جموں//حکومت ہی نہیں بلکہ گوجربکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی عدم توجہی کی شکارآل ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی کی بھوک ہڑتال چھٹے روزممبراسمبلی راجوری وپی ڈی پی لیڈرقمرحسین کی یقین دہانی کہ اس معاملے کووزیراعلیٰ کے ساتھ زیربحث لایاجائے گااورپھربھی اگرمطالبہ پورانہ ہواتوآپ دوبار ہ اپنی جدوجہدجاری رکھناکے بعدختم کردیاگیا۔اس ضمن میں میڈیاکوجانکاری دیتے ہوئے ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین طالب چوہدری نے ایک آہ بھرتے ہوئے ایک شعرپڑھا۔جن پہ تکیہ تھاوہی پتے ہوادینے لگے۔۔ مطلب کہ گوجربکروال طبقہ کے ممبران اسمبلی نے ہی طبقہ کودھوکہ دیا۔انہوں نے کہاہے کہ گوجربکروال قوم کی سادہ لوح کولوٹنے والے غیرنہیں بلکہ اپنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سوائے قمرچوہدری ممبراسمبلی راجوری کے کسی بھی گوجرممبراسمبلی اورکابینہ وزیر نے آصفہ کوانصاف دلانے اورفاریسٹ رائٹس ایکٹ کو لاگوکروانے کیلئے حکومت پردبائونہیں ڈالا۔انہوںنے اس کیلئے وزیربرائے قبائلی امورکوذمہ دارٹھہرایا۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز اسمبلی میں نجی بل پیش کرنے کاآخری دن تھا لیکن بدقسمتی سے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کابل بالکل آخری نمبریعنی 52 نمبرپررکھاگیا۔انہوں نے کہاکہ وزیرقبائلی امورکافرض بنتاتھاکہ وہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے بل کوشروع کے بلوں میں شامل کرواکراسے ایوان میں پیش کرتے لیکن انہوں نے ایسانہ کرکے طبقہ کے ساتھ ظلم کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ صرف ذوالفقارچوہدری ہی نہیں ،طبقہ سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی بشمول اعجازخان،ممتازخان،اکرم چوہدری نے بھی طبقہ کی تمام تراُمیدوں پرپانی پھیردیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں افسوس ہے کہ ایسے لیڈرجوسادہ لوح عوام کوانتخابات کے وقت ووٹ بنک کے طورپراستعمال کرتے ہیں اورایوان میں وقت آنے پرطبقہ کے جائزمطالبے کونہیں اٹھاتے۔انہوں نے کہاکہ قمرچوہدری اورجاویدرانانے کچھ حدتک کوششیں کیں جن کاہم شکریہ اداکرتے ہیںتاہم باقی دیگرتمام ممبراسمبلی اورحکومت کے وزراء بالخصوص وزیراعلیٰ کی غیرسنجیدگی پرتشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہدختم نہیں ہوئی بلکہ صرف بھوک ہڑتال ختم کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی تمام گوجربکروال طبقہ کے ممبران اسمبلی کے خلاف مورچہ کھولے گی اوران کے خلاف مظاہرے کئے جائیں گے،نیزان کے متعلقہ حلقوں میں جاکرانہیں بے نقاب کیاجائے گا۔نزاکت کھٹانہ نے کہاکہ گوجربکروال طبقہ کوتمام سیاسی جماعتوں نیزطبقہ کے لیڈران نے سبزباغ دکھائے ہیں اورطبقہ کی اُمیدوں پرکھرااترنے کے بجائے انہیں مایوسی دی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب صرف ایک ہی حل نظرآتاہے گوجربکروال طبقہ اوردیگرریزروڈکیٹاگریزکے لوگ آئندہ اسمبلی چنائو میں پوری ریاست میں انتخابات لڑیں،اورہم انشاء ایساکریں گے۔چوہدری رفاقت اعجاز نے کہاکہ سب کاساتھ سب کاوکاس نعرہ کھوکھلاثابت ہواہے اورسیلف رول کادعویٰ کرنے والی پی ڈی پی اورریاست کی سب سے پرانی جماعت جسے ہمیشہ طبقہ کی لوگوں نے مضبوط کیانے گوجربکروال طبقہ کومایوس کردیاہے۔واجدکھٹانہ نے کہاکہ اسمبلی میں گوجربکروال طبقہ کے قانون سازوں کی کارکردگی سے طبقہ کومایوسی کے سواکچھ بھی ہاتھ نہیں لگاہے۔انہوں نے کہاکہ اگر فاریسٹ رائٹس ایکٹ کولاگوکروانے کیلئے وزیرقبائلی اموراوردیگرگوجربکروال ممبران اسمبلی سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے بل کوایوان میں ٹیبل کرتے تو ممکن تھاکہ بل پاس ہوجاتا۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ آئندہ انتخابات میں گوجربکروال طبقہ کے لوگ انتخابات میں حصہ لیں گے۔زاہدپروازنے کہاکہ ہم انتخابات کے وقت حکومت کے جھوٹے وعدوں کوبے نقاب کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ طبقہ کے نام پرگوجربکروالوںکوبطورووٹ بنک استعمال کیاگیا جس کاجواب آئندہ انتخابات میں دیاجائے گا۔ اس دوران ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے دیگرکارکنان وحمایتیوں عرفان انجم ، سلیم چوہدری، ابرارچوہدری ،لیاقت چوہدری، چوہدری شکور ،مختارگورسی ، اقبال گورسی، حق نواز، اخلاق، چوہدری واجد، چوہدری مختار،جماعت علی وغیرہ نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ آصفہ عصمت ریزی اورقتل معاملے میں ابھی تک حکومت نے انصاف فراہم نہیں کیااورفاریسٹ رائٹس ایکٹ کولاگوکرنے کیلئے گوجربکروال طبقہ کے قانون سازوں نے بھی غیرسنجیدگی کامظاہرہ کیا۔