دنیا میں کوئی بھی انسان اگر کسی بھی منصب پر پہنچنا چاہتا ہے تو اْسے چاہئے کہ اپنی ذات کو فنا کردے۔ خود کو مٹا کر جب خودی بیدار ہوتی ہے تو انسان اپنے اصل مقام سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ جوں جوں انسان خودی کو بیدارکرتا ہے اپنے اصل مقام سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے اصل مقام سے آگاہ ہوجاتا ہے تو پھر کامیابیاں اور کامرانیاں اُس کے پیچھے بھاگتی چلی آتی ہیں ۔
بلا شبہ زندگی میں کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ کچھ بھی ہمیں آسانی سے نہیں مل جاتا۔کوئی مال و دولت کھو کر اپنے لئے آرام و آسائش، دولت و شہرت وصولتا ہے، کوئی دھوکہ دھڑی کا کاروبار چلا کر اپنے لئے آرام طلبی خرید لاتا ہے تو کوئی ضمیر جیسی قیمتی شئے کھو کر عیش و عشرت اور مزے کی زندگی گزارنے کی سعی کرتا ہے لیکن دولت شہرت، عزت و اکرام اور رضائے الٰہی کے لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان صحیح وقت پر اپنا وقت صرف کرے اور بدلے میں نفع ہی نفع پائے۔ وقت کی قدر کرنا گویا کامیابیوں کو اپنا اسیر بنانا ہے ۔یہ ایک ایسا بے خطا اصول ہے جو اپنے اندر ابدی اہمیت رکھتا ہے۔ آپ جس معاملہ میں بھی اس کو آزمائیں گے یقینی طور پر آپ کامیاب رہیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ آپکی سمت درست ہو۔بقول شاعر ؎
پست ہمت کرتے ہیں شکوہ بیٹھ کر نصیبوں کا
اُگنے والے اُگ جاتے ہیں سینہ چیر کر پتھروں کا
جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی بہترین اور نمایاں کارکردگی کوئی نئی یا حیران کن بات نہیں کیونکہ سکول بند رہیں یا انٹرنیٹ بند رہے، اس سے امیر گھرانوں کے طلباء کی تعلیم متاثر نہیں ہوتی کیونکہ اللہ نے انہیں ہر وہ سہولیت محلات کی چار دیواری کے اندر ہی عطا کی ہوتی ہے جو اْنہیں درکار ہوتی ہے لیکن کمال تو اْن گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کا ہے جن کے گھر میں بجلی پانی جیسی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتی ۔جو کسی وقت پنسل یا کاپی کے لئے بھی ترس جاتے ہیں۔ کسی غریب گھرانے کے چشم و چراغ کاٹیوشن اور سہولیات کی عدم موجودگی کے باجود تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا انتہائی قابل فخر اور قابلِ صد افتخار ہے۔ قارئین کرام لمبی تمہید میں نہ جاتے ہوئے آپ کی توجہ اصل کہانی کی جانب مبذول کرانا چاہوں گا۔
وادی ٔ کشمیر جنت بے نظیرمیںضلع اننت ناگ کے علاقہ صوف شالی کوکرناگ کے ایک غریب گھرانے کے فیضان نامی چشم وچراغ نے دسویں جماعت کے حالیہ نتائج میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اک مثال قائم کر دی۔ فیضان نامی اِس طالب علم کے طور اطوار سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اْس نے کن حالات کا سامنا کرتے ہوئے تعلیمی میدان میں اپنے گل کھلائے ہیں ۔لاک ڈاؤن کی سختی، معاشی بحران کے چلتے اور غربت کی آندھی میں تعلیم کی شمع روشن کرنے کا جو کارنامہ فیضان نے انجام دیا ہے وہ نسل نو کے لئے واقعی اک انمول اور قابلِ توجہ پیغام ہے،باالخصوص اْن والدین کے لئے حوصلہ افزاء پیغام ہے جو سرکاری اسکولوں میں بچوں کی تعلیم کو لیکر حد درجہ احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں ۔ گوکہ موجودہ تعلیمی نظام کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے والدین کا اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانا کسی ذہنی کوفت سے کم نہیں لیکن اِس ذہنی کوفت سے آزادی احساسِ کمتری نہیں بلکہ تدبر اور تحمل ہے ۔ والدین اگر اپنے بچوں کی تعلیم کو لیکر اپنی ذمہ داری کو نبھائیں گے تو حالات قدرے بہتر ہو سکتے ہیں ۔ فیضان جیسے ہیروں میں اضافہ ہو سکتا ہے بس فیضان جیسے والدین میں اضافہ کرنا ہوگا۔واضح رہے صوف شالی کے رہنے والے فیضان نامی اس طالب علم نے بغیر کسی ٹیویشن اور اسکولی تعلیم حاصل کئے اپنے دم پر دسویں جماعت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 500نمبرات میں سے 461نمبرات حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ؎
پھول یوں ہی نہیں کھلتے
بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے
فیضان نے کرونا بحران میں والدین کے کام میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنی تعلیم پر بھی خاصی توجہ مبذول رکھی ۔یہی وجہ ہے کہ مقفل اسکولوں کے باجود اپنی محنت اور انتھک کوششوں سے ایک مثالی کامیابی حاصل کر کے جہاں اپنے اساتذہ، والدین، رشتہ دار، عزیز و اقارب اور دوست احباب کا نام روشن کیا وہیں سماج اور سرکار کو اک خاموش پیغام بھی دیا کہ تعلیم ہی ہر مسئلے اور ہر مصیبت کا حل ہے۔ تعلیم ہی ہمیں تمام کٹھنائیوں سے آزادی دلا سکتی ہے۔ فیضان کے مطابق اگر سرکار جنگی ساز و سامان کی خرید کرنے کے بجائے غریب طلباء کا ہاتھ تھامتے ہوئے اْنہیں اچھی اور معیاری تعلیم دینے کا منصوبہ بنا لیتی تو یقیناتمام مسائل کا ازالہ خود بخود ہو جاتا۔ فیضان کی فخریہ کامیابی پر جب راقم اْن کے دولت خانہ تشریف لے گئے تو اْن کے والدین خوشی سے جھوم رہے تھے۔ اْن کے یہاں خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔گھر کا ہر فرد فیضان کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتا سنائی دے رہا تھا۔ فیضان کی والدہ کا کہنا تھا’’ میرا فرزند فیضان میری شان ہے اور میرے بے شمار دکھوں کا مداوا ہے ‘‘۔ فیضان کی والدہ نے خوشی کی اشکبار آنکھوں سے کہا کہ میرا فیضان اپنے مامو جان مرحوم غازی سعید شاہ بخاری کے نقش و قدم پر ہے، اْس کی جیسی چال ڈھال، رنگ روپ، اْس کا جیسا طیش ، اْس کی جیسی خاموشی، اْس کی جیسی ہمدردی اور اْسی کی جیسی تعلیمی پیاس فیضان میں صاف طور نظر آرہی ہے۔ انھوں نے کہا ’’میرا دل کہتا ہے کہ فیضان اپنے مرحوم مامو جان کی طرز کے تعلیمی کارنامے انجام دیکر اس دشوار گزار وقت کو خوشیوں میں بدل دے گا۔فیضان کی تعلیم ہی ہمیں مشکلوں اور مایوسیوں سے آزادی دلا سکتی ہے‘‘۔ انھوں نے دعائیہ لہجے میں کہا کہ اللہ کرے کہ فیضان میری امیدوں پر کھرا اْتر کر میرے اْن خوابوں کو حقیقت میں بدل دے جو خواب میں آج تک جاگتی آنکھوں سے دیکھتی آئی ہوں ۔ فیضان نے اپنے مرحوم مامو کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ غازی کی تعلیمی پیاس اس درجہ کی تھی کہ انھوں نے اپنی پہلی اور آخری تصنیف شعری مجموعہ"اسباقِ دل" کے سرورق پر اک شعر لکھا تھا کہ
روشنی کے لئے شمع جلاتے ہیں لوگ
کوئی دل بھی تو جلاؤ میری طرح
میری دعا ہے کہ فیضان روشنی کی وہ شمع جلائے جس کی روشنی سے صرف ہمارا گھر ہی نہیں بلکہ پورا ملک چمک اٹھے، ہمارے دلوں میں مایوسی کی اندھیر نگری میں ہمیشہ کے لئے اْجالا ہو جائے۔ واضح رہے فیضان گھر میں سب سے چھوٹا ہے ۔فیضان سے بڑا اِس کا ایک بھائی اور پانچ بہنیں ہیں اور اس پورے پریوار کی نظریں اب فیضان کی تعلیم پر ٹکی ہوئی ہیں اور تمام پریوار کے لئے فیضان اب اْمید کی ایک کرن ہے۔
پتہ۔گول،رام بن ،جموںوکشمیر
فون نمبرات7780918848/9797110175
ای میل۔[email protected]
���������