کیا دن تھے کہ دل میں مرے اُلفت کا اثر تھا
اس دہر میں جینے کا مزہ شام و سحر تھا
ہیں آج جہاں غم کے عجب سائے ، وہاں پر
آباد کبھی شان سے خوشیوں کا نگر تھا
طے کر نہ سکا منزلِ جاناں کی مسافت
اب کس کو بتائوں میں کہ دشوار سفر تھا
زخموں کے چمن زار میں اس قلبِ حزیں کو
صد شکر کہ دن رات دھڑکنے کا ہنر تھا
افسردہ فضائوں میں بھی اُمیدِ خوشی تھی
ہوتا کبھی مایوس میں ممکن یہ کدھر تھا
اُلفت کے بیابان میں ہر ایک قدم پر
اک دھوپ تھی، لیکن کوئی سایا نہ شجر تھا
کس کو تھی رہِ عشق میں انجام کی پروا
کٹنے کو تنِ زار سے تیار یہ سر تھا
کِھلتے ہی جو مرجھا گئے شادابؔ چمن میں
اُن پھولوں کی لالی میں مرا خونِ جگر تھا
شفیع شادابؔ
پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9797103435
غم تو اپنا ہے مگر کس کو سزا دیتے ہیں
آہ بھرتے ہیں چراغوں کو بُجھا دیتے ہیں
یہ غلط ہے کہ میرے دوست دغا دیتے ہیں
وہ مجھے میری خطائوں کی سزا دیتے ہیں
اشک آجائیں تو سینے سے لگا لو اِن کو
یہ مسافر کسی منزل کا پتہ دیتے ہیں
ہم نہ بھیجیں گے کوئی پیار کا خط آپ کے پاس
آپ معصوم پرندوں کو جلا دیتے ہیں
آپ کو اپنا بناتا تو بڑی بات نہیں
ہم تو پتھر کو بھی بھگوان بنا دیتے ہیں
خُوب اُبھریں گے ان آنکھوں میں عُنابی ڈورے
لائو کا جل میں لہو اپنا ملا دیتے ہیں
گنگنائونہ میری تازہ غزل شام و سحر
لوگ تو بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں
کاٹے جاتے ہیں اِسی دل میں غموں کی پربت
ریزہ ریزہ اِنہیں آنکھوں سے بہا دیتے ہیں
میرے بچھڑے ہوئے گائوں کے سنہرے پنچھیؔ
جب بھی آتے ہیں نیا درد جگا دیتے ہیں
سردار پنچھیؔ
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ پنجاب
موبائل نمبر؛94197091668
ہم اس میں بے جا ہل کو چلاتے چلے گئے
بنجر زمیں کے سچ کو چھپاتے چلے گئے
کس کی زمین ہے یہ بُھلاتے چلے گئے
ہم ایک گھر کا نقشہ بناتے چلے گئے
جینے کا ڈھنگ خود کو سکھاتے چلے گئے
دیوالی جگنو سے بھی مناتے چلے گئے
روزانہ بارشوں میں نہاتے چلے گئے
ہم اپنے آنسوؤں کو چُھپاتے چلے گئے
اپنے نہ کام آ سکے جب اپنے بیج تو،
دھرتی میں دوسروں کی اُگاتے چلے گئے
نکلی ہے وہ زمین کسی اور کی یہاں
ہم جس پہ ایک گھر کو بناتے چلے گئے
جانے وہ کیا تھا ہم کو پتا ہی نہیں تھا پر
کچھ اور ہی کہ اس کو بتاتے چلے گئے
مدھم گرا کے روشنی اس زندگی پہ ہم
اس کو مہین پردے اُڑھاتے چلے گئے
اک روز اس میں آئے گا مہمان ہمارا
پھر آج ہم کھنڈر کو سجاتے چلے گئے
اس بت کا اب نشان بھی باقی نہیں مگر
خالی زمیں پہ سر کو جھکاتے چلے گئے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
ہوئے جس کے سبب بیمار ہیں ہم
اسی کے طا لب _ دیدار ہیں ہم
بھی فرہاد مجنوں کہیے ہم کو
جہاں میں بس فقط دو چار ہیں ہم
متاعِ زندگی تجھ پر لُٹا کر
خوشی سے ہر گھڑی سر شار ہیں ہم
ہمی ہیں گل و چمن کے یاں محافظ
نظر میں گو جہاں کی خار ہیں ہم
گذر جائیں جو اُلفت میں بھی جاں سے
انہی اسلاف کے آثار ہیں ہم
ہمیں مت ڈھونڈنا ہارے ہوؤں میں
جبینِ فتح کے شہکار ہیں ہم
ہمارے دم سے تاباں ہیں یہ رستے
اندھیروں کے لئے دیوار ہیں ہم
جچے کیسے معینؔ اب اہل زر پر
غریبِ شہر کی دستار ہیں ہم
معین فخر معینؔ
موبائل نمبر؛003443837244
سمجھ لو ہماری یہ د یوانیاں ہیں
محض زندگی کی پریشانیاں ہیں
ہمیں چاہتی ہیں یہ کیوں کر کے اتنا
ابھی ان کی فطرت میں نادانیاں ہیں
تمہیں عشق کا کچھ تجربہ بھی ہے کیا؟
یہاں ہر قدم دینی قُربانیاں ہیں
قدم ہیں جوانی کی دہلیز پر اَب
کھلے پھول سب رات کی رانیاں ہیں
منیؔ ہم کو سمجھا کے کیا فائیدہ ہے
یہاں تو فقط دل کی من مانیاں ہیں
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
بھدرواہ، جموں
موبائل نمبر؛9596888463
مطلب کی آوازوں سے دور نکل آتے ہیں
ان سب موقع بازوں سے دور نکل آتے ہیں
جا جا اب تو لوگ یہاں دیتے ہیں طعنے
اُن طعنہ بازوں سے دور نکل آتے ہیں
دنیا ، کب ہم تیرے مزاج مطابق تھے ،اَب
تیرے سب خوش بازوں سے دور نکل آتے ہیں
اچھی صورت والوں اور جعل سازوں سے
جاناں ! خوش سازوں سے دور نکل آتے ہیں
کرتے ہیں غمگین یہ گیت ہمیں اکثر ، سو
ایسے ویسے سازوں سے دور نکل آتے ہیں
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ سرینگر،کشمیر