خواجہ عزیزالحسن مجذوب ؔؒ ۱۲ جون ۱۸۸۴ء بمطابق ۱۶ شعبان ۱۳۰۱ھ بروز بدھوار پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام خواجہ عزیز اﷲ تھا جو پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے ۔خواجہ صاحب نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا۔ گھر کے دینی ماحول اور والد محترم کی تربیت سے یوینورسٹی میں بھی اسلامی وضع قطع کے پورے پابند رہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ جس عہدہ پر بھی پہنچے گا اس عہدہ کے معیار کو بلند کر دے گا ۔اسی زمانہ میں مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے تعلق پیدا کیا اور پھر یہ تعلق عمر بھر رہا ۔اسی زمانے سے شعر بھی فرمانے لگے ۔پہلے حسنؔ تخلص کیا اور بعد میں مجذوب ؔ ۔ابتداء ً ڈپٹی کلیکٹری کے عہدے پر مامور ہوئے اور سات برس تک اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ڈپٹی انسپکٹر تعلیم کے عہدے پر تبادلہ کرا لیا ۔حکومت نے آپ کی بلند شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے ؔ’’خان صاحب ‘‘کا خطاب عطا کیا اور پھر ’’خان بہادر ‘‘کا ۔انسپکٹری سے پنشن ہونے کے بعد اکثر وقت خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون میں گذارا۔تھانوی صاحبؒ سے ان کی عقیدت کس درجہ کی تھی اس کا اندازہ ان ہی کے اس ارشاد سے ہو تی ہے کہ:’’الحمدﷲ سب سے بڑاشرف جو احقر کو بفضلہ تعالیٰ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت اشرف المخلوقات علیہ و التحیات جیسے اشرف الرسل کی امت مسلمہ میں ہوں اور حضرت اشرف الزمن جیسے اشرف المشائخ کے ارادت مندوں سے ہوں ‘‘شعری پیرایہ میں بھی جگہ جگہ تھانوی صاحب ؒسے اپنی عقیدت کا اظہار والہانہ طور پر کرتے ہیں مثلاً یہ چند اشعار ؎
ہے احد معبود اپنا اور نبی خیرا لوریٰ
شیخ بھی ہے قطب دوراں میں تو اس قابل نہ تھا
میں نظرکر دہ ہوں اُ س پیر مغاں کا صوفیو جس کے دل کی سر زمین ذرہ ذرہ طور ہے ۔ا ٓخر کار گلستان عالم میں ایک مدت تک نغمہ ٔ سرائی کرنے کے بعد ۱۷ اگست ۱۹۴۴ء یہ بلبل چمنستان ِ اشرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ۔مجذوب ؒ کی شکل و صورت یعنی قد دراز چہرے پہ سفید مگر گھنی داڑھی ،سر پر پنج کلیا سفید ٹوپی ،جاذب نظر شرعی کرتہ پایٔجامہ سے ہر ایک کو لگتا تھا کہ یا تو یہ کسی دارالعلو م کا مولوی ہے یا کسی مسجد کا امام و خطیب ٗلیکن اس وضع قطع کے اندر ایک پختہ کار شاعر بساتھا ۔عزیز الحسن مجذوب ؒ کے عارفانہ کلام کا دیوان بنام’’ کشکولِ مجذوب ‘‘پہلی دفعہ ۱۹۵۰ء میں جب شائع ہوا تو اس کا اس قدر چرچا ہوا کہ کئی دوسرے شعرا ء نے قطعہ تاریخ ِ تدوینِ کشکولِ مجذوب لکھا ۔ دیوان کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سچ ثابت ہوجاتی ہے کہ پورا کلام ’’کلام محبت ‘‘کے سوا کچھ بھی نہیں۔صاحب قال لوگوں کے لئے شاید اس میں کوئی شراب الست نہیں لیکن صاحب ِ حال اور معارف و واردات کے جوئندگان و طالبان کے لئے یہ عرفان کا بیش بہا سرمایہ ہے ۔خواجہ صاحب نے اردو کی مشہور اصناف ِشعر یعنی غزل ،حمد، نعت،نظم وغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے اور ہر ایک صنف سخن میں عرفانیات کا دریا بہایا ہے ۔ان کے کلام میں سوز و گداز بھی ہے اور جذب و شوق بھی ،محبت الٰہی کی بھی داستان ہے اور محبت شیخ میں دیوانہ ہونے کا بیان بھی ۔ان کی شاعری کا ایک ایک شعر حقائق و بصیرت سے اس درجہ پُر ہے کہ شاعری نہیں بلکہ الہام معلوم ہو تی ہے ؎
یہ حقائق ، یہ معانی،یہ روانی یہ اثر
شاعری تیری ہے اے مجذوب یا الہام ہے
خواجہ صاحب حلقۂ شعراء میں اس قدر مشہور تھے کہ ہر ایک ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔آل انڈیا اردو مشاعرے ان کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے۔ ایک دفعہ دہلی میں آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ۔اس مشاعرے میں ملک کے بلند پایہ شاعر ہی مدعو کئے گئے ۔خواجہ مجذوبؔ کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا لیکن انہوں نے عذر لکھ بھیجا کہ اب ان کی طبیعت شعر وشاعری میں نہیں لگتی۔ ناظم مشاعرہ نے پھر خط لکھا کہ آپ کا آنا بہت ضروری ہے اور آپ کی شرکت کے بغیر مشاعرہ نامکمل رہ جائے گا ۔ خواجہ صاحب نے جواب میں یہ قطعہ لکھ بھیجا ؎
چھوڑ مینا و جام کی باتیں
اب ہوں پیری میں کام کی باتیں
دن کی باتوں کا اب یہ وقت نہیں
شام ہے اب ہوں شا م کی باتیں
ناظم مشاعرہ خودبھی شاعر تھے، انہوں نے جواب میں پھر اصرارکا ایک لمبا خط لکھااور اسی زمیں میں ایک نظم تحریر کی جس کے چند اشعار یوں ہیں ؎
کیوں ہوں مینا و جام کی باتیں
کیجئے آکے کام کی باتیں آئیے
لوگ سننا چاہتے ہیں
ایک شرین کلام کی باتیں
آپ بزم عوام میں آکر
کیجئے اپنے مقام کی باتیں
ایک دفعہ سالانہ آل انڈیا مشاعرے میں ہی جب ان کو تقریباً رات کے دو بجے دعوت کلام دے دی گئی تو سامعین ان کے ظاہر کر دیکھ کر ہنس دئے ۔سفید داڑھی ،شرعی کرتہ پائجامہ اور اس پہ سفید براق سا اچکن ،کسی نے آواز دی ’’یہ مسجد نہیں ہے ‘‘ کسی دوسرے ظریف الطبع نے نشستوں کے پچھلی طرف اذان دینا شروع کر دی ۔ایک مسخرے نے ہانک لگائی ’’غلط جگہ آگئے حضرت ‘‘۔خواجہ صاحب نے ان سب باتوں کو نظر انداز کیا اور اپنے مسحور کن آواز میں ایک غزل کا مطلع پیش کیا تو ایک دم سناٹا چھا گیا، پہلے ہی شعر پر مکرر مکرر کی صدائیں گونجنے لگی ۔پھر ایک ایک شعر کو دس دس دفعہ پڑھایا گیا جب غزل ختم ہوئی تو’’ ایک اور غزل‘‘کی صدائیں ہر طرف سے گونجنے لگی یہاں تک کہ خواجہ صاحب اذان فجر تک غزلیں سناتے رہے ؎
جذب میں جب غزل پڑھی مقطع سے رہ گئی تہی
بزم کی بزم چیخ اُٹھی رُک نہ ابھی سنا ئے جا
مجذوبؔ کی ایک ایک غزل پچاسوں اشعاروں پر مشتمل ہے ۔دراصل آمد اس طرح کی ہوتی تھی کہ قلم کو لکھنے کے لئے انتظا ر نہیںکرنا پڑتا بلکہ آمد ِمضمون کو انتظار میں رہنا پڑتا چنانچہ ایک جگہ خود فرماتے ہیں۔غزل میں جب پچاسوں اشعار ہوں تو ضرور ہر شعر عمدہ نہیں ہو گا یہی ان کے غزل کے ساتھ بھی ہوا چنانچہ شوکت تھانوی صاحب اپنے مضمون ’’شیش محل ‘‘میں ان کی غزلوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:’’خواجہ صاحب بہت ہی عمدہ کہتے ہیں اور نہایت ہی کیف کے ساتھ پڑھتے ہیں مگر کسی غزل میں اڑھائی سو اشعار سے کم نہیں کہتے اور پھر انتخاب نہیں کر سکتے کہتے چلے جاتے ہیں اور پھر کہہ چکنے کے بعد سناتے چلے جاتے ہیں ۔اشعار کے ان انباروں میں اچھے برے سبھی قسم کے شعر ہوتے ہیں مگر اچھے زیادہ اور معمولی کم ۔۔۔۔۔‘‘
خواجہ صاحب صرف غزل کے شہنشاہ نہیں تھے بلکہ انہوں نے صنف ِنظم میں بھی قلم کے جوہر دکھلائے ہیں ۔ان کی نظمیں خاصا طویل ہیں مگر پڑھتے جاؤ اور سر دھنتے جاؤ اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ۔طوالت کی وجہ سے ان کی غزلیں اتنی مقبول نہیں ہوئیں جتنی ان کی نظمیں مقبول عام ہوئیں جس نے بھی ان کی نظم پڑھی وہ خراج تحسین پیش کرنے کے بغیر نہیں رہا ۔انہوں نے ملتِ خوابیدہ کو بیدار کرنے اور انہیں عمل صالح پر ُابھارنے کے لئے ایک طرح کی ہلچل برپا کی ۔مراقبہ موت ،درسِ عبرت ،پیغامِ بیداری ،مسٹر اور ملا کی نوک جھونک ،مسلم کی بیداری ،اسلامی سہرا وغیرہ ان کی مقبول نظمیں ہیں ۔ ’’مراقبہ موت‘‘ مسدس ہئیت میں انتالیس بندوں پر مشتمل ایک ایسی نظم ہے جو نہ صرف موت کو یاد دلاتی ہے بلکہ آخرت پر یقین رکھنے والے قارئین کو موت کی تیاری کرنے کے لئے بھی اُبھارتی ہے ۔موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔نبیوں اور ولیوں نے بھی اس کا سامنا کیا ہے یہ پیر و جوان شاہ و گدا کی تمیز بھی نہیں رکھتی لیکن کامیاب و کامران وہی لوگ ہیں جو آخرت کی تیاری کر کے اس دارِفانی سے رخصت ہو گئے یہی اس نظم کا مرکزی خیال بھی ہے ۔ ’’اصلی گھر‘‘نام سے بھی یہ نظم بہت مشہور ہوئی ہے ؎
دار دنیا کی سجاوٹ پر نہ جا
نیکیوں سے اپنا اصلی گھر سجا
پھر وہاں بس چین کی بنسی بجا
اِنَّہٗ قَدْ فَازَ فَوْزاََ مَنْ نَجَا
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخرت موت ہے
’’درس عبرت ‘‘ بھی ایک ایسی نظم ہے جو سینکڑوں لوگوں کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ بنی ہے ۔اس نظم کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ دنیا جی لگانے کے قابل نہیں بلکہ عبرت کی جگہ ہے ۔ مسدس ہئیت میں تیرہ بندوں پر یہ خوبصورت اور بصیرت افروز نظم جب عالم اسلام کے مشہور داعیوں خاص طور پر مولانا طارق جمیل اور حافظ ذولفقار احمد نقشبندی کی زبان سے لاکھوں سامعین کے سامنے ایک مخصوص اور درد بھرے لہجے میں ادا ہوتی ہے تو لوگ عالم اسباب کو بھول کر عالم حقیقی میں پہنچ جاتے ہیں ۔اس نظم کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیے ؎
تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلا
جوانی نے پھر تجھ کو مجنون بنایا
بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
مجذوبؔ نے اگر چہ ہر قسم کی شاعری کی ہے لیکن اصل میں وہ اپنے کلام سے خدا کی محبت و عظمت دلوں میں جاگزین کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ انعام الرحمن تھانوی فرماتے ہیں :’’ تعلق مع اﷲ ہی صالح فکر و عمل کی بنیاد اور انسانی درد و مصائب کا مداوا ہے اور اسی کی تلقین پر ان کا تمام کلام مشتمل ہے وہ ظاہر میں عشق و محبت اور دوسری ہر قسم کی شاعری فرماتے ہیں مگر اصل میں ان کے پیش نظر دعوت حق ہے اور وہ اپنے عارفانہ کلام سے خدائے قدوس جل مجدہ ٗ کی محبت و عظمت کے زریں آثار قلوب میں جاگزیں کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔اردو شاعری کوکچھ ایسے مشہورو معروف شاعر بھی ملے ہیں جنہوں نے کچھ وقت تک سخن دانی کر کے اس کو بعد میں چھوڑنا چاہا لیکن اساتذہ یا یار دوستوں کے اسرار پر سخن دانی کی مشق جاری رکھی اس سلسلے میں علامہ اقبال ؒ کی مثال دی جاسکتی ہے ۔ مجذوب ؔ کی زندگی میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب وہ شاعری کو خیرباد کرنا چاہتے تھے ۔ اس کی انہوں نے خود دو وجہیں بتا ئیں ہیں ایک یہ کہ اب مجذوب ؔ وہ مجذوبؔ نہیں رہا جو تھانوی صاحب ؒ کی صحبت میں آنے سے پہلے تھا ۔ اب تو وہ باضابطہ کسی کی نگا ہ میں تھے اس لئے وہ اپنا قیمتی وقت شعر و شاعری میں ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ نگاہِ ولی نے مجذوبؔ کی تقدیر کیا بدلی کہ اس کا دل حقیقت سے آشنا ہو گیا ۔مجذوب ؔحضرت تھانوی ؒ کی صحبت میں آکر ایک ایسی دنیا میں آگئے تھے جہاں ہر وقت معرفت کی مے پلائی جاتی تھی اور جس نے ایک دفعہ بھی اس شراب ِطہورکو مُنہ لگایا وہ زندگی بھردنیا کی لذتوں کو چھوڑ کر اُسی کا ہوگیا ۔ شاعری چھوڑنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ جن کے لئے وہ شاعری کرتا تھا وہ اب نہیں رہے تھے ۔ مجذوبؔ کی شاعری کے قدر دان خاص وعام تھے یہی تو وجہ تھی کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مشاعروں میں انہیں دعوت سخن دی جاتی تھی لیکن ان کی شاعری کے خاص قدردانوں میں ان ہی کے مرشد حضرت اشرف علی تھانوی صاحب ؒ تھے اس کا اندازہ آپ تھانوی صاحب ؒ کے اس بیان سے کر سکتے ہیں :
’’خواجہ صاحب کا کلام حال ہی حال ہے ، قال کا نام نہیں کیوں کہ قال میں یہ اثر ہونا ناممکن ہے ‘‘ایک دفعہ حضرت حکیم الامت نے خواجہ صاحب سے فرمایا کہ آپ کا ایک شعر مجھے اتنا پسند ہے کہ میرے پاس اگر ایک لاکھ روپیہ ہوتا تو میں آپ کو اس شعر کے انعام کے طور دے دیتا ۔جب یہ شعر میری زبان پر آتا ہے تو میں کم سے کم تین دفعہ تو ضرور پڑھتاہوں شعر یہ ہے ؎
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
……………………….
موبائیل نمبر: +919622706839
ای میل: [email protected]