فکرو فہم
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
عیدِ قربان مسلمانوں کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہمیں قربانی ایثار صبر اور اطاعت کا درس دیتا ہے۔ یہ صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، غرور اور نفس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا پیغام بھی ہے۔ اس مبارک دن کی اصل روح حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل فرمانبرداری میں پوشیدہ ہے۔ خاص طور پر اس واقعے میں والد اور بیٹے کے درمیان محبت اعتماد اور اطاعت کا ایسا سبق ملتا ہے جو آج کے معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے۔حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی عبادت اور اس کے پیغام کو پھیلانے میں گزاری۔ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نیک بیٹا حضرت اسماعیلؑ عطا فرمایا۔ حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری کا امتحان لینے کے لیے خواب میں حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردیں۔ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں اس لیے حضرت ابراہیمؑ نے اسے اللہ کا حکم سمجھا۔یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ ایک باپ کے لیے اپنے پیارے بیٹے کو قربان کرنا آسان نہیں ہوسکتا، لیکن حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت اسماعیلؑ نے نہایت ادب صبر اور فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیا’’اے میرے والد! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘یہ الفاظ صرف ایک بیٹے کی زبان سے ادا نہیں ہوئے بلکہ یہ والد کی اطاعت، اللہ کی رضا اور ایمان کی مضبوطی کی اعلیٰ مثال تھے۔ حضرت اسماعیلؑ نے نہ صرف اپنے والد کی بات مانی بلکہ خوشی سے اللہ کی رضا پر راضی ہوگئے۔ یہی وہ عظیم سبق ہے جو عیدِ قربان ہمیں دیتی ہے کہ اولاد کو اپنے والدین کی عزت اور فرمانبرداری کرنی چاہیے، خاص طور پر جب وہ نیکی اور بھلائی کا راستہ دکھائیں۔
آج کے دور میں اکثر نوجوان اپنے والدین کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ بعض اوقات معمولی اختلافات کی وجہ سے والدین سے بدتمیزی کی جاتی ہے ان کی نصیحتوں کو پرانا خیال سمجھا جاتا ہے اور ان کی خدمت سے غفلت برتی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام میں والدین کی اطاعت اور احترام کو بہت بڑی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔
عیدِ قربان کا پیغام یہی ہے کہ اگر حضرت اسماعیلؑ جیسے عظیم بیٹے اپنے والد کے حکم کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے والدین کی عزت خدمت اور فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ والدین ہماری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ وہ ہماری پرورش کرتے ہیں ہمیں تعلیم دیتے ہیں ہماری خوشیوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں۔ اس لیے ان کا احترام ہر اولاد پر فرض ہے۔والد کی فرمانبرداری صرف بات ماننے تک محدود نہیں بلکہ ان کے جذبات کا خیال رکھنا ان کی عزت کرنا ان کے تجربات سے سیکھنا اور مشکل وقت میں ان کا سہارا بننا بھی اس میں شامل ہے۔ ایک فرمانبردار بیٹا یا بیٹی نہ صرف اپنے والدین کے دل جیت لیتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کرتے ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے واقعے میں ایک اور اہم سبق قربانی کا جذبہ ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی بری عادتوں غرور، حسد جھوٹ اور نافرمانی کو ختم کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ایک انسان اپنے اندر عاجزی اطاعت اور احترام پیدا کرلے تو وہ حقیقی معنوں میں عیدِ قربان کی روح کو سمجھ سکتا ہے۔
آج معاشرے کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنے والدین کا ادب کریں ان کی خدمت کریں اور ان کے لیے باعثِ فخر بنیں۔ والدین کی دعائیں انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ جو اولاد اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے۔ عیدِ قربان ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے ذریعے ایمان صبر اطاعت اور والدین کی فرمانبرداری کا عظیم سبق دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اپنے والدین کی عزت کریں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں۔ یہی حقیقی کامیابی اور خوشی کا راستہ ہے۔
[email protected]
�����������������