ڈاکٹر عریف جامعی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصنیف: ڈکیڈنس آف مسلم انٹیلیکچولزم
کازز، ریمفکیشنز اینڈ ریمڈیز
مصنف: ڈاکٹر توصیف احمد پرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانی فکر بھی ایک حیاتیاتی وجود کی طرح مختلف ادوار سے گزرتی ہے۔ فکر پیدا ہوتی ہے، اس کی نشوونما ہوتی ہے، یہ پروان چڑھتی ہے، یہ کمال کو پہنچ جاتی ہے، اس پر جمود طاری ہوتا ہے اور پھر یہ تنزل کا شکار ہوتی ہے۔ تاہم تنزل کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ فکر کبھی مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ دراصل یہ ایک دانے یا گھٹلی کی طرح پھٹتی ہے، کونپل نکالتی ہے، اپنے تنے پر کھڑی ہوتی ہے، برگ و بار لاتی ہے اور سایہ و ثمر سے بھی انسانیت کو نوازتی ہے۔ تاہم فکر پر بھی ایک قسم کا خزاں طاری ہوتا ہے، جس میں اس کے دانے ذرخیز زمین میں پڑتے ہیں اور فکر کی ایک نئی بہار کا موجب بنتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں کے اس وقفے کے دوران فکر کے دانے جیسے ہواؤں اور پرندوں کے ذریعے دور دراز کی ذرخیز زمینوں کا رخ کرتے ہیں جن سے ان اجنبی زمینوں میں بھی فکر کے نئے پیڑ معرض وجود میں آتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ قدیم روم و یونان کی فکر کے ساتھ ہوا۔ یونانیت (ہیلنزم) کی یہی فکری روایت پہلے اسکندریہ (مصر) منتقل ہوئی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں اس روایت نے تجارتی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کے ذریعے ایشیا کے مختلف (خاصکر جنوب مغربی اور جنوب وسطی) حصوں کا رخ کیا۔ اس علاقے میں قسطنطتین (۲۷۲-۳۳۷ عیسوی) کے بپتسمے (یعنی مسیحیت اختیار کرنے) سے مسیحی اور یونانی فکر کا ایک ملغوبہ تیار ہوا۔ ایشائے کوچک کے ساتھ ساتھ بازنطینی سلطنت کے مختلف علاقے خاصکر شام اعظم (گریٹر سیریا) اس فکر کے مراکز بن گئے۔ اس طرح ان علاقوں میں فکر انسانی کے مختلف دھارے جمع ہوگئے۔
مسلمانوں کی سلطنت عباسیہ کے قیام (۷۵۰ عیسوی) کے ساتھ ہی اس فکر میں ایک نئی تحریک پیدا ہونا شروع ہوئی۔ عظیم عباسی خلفاء، منصور، ہارون اور مامون کے عہد میں مختلف زبانوں خاصکر لاطینی، یویانی اور سریانی میں موجود فکر و علم عربی میں منتقل ہونا شروع ہوا۔ تاہم یہاں پر اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ عربوں (بنو اسماعیل) میں شاعرانہ تخیلات تو ضرور پائے جاتے تھے، لیکن ان کے ہاں کوئی گہرا فلسفیانہ فکر نہیں پایا جاتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہود انہیں ’’امی‘‘ (اَن پڑھ) کہا کرتے تھے۔ تاہم رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے فکر قرآن نے ان کے تفہم، تعقل، تدبر اور تفکر کو کچھ اس طرح کی مہمیز دی کہ انہوں نے انسانیت کے معتدبہ علمی ذخیرے کی چھان پھٹک شروع کی۔ فکر انسانی کی تحلیل اور تجزیے کا یہ کام عالم اسلام کے آفاقی (کاسموپالٹن) مرکز بغداد میں شروع ہوا۔
دراصل فکر انسانی کی نشاہ ثانیہ (ریناسنس) کی اسی بنیادی کہانی اور اس کے انحطاط و تنزل کو ڈاکٹر توصیف احمد پرے کی کتاب ’’ڈیکیڈنس آف مسلم انٹیلیکچولزم ۔ریزنز، ریمفکیشنز اینڈ ریمڈیز‘‘ مفکرین اور محققین کے سامنے پیش کرتی ہے۔ کتاب کل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے اور اسے ’’ووا بکس، دلی‘‘ نے ۲۰۲۱ میں چھاپا ہے۔ مصنف کا مدعا کتاب کے مقدمے (پریفیس) میں ہی سامنے آتا ہے جب آپ کہتے ہیں کہ ’’میں نے ایک ادنی سی کوشش کی ہے کہ کتاب کے عنوان یعنی مسلمانوں کی علمی میدان میں پسماندگی، جو روشن ماضی لیکن موجودہ پریشان کن صورتحال پر مبنی ہے‘‘ کو بیان کیا جائے۔
کتاب کا پہلا باب ’’پرولاگ ‘‘ہے، جس میں قرآن کے نظریہ علم پر بات کرتے ہوئے اسے علم کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ قرآنی ہدایت چونکہ حیات انسانی کی تمام جہات کا احاطہ کرتی ہے، اس لئے مصنف اس کی توضیح کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن ’’مذہبی، اخلاقی، روحانی، معاشرتی، سیاسی، معاشی، ثقافتی، جمالیاتی، مادی، قانونی، فکری، تعلیمی، وغیرہ‘‘ (ص۔ ۱) میدانوں کے تئیں مبادیات کا ایک پورا خاکہ پیش کرتا ہے۔ مختلف قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئےمصنف اس بات کو بھی واضح کرتے ہیں کہ قرآن کے مختلف نام، جیسے فرقان، کتاب، ذکر، کلام اللہ، بلاغ، مبین، ہدی، مواعظ، نور، حکمہ، وغیرہ‘‘ (ص۔ ۲، ۳) کس طرح انسانیت کو درکار ہدایت کی مختلف جہات کو سامنے لاتے ہیں۔
کتاب کا دوسرا باب ’’اسلامک کانسپٹ آف نولیج‘‘ اسلام کے نظریہ علم پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہاں مصنف اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’علم کس طرح حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنا سکھاتا ہے۔‘‘ (ص، ۶) علم اور ایمان کے مابین رشتے کو بیان کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ ’’اسلام میں ایمان کا درجہ دراصل یہ ہے کہ ایمان ایک فکری ذمہ داری ہے جس کا اظہار ایمان کے مختلف عنوانات (یا جہات) سے ہوتا ہے۔‘‘ (ص، ۶، ۷) ظاہر ہے کہ فکری ذمہ داری کو علم کے توسط سے ہی نبھایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے مصنف نے قرآن میں موجود مختلف تراکیب کو درج کیا ہے، جیسے علمی سرگرمی کے لئے رائج ’’اقراء‘‘، آلہ علم ’’قلم‘‘ اور علم کے حصول کو ممکن بنانے والی دماغی، قلبی اور نطق سے متعلق سرگرمیاں جیسے ’’تفکر، تدبر، فقہ، فہم، ادراک، حکمہ، ذکر، شعور، برہان، قلب، فواد ،وغیرہ‘‘ اور علم میں پختگی کی ایک خاص سطح پانے والے لوگ جیسے ’’راسخون فی العلم، اولوالباب‘‘ وغیرہ۔ (ص، ۷) علم کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے مصنف نے مختلف احادیث سے بھی استشہاد کیا ہے (ص، ۱۰، الترمذی) اور کئی ایک اہل علم جیسے امام غزالی اور راغب الاصفہانی وغیرہ (ص، ۸) کے اقوال بھی درج کیے ہیں۔
کتاب کے تیسرے باب میں مسلمانوں کی عالمی فکر میں شراکت داری (ابتداء سے سنہرے دور تک) پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ علم کی تجلّی سے فیضیاب ہونے کے لئے معلم کا ہونا، تحریک علم کا برپا ہونا اور نصاب علم کا پایا جانا ضروری ہے۔ اس بات کو مصنف نے ایک مغربی عالم کے اس قول سے واضح کیا ہے کہ ’’(مسلمانوں کی بنیادی تعلیم میں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم معلم اعظم، اسلام تحریک نور (علم) اور قرآن ایک متبرک نصاب‘‘ (ص، ۱۸) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ سے شروع ہونے والی علم کی اس روشن روایت کا خلفاء راشدین کے زمانے میں ارتقاء ہوا اور مسلم سرحدوں کی جغرافیائی اور سیاسی توسیع کے ساتھ ساتھ علم کے نئے نئے مراکز جیسے ’’کوفہ، بصرہ، دمشق اور فسطاط ‘‘ (ص، ۱۹) قائم کیے گئے۔ آگے چل کر عباسی دور میں ’’بیت الحکمہ‘‘ کے قیام نے ’’تحریک ترجمہ‘‘ (ص، ۲۰) کو معرض وجود میں لایا، جس سے یونانیت (ہیلنزم) کی ثقافت کا معتدبہ حصہ عربی میں منتقل ہوا۔ (ص، ۱۹) علم کی ضیاپاشی کا ابتدائی مرکز اگرچہ بغداد ہی تھا لیکن اندلس (اسپین) میں اموی حکمرانی (۷۵۶ ء) شروع ہوتے ہی علم کی یہ تحریک وہاں بھی منتقل ہوئی۔ (ص، ۲۰) یہی وقت تھا جب فلکیات، علم کیمیا، جغرافیہ، ریاضی، طب، تاریخ، قانون، لسانیات، فلسفہ، دینیات وغیرہ پر خاطر خواہ کام ہوا اور یہی کام اسپین اور صقلیہ کے راستے یورپ کو منتقل ہوا اور جس سے یورپ کا عہد وسطی متاثر ہوا۔ (ص، ۲۱) اس طرح اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھا جائے تو ’’بیت الحکمہ‘‘ سے اٹھنے والی ’’تحریک ترجمہ‘‘ پرکلز کے اتھنز، اٹلی کی نشاہ ثانیہ یا سولہویں اور سترہویں صدی کے سائنسی انقلاب سے کچھ کم تر نہیں ہے۔ (ص، ۲۲) تاہم ۱۲۵۸ عیسوی کے سقوط بغداد، علم کی دینی اور دنیاوی تقسیم اور روح اجتہاد کے خاتمے (ص، ۲۵، ۲۶) نے آنے والی صدیوں میں فکر مسلم کے انحطاط کی ابتداء کرڈالی۔
’’کہاں پر کیا چوک ہوئی‘‘ (وہٹ اینڈ وہائر وینٹ ورانگ) کتاب کے باب چار کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکتا کہ انسان کس وقت نیند کی حالت میں چلا گیا، کم و بیش اسی طرح یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فکر مسلم کا انحطاط کب شروع ہوا۔ تاہم مصنف نے مختلف حوالوں سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ۱۲۵۸ ء کے سقوط بغداد نے اس سلسلے کی شروعات کی اور ۱۴۹۲ ء میں جب اسپین میں مسلمانوں کی حکمرانی ختم ہوئی تو انحطاط کا یہ عمل اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ (ص، ۳۱) تاہم مصنف کا خیال ہے مدرسہ نظامیہ اور اس طرز کے دوسرے دیار العلوم نے علوم النقلیہ اور علوم العقلیہ کے درمیان تفریق کرکے مجموئی طور پر علوم کے تئیں مسلمانوں کے جوش و جذبے کو سرد کرکے انحطاط کے اس عمل پر مہر تصدیق ثبت کرکے اس کو نہ صرف طول دیا بلکہ اس کو دوام بھی بخشا۔ (ص، ۳۲، ۳۳) یہی وجہ ہے کہ انحطاط کا دور اتنا طویل ہوا کہ مابعد عہد استعمار (پوسٹ کولونیل ایرا) تک اس نے مسلمانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اس دور میں مسلمانوں نے کن مسائل کا سامنا کیا، اس موضوع کو مصنف نے باب پانچ میں بیان کیا ہے۔ تاہم اس درو میں بھی تعلیم اور تکنیک کو خریدا گیا اور کہیں پر بھی اس کی اختراع اور تخلیق نہیں ہوئی۔ (ص، ۴۶) باب چھ میں مصنف نے ’’تصویر کا دوسرا رخ‘‘ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں مصنف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ تعلیم، تحقیق اور تخلیق پر خرچ کرنا مسلمانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ (ص، ۵۳)
تاہم باب سات، جو کتاب کا وسیع ترین باب ہے، میں مصنف نے دنیا بھر میں بر سر عمل مختلف علمی، تحقیقی اور فکری مراکز کے کام اور طریقہ کار پر روشنی ڈالی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اداروں کی ایک اچھی خاصی تعداد مسلم فکر کو بحال کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ تاہم یہ بات کافی توجہ طلب ہے کہ ان میں سے کوئی ادارہ بھی تخصص کی اعلی ترین سطح پر فائز نہیں ہے۔ (ص، ۱۳۳) اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لئے مصنف نے اختتامی دیباچے (اپیلاگ)، جو کتاب کا آٹھواں باب ہے، میں پانچ نکاتی دستور العمل دیا ہے: (ص، ۱۴۱، ۱۴۲)
۱۔ خصوصی اداروں کی کمیابی دور کرنا
۲۔ تعلیمی اور تحقیقی کا قیام عمل میں لانا
۳۔ ابھرتے محققین کو تربیت دینا
۴۔ تعلیم اور تحقیق کے لئے ایک خوشگوار ماحول قائم کرنا
۵۔ مسلکی اور مکتبی مفاد سے اوپر اٹھکر امت کے مفاد کے لئے کام کرنا
ضمیمے اور کتابیات میں بھی مصنف نے موضوع سے متعلق اچھا خاصا مواد فراہم کیا ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ کتاب کے نصف اول کے ابواب میں نہایت اختصار سے کام لیا گیا ہے، جس سے کئی اہم موضوعات کی توضیح شرح و بسط کے ساتھ نہیں ہوسکی ہے۔ ان ابواب کی توسیع سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوسکتا تھا۔ تاہم مجموعی عنوان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کتاب محققین اور اساتذہ کے لئے نہایت کار آمد ہے۔ تاہم بھاری بھرکم تحقیقی طریقہ کار (ریسرچ میتھڈالوجی) کو اپناکر مصنف نے کتاب کو عام طلبہ اور قارئین کے لئے پیچیدہ بنادیا ہے۔
(مصنف محکمہ اعلی تعلیم میں اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
رابطہ9858471965
[email protected]