سہیل سالمؔ
بقول مظہرا مام:”میرے نزدیک حامدی کشمیری کی پہلی شناخت ایک تنقید نگار کی ہے لیکن خود ان کی رائے اس سے مختلف ہے۔ان کا خیال ہے کہ وہ پہلے شاعر ہیں پھر تنقیدنگار۔بہر حال اپنی جگہ یہ حقیت ہے کہ وہ بحیثیت ناقد بھی انفر ادیت اور امتیاز رکھتے ہیں اور بحیثیت شاعر بھی”( بحوالہ شیرازہ حامدی کاشمیری نمبرص۔۰۳)
نام حبیب اللہ ہے۔حامدی تخلص کرتے ہیں۔ ۲۹ جنوری ۱۹۳۲میں سرینگر کے شہر خاص علاقے بہوری کدل میں پیدا ہوئے۔حامدی کاشمیری نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا اور برصغیرکے معروف رسائل و جرائد میں مسلسل شائع ہوتے رہے۔پھر انھوں نے شاعری کے میدان میں قدم رکھ کر شہ زور کا شمیری ؔکی صحبت اختیار کر کے ان سے سے چند تخلیقات پر اصلاح لینا شروع کی۔اب تک ان کے کئی شعری مجموعے اردو دنیا میں متعارف ہوچکے ہیں جن کے نام عروس تمنا،نایافت،لاحرف،شاخ زعفران اور وادی امکان اور یک شہر گماں ہیں۔حامدی کاشمیری کی شاعری پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے کے بعد بعد ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اس نے اپنے شعری اسلوب کو کلاسکیت سے تراشا ،رومانیت سے زینت ،درد و غم اور حقیقت پسندی سے تاثیر،جوش اور ولولے سے دھڑکن اور مقامی روایت رنگ و روپ سے زندگی کے گلستان میں بہار کی فضا قائم کی ہے۔ زبان وبیان کی میٹھاس اور ترنم لہجے نے ان کی شاعری کو ایک نئی جلا بخشی ہے ۔
حامدی کاشمیری اپنے احساسات و جدبات کو کس مخصوص دئراے میں قید نہیں کرتے ہیں پھر چاہے وہ غزلیہ مضامین ہوں یا اپنے وجود کے کرب کا ذکر ہویا پھر شہر آشوب کی سرحدوںکا اظہار ،حامدی نے متنوع مضامین کو غزلوں کا روپ دے کر نادر تشبہات و استعارات کے ساتھ برتنے کی فن کارانہ مہارت کا ثبوت دے دیا ہے۔ رومانی فضا اور حسن و عشق کے ساتھ ساتھ حامدی نے پنے آس پاس کی اداس نسلوں کے دکھ دور درد کو سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے۔جنہیں سماج کی ہر راہ پر ڈر اور خوف دکھائی دے رہا ہے۔جہاں سماج کا فرد سانس تولے رہا ہے لیکن خوف کے ڈرسے زندگی کے ا متحان میں ناکامیاب ہوتا ہے۔سماج سے ڈرنا اور سماجی کی خستہ حالی کا غم جب روح میں غم گھر کرتا ہے تو زندگی جنہم کا روپ دھار لیتے ہے ایسے میں زندگی خودکشی سی لگتی ہے۔ایسی شاعری پھردل کا شہر آشوب بن کر سماج کی باطنی صورت حال کی عکسی کرتی ہے ۔ بقول حامدی کاشمیری
کسی کے حسن تصو ر کی خیر ہو یارب
میں کھیلتاہوں غم زیست کے شراروں سے
ازل سے حامدی پرور دہ بہارہوں میں
خزاں سے کہہ دو ہے نسبت مجھے بہاروں سے
حامدی کاشمیری نے جہاں قومی مسائل کو بھی اپنی نظموں میں پرویا ہے وہی مقامیت کے رنگوں سے اپنی شاعری کو سنوارا بھی ہے۔کشمیر کے ماضی ،حال اور مستقبل کی المناکی کو قبل ازوقت ہی محسوس کرتے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کو خوبصورتی کے ساتھ منصہ شہود پر لایا ہے۔ کشمیر کے موسموں سے کبھی دوری اختیار نہیں کی بلکہ ہمیشہ کہساروں اور بیابانوں میں موسم بہار کا انتظار کرتے رہے ہیں۔حامدی صاحب کے ہاں کشمیریت اور کشمیری ثقافت اپنے جوبن پر نظر آتی ہے۔ اور جب کبھی موسموں کی سازش سے اچانک برف باری شروع ہو جاتی ہے تو ایسا محسو س ہوتا ہے کہ جنت بے نظیر کو ہرے بھر ے پتوں کا لباس اتار کر کفن پہنایا جاتاہے ۔
دبستان کشمیر میں حامدی کاشمیری کی شخصیت ایک تاریخ ساز شخصیت کی نشانی ہیں۔حامدی کاشمیری کی عظمت اور ان کی کتاب ”اکتشافی تنقید کی شعریات”کی اہمیت آج بھی ادبی دینا میں زندہ جاویدہے۔ وزیر آغا، قمر رئیس ،شمس الرحمن فاروقی ،گوپی چند نارنگ،مظہر امام ،ستیہ پال آنند اور عتیق اللہ کی نظر میں’ اکتشافی تنقید کی شعریات”حامدی صاحب کی ادبی و علمی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ ہے۔جس کا مطالعہ ہر اس ناقد کے لیے لازمی ہے جو تحقق وتنقید اور ادبی تھیوری کے میدان میں دلچسپی رکھتا ہو۔حامدی کاشمیری نے اکتشافی تنقید کے اصول و ضوابط کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے تب کہیں جاکر وہ ادبی حلقوں میں موضوع بحث بن کر ہمارے سامنے آئی ہے۔حامدی صاحب کے قابل رشک کارناموں میں”ناصر کاظمی کی شاعری”،”غالب جہاں دیگر”،”کارگہہ شیشہ گری”،”آئینہ ادراک”اور ”افسانے اور تجزیے”خاص اہمیت کے حامل ہیں۔اس کام کو حامدی کاشمیری نے جس محنت شاقہ اور دلچسپی سے انجام دیا ہے ،وہ ادب کے طالب علموں کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ”اردو شعر ادب میں کشمیر کا حصہ’ میں حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:”یہ زبان ملک کے دوسرے حصوں میں بھی تہذیبی زندگی کی گہرائیوں میں اپنی جڑیں پھیلا چکی ہے اور مادری زبان کے بعد مروج اور مقبول ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان مقامی خصوصیات اور اثرات کے تحت اظہار کا وسیلہ بن چکی ہے اور ان علاقوں میں اردو ادب کے ذخیرے میں بربر اضافہ ہورہا ہے۔کشمیر میں اس دور میں کئی ادیب اور شاعر ہیں جو پورے اعتماد و انہماک سے اس زبان میں لکھ رہے ہیں اور ان کی تحریروں میں جو رچائو پختگی اور روانی ہے وہ اردو سے ان کے مزاج کی مناسبت اور تخلیقی فکرسے ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے یہ کہنا غلط نہیں کہ کشمیر کے اردو ادیبوں اور شاعروں نے شعر وادب کے ارتقا میں اپنا رول ادا کیا ہے اور خاص طور پراپنے علاقے کی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کے کئی پہلوئوں کو فنی شعور کے ساتھ اجاگر کیا ہے اور اس کا اعتراف اردو کے اچھے نقاد بھی کر کرہے ہیں۔‘‘(آجکل جنوری۔1969)
حامدی کاشمیری نے فکشن کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ وادی کے پھول1957 ،سراب1959، برف میں آگ1961 اور شہرافسوں 2009ان کے یہ چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آگئے ہیں۔ حامدی نے اپنے افسانوں میں زندگی کے تلخ حقائق،رشتوں کی قدریں ،پرانی اور نئی تہذیبوں کے تصادم کو اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔چناروں کی اداسی ،برف زاروں کی آگ ،بیابانوں کا خوف ،جھیل ڈل کا پاگل پن اور آس پاسی کی بستیوں کی ویرانی کو کس فنکارانہ چابکدستی سے پیش کرتے ہیں۔افسانہ”بنو کھڑکی” کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:”یہ کالونی جیسے جاگتے لوگوں کی بستی نہیں ہے یہاں کے لوگ پتھریلے سائے ہیں،یہ شہر خاموشاں ہے،یہاں اس کی روح کی چیخیں کون سنے گا پتھروں کے اس حسی شہر میں وہ تنہا اکیلی جان ہے لیکن اس کی سانس گھٹ رہی ہے۔اس کا سینہ پھٹ رہا ہے”اپنے ٹھنڈے وجود کو’’ برف کی آگ ‘‘سے گر م رکھنے والا’’ شہر افسوں‘‘ کا یہ بے باک تخلیق کار27 دسمبر2018 کو اس دارالفانی سے کوچ کر نے کے بعد بھی آج کو ہ سبزہ میں اان کی آوازیں گونج رہی ہیں۔
(رابطہ۔9103654553)