پونچھ//پونچھ میں شیر کشمیر پل اور دیگر مقامات پر حفاظتی باندھ تعمیر کئے جارہے ہیں۔اس دوران باندھ تعمیر کرنے والے ٹھیکیداروں نے دریا سے بجری اور ریت نکال کر ڈھیر لگارکھے ہیں جس پر دوسرے ٹھیکیداروں کی جانب سے سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ٹھیکیدار حاجی عبدالعزیز، ٹھیکیدار منظور لون، ماسٹر مہندر سنگھ، ہرجیت سنگھ ، محمد صدیق ، جاجوید احمد، اور محمد اسلم نے الزام لگایا کہ باندھ کی تعمیرات کی آڑ میں غیر قانونی طور پر دریا سے ریت بجری نکال کر اس کو فروخت کیاجا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی باندھ کے لئے اتنی زیادہ ریت بجری کی ضرورت نہیں ہے۔پھر اتنے بڑے بڑے انبار کس کے لئے لگائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی کاروائی کی جانی چاہئے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے مداخلت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں فوری کاروائی کی جائے۔رابطہ کرنے پر محکمہ فلڈ کنٹرول کے اے ای ای سجاد احمد نے بتایا کہ ان کے محکمہ کی جانب سے پونچھ قصبہ کو دریا کی تغیانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے مختلف مقامات پر باندھ تعمیر کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے اس ریت اور بجری کو جمع کیا گیا ہے تاکہ وہ تعمیرات میں استعمال کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے الزام عائد کیا ہے ان کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ حفاظتی باندہ محکمہ کے افسران کی نگرانی میں تعمیر کئے جا رہے ہیں وہاں کسی طرح کی ہیرا پھیری کی گنجائش نہیں ہے۔