی حیثیت سے جل جیون مشن کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے جاوید رانا نے تسلیم کیا کہ 2019 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی رفتار عرصے تک سست رہی، کیونکہ اْس وقت باقاعدہ حکومت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یونین ٹریٹری میں جل جیون مشن کے 3200 منصوبوں میں سے 1700 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، وہ بھی اس صورتحال میں کہ گزشتہ ایک برس میں مرکزی حکومت سے ایک روپیہ بھی موصول نہیں ہوا۔انہوں نے محکمہ اور ٹھیکیداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’بجٹ نہ ہونے کے باوجود اسکیموں کا نصف حصہ مکمل ہونا قابلِ تعریف عمل ہے۔‘جاوید رانا نے بتایا کہ جب انہوں نے وزارت سنبھالی تو محکمے پر 400 کروڑ روپے کی ذمہ داری تھی، جو اب بڑھ کر 1400 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی مشکلات موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود منصوبوں پر کام جاری ہے۔صحت کے شعبے میں راجوری اور پونچھ کی صورتحال پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے اور ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ’5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ترقیاتی سرگرمیاں تقریباً رْک گئی تھیں، لیکن نئی حکومت کے آنے کے بعد ایک بار پھر ترقیاتی کام تیزی سے شروع ہوئے ہیں اور یہ سب کے سامنے ہے۔ڈیلی ویجر ملازمین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جاوید احمد رانا نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی، جس کی سربراہی چیف سیکریٹری کر رہے ہیں، اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ڈیلی ویجرز کے جائز مسائل حل کرنے کے لئے پْر عزم ہے۔