ڈاکٹر عریف جامعی
شعر اصلاً معاشرے کی تہذیبی اور ثقافتی روایات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تاہم شاعر میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے کہ وہ نئی روایات کی تخلیق کرے۔ اس کا شعور مختلف وادیوں کی سیر کرکے تخیل اور تصور کی قوت سے پرانی روایات کو بھی نئے معنی عطا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے صرف ذخیرہ الفاظ اور تراکیب کی ضرورت ہوتی تو کوئی اچھا خاصا لغت سامنے رکھکر شعر کہے جاسکتے تھے۔ لیکن شعر فقط الفاظ کی حسن ترتیب سے وجود میں نہیں آتا۔ اس کے لئے ایسی حساس طبیعت کی ضرورت ہوتی ہے جو واردات کی چبھن کو لوح دل پر نقش کرکے اس طرح صفحہ قرطاس کے حوالے کرے کہ سریر خامہ (قلم کی آواز) شاعر کے مداحوں کی واہ واہ کے ساتھ مل جائے! یعنی شاعر قوت متخیلہ (امیجنیشن) سے شدت احساس کو الفاظ کی ترتیب و تنظیم کے ذریعے قارئین یا سامعین کی طرف منتقل کرتا ہے۔
ماہرین غالبیات کا ماننا ہے کہ غالب اپنے تخیل کی قوت سے اپنے اشعار میں اتنی معنی خیزی پیدا کرتے ہیں کہ زبان تلذذ، کان حظ اور دل اثر قبول کرتے ہیں۔ ایسا شعر حزن و ملال کو بھی اس طرح بیان کرتا ہے کہ دل ہلکا ہوجاتا ہے یا دل کا کتھارسس ہوجاتا ہے۔ یا صوفیانہ اصطلاح استعمال کی جائے تو ایسا شعر سن کر انسان “بصط” (دل کی کشادگی) محسوس کرتا ہے۔ یہاں پر اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ غم دوراں یا غم روزگار بیان کرنے والا شاعر ضروری نہیں کہ فلسفہ یاس یا قنوطیت کا نمائندہ ہو۔ ایسے شعراء دراصل غم کی حقیقت بیان کرکے غم کو زندگی کی ایک حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسے اشعار کہتے ہوئے بھی وہ زندگی میں رواں دواں رہتے ہیں اور سن و سال کے حساب سے ضعیف العمر ہوکر بھی جوانی کا احساس دلاتے ہیں۔
مرزا غالب نے بھی اپنی شاعری کا اچھا خاصا حصہ غم کی نذر کیا ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ غم شخصی طور پر انفرادی بھی تھا اور اجتماعی لحاظ سے معاشرتی اور قومی سطح کا بھی تھا۔ غم کے یہ دونوں دھارے کچھ اس طرح گھل مل گئے تھے کہ ان کا وجود سراپائے غم معلوم ہوتا ہے۔ غم کی اسی ہمہ جہتی کو بیان کرتے ہوئے غالب کہتے ہیں:
غم اگرچہ جانگسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
یعنی کوئی بھی شخص، چاہے وہ کسی بھی منصب اور مشرب کا حامل ہو، جان بوجھ کر غم کو گلے نہیں لگاتا۔ اصل میں انسان آنکھ کھولتے ہی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیائے امکانات میں پاتا ہے جس میں آزمائش اور امتحان کے کوہ گراں سے گزر کر ہی کامیابی اور کامرانی کی امید کی جاسکتی، اس لئے انسان کی سرشت میں ہی یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرے۔ اب ظاہر ہے کہ انسانی وجود میں دل ایک ایسی جگہ (تختی، لوح، کرسی) ہے جو ایک سپر یا ڈھال بن کر ایک طرف غم کو روکتا ہے تاکہ اس سے انسان کے قوی مضمحل نہ ہوں اور دوسری طرف دوران غم بھی کچھ اس طرح خوشی کا متلاشی رہتا ہے کہ انسانی دماغ پورے وجود کی اس طرح رہنمائی کرتا رہتا ہے تاکہ انسان امکانات کی دنیا میں سرگرداں بھی رہے اور سرگرم بھی۔ تاہم دنیا میں برسر عمل رہنے کے لئے ترجیحات کا انسانی وجود تعین کرتا ہے۔ اس لئے اگر وہ حس اخلاقیات یا حس جمالیات کی تسکین کے لئے میدان عشق کو اپنی جولانگاہ نہ بناتا تو اس کا رخ ضرور مادی جھمیلوں کی طرف ہوجاتا اور “تکاثر” (زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے) کی تمنا اسے اپنے عشق میں مبتلا کرہی دیتی۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ غالب کے معمولات زندگی روانی سے چل نہیں پارہے تھے۔ اس لئے ان کی حیات غموں کی آماجگاہ بن گئی تھی۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زندگی کی عام الجھنوں کو بھی غالب بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوں تاکہ اپنی غمناک شناخت کو قائم رکھ سکیں۔ کہتے ہیں:
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
یعنی جس رنج و غم کے تجربے سے غالب گزر رہے ہیں یا جن دکھوں کا تجربہ غالب کا معمول بن گیا ہے، ان سے غالب کے دشمن بھی ناواقف رہیں، یہی ٹھیک ہے۔ اس لئے غالب اپنے دشمن کو بھی یہ دعا دینے کے روادار نہیں ہیں کہ اس کو غالب کی زندگی ملے۔ ظاہر ہے کہ غالب کی زندگی ملنے کی صورت میں غالب کے غم بھی اس کی طرف منتقل ہوتے۔ ایسی دعا بہرحال خیرخواہی اور خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ دل سے نہیں نکل سکتی، اس لئے غالب اپنے دشمن کو ایسی دعا نہیں دینا چاہتے۔
اس کو غالب کا بڑا پن بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ رنج و غم کو اپنے تک محدود رکھ کے ان سے مسلسل محظوظ ہوتے رہنا چاہتے ہیں۔ چونکہ غم ان کے لئے نیا تجربہ ہے اور نہ کوئی عجیب معاملہ، اس لئے پوری ہستی کو ہی غالب ایک بچوں کا کھیل کہتے ہیں:
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
یعنی اندر کے حزن و ملال کے ساتھ ساتھ غالب اپنے ماحول کو بھی رنج و الم سے بھرا ہوا پاتے ہیں، اس لئے حادثات دنیا سے آپ کو وحشت ہوتی ہے اور نہ تعجب اور تحیر۔ غالب کے لئے ایسے حالات فقط معمولات ہیں، اس لئے ان سے خوش ہی ہوتے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جو لوگ محو تماشا ہوتے ہیں وہ سنجیدگی سے تقریبا” عاری ہوتے ہیں اور جو غالب جیسے حساس ہوتے ہیں وہ تماشے میں بھی کھو نہیں جاتے، بلکہ ایسے تماشوں سے بے غرض ہوتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔ اسی طرح کے معنی کو کسی نامعلوم عربی شاعر کا یہ شعر بھی بیان کرتا ہے:
کل ما ھو فی الکون وھم او خیال
او عکوس فی المرایا او ظلال
یعنی کائنات میں جو بھی ہے وہم و خیال معلوم ہوتا یا پھر آئینے میں عکس یا سائے! غالب نے بھی رنج و الم کے اپنے عام عنوان کے ساتھ ساتھ صوفیانہ تحیر اور فلسفیانہ تشکک کی خوب ترجمانی کی ہے۔ اس سلسلے میں غالب کا مشہور شعر ہے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
یعنی واجب الوجود خدا تو ہر صورت میں موجود تھا، ہے اور رہے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ خدا کی ازلیت اور ابدیت کا اظہار ہے۔ البتہ ممکن الوجود انسان کے لئے ایسا وقت ضرور تھا جب وہ کوئی قابل ذکر شئے (شیئا مذکورا) نہیں تھا۔ اس طرح وجود، موجود، عدم، ازل، ابد، قدم، حدث وغیرہ کی ان بحثوں میں انسان کو “ہونے” نے ہی الجھا دیا۔ ظاہر ہے کہ انسان کا “نہ ہونا” غالب کے مطابق ان الجھنوں کا پیشگی حل ہوسکتا تھا۔
اس طرح کی الجھن، بے قراری اور بے کیفی ایک ایسا درد ہے جس کا علاج ممکن ہے اور نہ افاقہ۔ اس لئے اس کے لئے کسی معالج کی ضرورت ہے اور نہ کسی دوا کی حاجت۔ شاید اسی لئے غالب کہتے ہیں کہ میرا درد جوں کا توں برقرار رہا کیونکہ اس نے شفایابی (جو ممکن تھی ہی نہیں) کے لئے کسی چیز کا سہارا نہیں لیا:
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
بات یہ ہے تو غالب کے لئے بڑے بڑے عجائبات بھی معمول کے ہی واقعات ہیں، کیونکہ ان سے غالب کے احوال و کوائف میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غالب مشہور تاریخی واقعات کو سچ مانکر بھی روز مرہ کے معاملات ہی قرار دیتے ہیں:
اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ غالب درد سے چھٹکارا نہیں چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ درد لیے لیے پھرنا کوئی خوش آئند بات ہے اور نہ ہی دوا دستیاب ہونے کے باوجود مریض غم اس سے اعراض برتے گا۔ تاہم کوئی حقیقی معالج ہو جس کی طرف شفایابی کی امید کے ساتھ رجوع کیا جائے۔ اس ضمن میں غالب کہتے ہیں:
ابن مریم ہواکرےکوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
غالب کو کبھی یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس کا درد شاید حقیقی درد نہیں ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے اس کے دل کو حقیقت میں درد ہی نہ ہو بلکہ فقط وہم ہو۔ ظاہر ہے کہ درد کا درماں تو ہوسکتا ہے، لیکن وہم کا کوئی علاج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دل کو ایک طرح سے ٹوک کر کہتے ہیں:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
تاہم غالب کی روداد غم کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ غم دو طرح کے ہوسکتے ہیں، ایک عام سطح کا غم جو ہر کسی کس لاحق ہوسکتا ہے اور دوسرا ایک خاص طرح کا غم جو صرف حساس طبیعتوں اور اہل دل کے لئے خاص ہوا کرتا ہے۔ اولالذکر غم کے علاج کے لئے غالب کہتے ہیں:
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
آخرالذکر غم کو اس آہ و فغاں سے سمجھا جاسکتا ہے جو بقول مولانا رومی “نے” کے “نالوں” سے ظاہر ہوتا ہے جب وہ “نیستاں” سے کٹ کر دور ہوجاتی ہے۔ چونکہ دنیا میں آکر انسان بھی اپنے مبداء سے دور ہوجاتا ہے، اس لئے اس کا مغموم ہونا بھی ایک فطری عمل ہے۔ اس طرح درد و الم کا علاج بھی یہی ہے کہ انسان اپنے اسی مبداء کی طرف رجوع کرے۔ اس طرح یہی فنا اس کے لئے بقا کا سامان کرسکتا ہے۔ چونکہ اسی سے انسان کے غموں کا مداوا ہوسکتا ہے، اس لئے غالب بھی یہی علاج تجویز کرتے ہیں:
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
(مضمون نگار گورنمنٹ ڈگری کالج کوکرناگ میں اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
(رابطہ: 9858471965)