تھنہ منڈی //کہتے ہیں کہ غربت و افلاس انسان کو مشکل سے مشکل کام کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے ۔تھنہ منڈی کے محمد ساجد کی عمر ابھی صرف دس سال ہے اور ا س کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں لیکن والد کی ایک سڑک حادثے میں ہلاکت ہوجانے کے بعدوہ گھر کا خرچہ چلانے کیلئے چھلیاں فروخت کرنے کے کام پر لگارہتاہے ۔ تھنہ منڈی کے علاقہ پنگائی کا رہنے والا چوتھی جماعت کا طالبعلم سڑک کے کنارے چھلیاں فروخت کر کے اپنے عیال کی کفالت کرنے پر مجبور ہے۔ محمد ساجد ولد جاوید احمد جسکی عمر 10 سال ہے،اپنے کنبہ میں سب سے بڑا ہے۔ محمد ساجد کا والدچار سال قبل اپنے اہل عیال کی کفالت کے لئے وادی کشمیر کے علاقہ بال تال( امرناتھ) جا رہا تھاجس دوران اس کی گاڑی بانہال کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گئی اور وہ موقعہ پر ہی جاں بحق گیا۔جاوید کی موت کیا ہوئی کہ کنبہ ہی بے سہارا ہوگیا۔ محمد سا جد کی والدہ جو ایک جوان خاتون ہے، پر مشکلات کا آسمان ٹوٹ گیاتاہم اس نے ان تمام مشکلات کے باوجودامید کا دامن نہ چھوڑا اور وہ خود بھی بچوں کی کفالت کررہی ہے ۔ زخریز اختر جو محمد ساجد کی والدہ ہے،کا ہاتھ بٹانے کے لئے محمد ساجد نے تھنہ منڈی مین مارکیٹ میں چھلیا ں پکا کر فروخت کرنی شروع کر دی ہیں۔ محمد ساجد کے مزید دو بھائی ہیں جن میں سے محمد عاقب کی عمر 7 سال ہے اورمحمد ثاقب کا 5 سال کاہے۔ یہ تینوں کمسن بھائی اپنے والد کا خواب پورا کرنے کے لئے اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن گھر کی غربت اور مفلسی انکی پڑھائی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ محمد ساجد تھنہ منڈی کے ایک نجی تعلیمی ادارہ اور عاقب اورثاقب اپنے گھر کے نزدیک ایک مقامی نجی ادارے میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن اتناہی کافی نہیں، اسکے علاوہ انہیں اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے بڑی معاونت درکار ہے۔ محمد ساجد کو مین مارکیٹ میں چھلیاں پکانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں اوراس کاکہناہے کہ محنت کی کمائی میں جو لذت ہے وہ کسی اور میں نہیں۔