جموں// حکومت کے آرڈرنمبر333 کے تحت کشمیری ،ڈوگری،بودھی اورپنجابی کوتعلیمی نصاب میں شامل کرنے اورگوجری اورپہاڑی زبانوں کوتعلیمی نصاب سے باہررکھنے کے بعد ریاست بالخصوص اورخطہ جموں بالعموم کے گوجراورپہاڑ ی عوام میں پیداہوئی غصے کی لہرکے پیش نظر ممبراسمبلی مینڈھرجاویداحمدرانا ، ممبراسمبلی راجوری ایڈوکیٹ قمرچوہدری اور ممبراسمبلی گول گلاب گڑھ چوہدری ممتازاحمدخان پرمشتمل وفدنے یہاں سرینگرمیںریاست کے چیف سیکریٹری بی وی ویاس اور وزیرتعلیم الطاف بخاری سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے حکومت کی طرف سے گوجری اورپہاڑی زبانوں کے ساتھ کی گئی زیادتی سے عوام میں حکومت کے خلاف پیداہوئے غصے کی لہر سے روشناس کرایا۔اس دوران وفدنے بتایاکہ خطہ جموں بالعموم اور خطہ پیرپنچال کے گوجراورپہاڑی عوام میں حکومت کے آرڈرنمبر 333 کے تحت گوجری اورپہاڑی زبانوں کو تعلیمی نصاب سے باہررکھنے کی وجہ سے حکومت کے خلاف شدیدناراضگی پائی جارہی ہے ۔اس موقعہ پرجاویدرانا، ایڈوکیٹ قمرچوہدری اور ممتازخان نے چیف سیکریٹری اور وزیرتعلیم کوبتایا کہ گوجری ہندوستان کی ایک قدیم زبان ہے اورگذشتہ 15صدیوں سے ملک میں رائج ہے ۔اتناہی نہیں اس زبان سے کئی زبانیں نکلی ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ پہاڑی زبان کوبھی اس کاجائزحق ملناچاہیئے ۔ وفدنے مزیدبتایاکہ گوجری اورپہاڑی کو تعلیمی نصاب سے باہررکھنا عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے اوراس کوقطعی برداشت نہیں کیاجائے گا۔ اس دوران وفدنے جموں کشمیرمیں فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے نفاذ کامطالبہ کرتے ہوئے کہاحکومت کواپنی پسندکے قانون کوریاست میں لاگوکرانے کیلئے دفعہ 370 آڑے نہیں آتی اورجب فاریسٹ رائٹس ایکٹ کوجموں وکشمیرمیں لاگوکرنے کی مانگ کی جاتی ہے تو دفعہ 370کابہانہ لگایاجاتاہے جوکہ بلاجواز ہے۔ وفد نے فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری اور گوجر بکروال طبقہ کی بہبود پر مبنی مطالبات کا میمورنڈم بھی چیف سیکرٹری کو پیش کیا۔وفد نے دسویں جماعت تک سکولوں میں پہاڑی اور گوجری زبان کو متعارف کرانے کی بھی مانگ کی۔س دوران ایڈوکیٹ قمرچوہدری نے جموں کشمیربنک کے گوجربکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملازم عبدالرشید کوسینئر صدرسے ایگزیکٹیو صدرکے طورپر ترقی کوبلاجوازروکنے کامعاملہ بھی اٹھایا ۔اس موقعہ پر چیف سیکریٹری اور وزیرتعلیم نے علیحدہ علیحدہ طورپر وفدکویقین دہانی کرائی کہ گوجری اورپہاڑی کی تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی مانگ سمیت دیگرجائز مطالبات پرحکومت سنجیدگی سے غورکرے گی۔اس دوران وفدمیں ایڈوکیٹ قمرزمان مرزا، زاہدپرواز چوہدری، نسیم ملک ، اشرف چوہدری، چوہدری مصطفی دیدڑ ،علی محمدبجاڑ ،ریاض چوہدری ودیگران شامل تھے۔