اظہار خیال
جگت پرکاش نڈا
جن اوشدھی سستی بھی ،قابل اعتماد بھی ، صحت کی بات ، بچت کے ساتھ
کسی بھی ملک کی ترقی کا حقیقی پیمانہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کے شہریوں کو صحت جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی کتنی آسانی سے حاصل ہے۔ کئی دہائیوں تک ادویات کی زیادہ قیمتیں بھارت میں لاکھوں افراد کے لیے صحت اور علاج تک رسائی میں ایک بڑی مالی رکاوٹ بنی رہیں۔ اسی تناظر میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی)،جس کا مقصد برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمت پر معیاری جنیرک ادویات فراہم کرنا ہے ، نے عوامی صحت کے نظام میں موجود ایک اہم خلاء کو پُر کرتے ہوئے ایک مضبوط اور منظم تبدیلی کو ممکن بنایا ہے۔
عالمی سطح پر جنیرک ادویات قابلِ رسائی صحت کے نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 80 سے 90 فیصد نسخے جنیرک ادویات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان ادویات نے ضروری ادویات تک رسائی کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ جنیرک ادویات کی پیکجنگ، لیبلنگ اور غیر فعال اجزاء میں کچھ فرق ہو سکتا ہے، مگر تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ فرق ان کے علاج کی مؤثریت کو متاثر نہیں کرتا۔ مقدار، حفاظت، طاقت، معیار اور استعمال کے مقصد کے لحاظ سے یہ برانڈ نامی ادویات کے مساوی ہوتی ہیں اور انہی سخت پیداواری اور معیاری اسٹینڈرز کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔
پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) محض ادویات کی فروخت تک محدود ایک اقدام نہیں بلکہ یہ بھارت کے صحت کے نظام کو ساختی طور پر مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس حقیقت کی عکاسی، اس سال کے جن اوشدھی سپتاہ (ہفتہ) کے موضوع ‘‘ جن اوشدھی سستی بھی، قابل اعتماد بھی، صحت کی بات ، بچت کے ساتھ’’ سےبھی ہوتی ہے، جو لاکھوں استفادہ کنندگان کے احساسات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ 18,000 سے زائد جن اوشدھی کیندروں کے مسلسل پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کے ذریعے اس اسکیم نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ادویات مارکیٹ کی قیمتوں کے مقابلے میں 50 سے 80 فیصد تک کم قیمت پر دستیاب ہوں، جس سے مختلف سماجی و معاشی پس منظر رکھنے والے خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ علاقائی سروے سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ مستفید ہونے والے افراد ادویات تک بہتر رسائی اور کم خرچ ہونے پر خاصی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔
اس اسکیم کے وسیع دائرۂ کار کا اندازہ اس کے مصنوعات کے ذخیرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جن اوشدھی کے پاس 2,110 ادویات اور 315 جراحی مصنوعات پر مشتمل ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جو علاج کے 29 مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ فارماسیوٹیکلز اینڈ میڈیکل ڈیوائسز بیورو آف انڈیا (پی ایم بی آئی) کی براہِ راست نگرانی میں مصنوعات کے اس پورٹ فولیو میں توسیع ایک متحرک اور اعداد و شمار پر مبنی عمل ہے، جس میں مارکیٹ تجزیہ، متعلقہ فریقین کی شمولیت اور ایک مخصوص ماہر کمیٹی کی سخت نگرانی شامل ہوتی ہے، تاکہ یہ اسکیم ملک کی بدلتی ہوئی صحت کی ضروریات اور ادویاتی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ رہے۔مضبوط ضابطہ جاتی نگرانی کی بدولت بھارتی دوا ساز کمپنیاں دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر ابھری ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ اور یوروپی یونین جیسے سخت ضابطوں والے بازار بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ادویہ ساز کمپنیاں لاطینی امریکہ، افریقہ اور مشرقی یوروپ جیسے ابھرتے ہوئے بازاروں میں بھی اپنی موجودگی کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔
صنعت اب بایوسِملرز (حیاتی ادویات کے جنیرک متبادل) پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے اور پیچیدہ جنیرک اور خصوصی ادویات تیار کرنے کے لیے تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) میں زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہ دوراندیش اقدامات بھارت کو نہ صرف عالمی سطح پر ادویات کی تیاری کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں بلکہ سستی ادویات کے شعبے میں مستقبل کے ایک اختراعی رہنما کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔
معیار اور قیمت کے بارے میں ہونے والی بحث کبھی کبھار عوامی رائے کو متاثر کرتی ہے۔ پی ایم بی جے پی نے ایک کثیر سطحی معیار کی یقین دہانی کے نظام کے ذریعے اس تصور کو مؤثر طور پر ختم کر دیا ہے کہ کم قیمت کا مطلب معیار میں کمی ہے۔ ادویات ڈبلیو ایچ او-جی ایم پی سے تصدیق شدہ مینوفیکچررز سے حاصل کی جاتی ہیں، جو عالمی پیداواری معیارات کی پابندی کو یقینی بناتے ہیں۔ طریقۂ کار کے مطابق ہر دوا کی ہر کھیپ کو فارمیسی تک پہنچنے سے پہلے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) سے منظور شدہ لیبارٹریوں میں سخت جانچ کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہ ادویات ڈَرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہیں اور حفاظت و مؤثریت کے لحاظ سے برانڈڈ ادویات کے برابران کا معیار ہے ۔ معیار کو یقینی بنانے کے اس عمل میں خریداری سے پہلے کے محتاط آڈٹ اور خریداری کے بعد لیبارٹری ٹیسٹنگ شامل ہوتی ہے۔پی ایم بی آئی ، جو اس پریوجنا کو نافذ کرنے والا ادارہ ہے، ادویات کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی اور آڈٹ کرتا ہے تاکہ طے شدہ ضابطوں سے کسی بھی قسم کی انحراف نہ ہو۔
آئی ٹی سے مربوط تقسیم کا نظام، جسے ملک بھر میں پانچ جدید گوداموں اور 41 خصوصی ڈسٹری بیوٹرز کی مدد حاصل ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سپلائی چین کسی بھی رکاوٹ کے باوجود مضبوط اور مستحکم رہے۔
رسائی، معیار اور سستی- ان تین بنیادی ستونوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پی ایم بی آئی نے لاکھوں افراد کے طبی اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے۔ مسلسل ادارہ جاتی حمایت، بڑھتی ہوئی عوامی آگاہی اور بنیادی ڈھانچے میں مزید بہتری کے ساتھ ہر ضلع میں ایک جن اوشدھی کیندر قائم کرنے کا خواب اب دور کی بات نہیں رہا بلکہ تیزی سے حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
“وکست بھارت @2047” کے وژن کے تحت ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ سب کے لیے مضبوط، منصفانہ اور سستا صحت کا نظام قائم کیا جائے۔ اس میں بہتر اسپتال، کم طبی اخراجات، علاج تک آسان رسائی اور سستی ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ مختلف شعبوں کے باہمی تعاون سے پی ایم بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ درست ادارہ جاتی وژن کے ساتھ صحت کی سہولیات اعلیٰ معیار کی اور سب کے لیے قابلِ رسائی ہو سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ یہ پریوجنا ترقی کے اپنے سفر کو جاری رکھے اور سستی صحت کی سہولیات کے ایک عالمی ماڈل کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھے۔
(مضمون نگار صحت و خاندانی بہبود اور کیمیاوی و کھاد کے مرکزی وزیر ہیں)