ایجنسیز
بیجنگ//چین اوربھوٹان نے بدھ کے روز اْن علاقوں میں سرحدی حد بندی پر تبادلہ خیال کیا جہاں کوئی تنازع موجود نہیں، جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امور پر 15ویں ماہرین گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے حالیہ برسوں میں چین-بھوٹان سرحدی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا اعادہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے دوستانہ ماحول میں کھلے اور تعمیری انداز میں تین مرحلوں پر مشتمل روڈ میپ پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر گفتگو کی۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی مذاکرات کی رفتار برقرار رکھی جائے گی اور اگلا اجلاس باہمی سہولت کے مطابق بھوٹان میں منعقد کیا جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر سرحد کی تعیین و نشاندہی کے لیے قائم مشترکہ تکنیکی ٹیم کے تیسرے اجلاس میں غیر متنازع علاقوں میں سرحدی حد بندی پر بات چیت کی گئی۔بیان کے مطابق،15ویں اجلاس کے موقع پر مشترکہ تکنیکی ٹیم نے اْن علاقوں میں سرحدی حد بندی پر تبادلہ خیال کیا جہاں کوئی تنازع نہیں، جو تعاون کے معاہدے کے مطابق ہے۔یہ اجلاس بھوٹان کے بین الاقوامی سرحدی امور کے سیکریٹری ٹانگ بی توبدن لتھواور چین کی وزارت خارجہ کے محکمہ سرحدی و سمندری امور کی ڈائریکٹر جنرل یانکی ہو کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا۔چین اور بھوٹان کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے حکام کے درمیان وقتاً فوقتاً رابطے جاری رہتے ہیں۔چین نے اپنے 12 ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات حل کر لیے ہیں، جبکہ بھارت اور بھوٹان وہ دو ممالک ہیں جن کے ساتھ بیجنگ کا سرحدی تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔2023 میں دونوں ممالک نے تین مرحلوں پر مشتمل روڈ میپ کے ذریعے سرحدی تنازع حل کرنے کے لیے مذاکرات تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔