جموں//لوگوںکو تقسیم اورفرقہ پرستی کی سیاست کرنے والوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کچھ عناصر نوشتہ دیوار پڑھ کر بوکھلاہٹ میں سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان عناصر کی طرف سے مذہب کے نام پر شور و غل کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں ہے ، صرف سیاسی منافرت ہی فرقہ پرستوں کے لئے ڈھال کا کام کر رہی ہے ۔ شیر کشمیر بھون میں پارٹی عہدیداروں، سابق وزراء، اراکین قانون سازیہ ضلع صدور اور سیکرٹریوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ بد اعتماد ی اور تقسیم کی سیاست ملک کیلئے مضر ثابت ہوگی ، خود ساختہ قوم پرست منفی سیاست کر رہے ہیں حتیٰ کہ مہاتما گاندھی کے قاتل کا گوالیار میں مندر قائم کیا جا رہا ہے جس سے ملک میں ایک غلط پیغام جا رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ فرقہ پرستی کے زہر سے ملک کمزور ہو رہا ہے۔جموں کشمیر کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1947میں ہم نے اسلامی مملکت پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے بجائے سیکولر ہندوستان کو ترجیح دی تھی۔ فرقہ پرستی کو ملک کی یکجہتی کے لئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر سیکولرازم کی اس راہ سے انحراف کی کوشش کی گئی تو یہ ریاست کے مرکز کے ساتھ رشتوں کو کمزور کرے گی۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر عبداللہ نے شیخ محمد عبداللہ کی سوانح حیات آتش چنار کے تجدید شدہ ایڈیشن کا بھی افتتاح کیا۔پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار پر پنچایتی راج نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ پنچایت راج ایکٹ1989میں ترمیم کر کے اس کی حقیقی روح کو زک پہنچائی گئی ہے تاہم پنچایتیں ہی دیہاتی علاقوں کی عوامی خواہشات کے مطابق ترقی کی ضامن ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی الیکشن جموں کشمیر میں زمینی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی الیکشن ریاست کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے اور اس سے لوگوں کو موجودہ حکومت کی غلط کاریوں کا حساب لینے کا موقعہ دستیاب ہوگا۔ پنچایتی راج ایکٹ میں ترمیم کر کے سرپنچوں کی بلاواسطہ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس سے جوڑ توڑ کی سیاست کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے دور اقتدار میں ملک میں متعارف پنچایتی نظاموں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایک ایسا نظام رائج کیا تھا جسے مرکز سے آئے ماہرین نے بھی سراہا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اس کا تقدس پامال کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس کو دو تہائی اکثریت ملی تو نہ صرف پنچایتی راج ایکٹ کو اصل صورت میں بحال کر دیا جائے گا بلکہ ان غلط اقدامات کو بھی درست کر دیا جائے گا جنہیں موجودہ سرکار نے لوگوں پر تھوپ د یا ہے ۔ انہوں نے خواتین کو 33فیصد ریزرویشن سے استفادہ کر کے پنچایتی الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔