سرینگر// محکمہ جل شکتی(پی ایچ ای) کے عارضی ملازمین نے عالمی یوم آب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب اس دن کو منانے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور دوسری جانب عارضی ملازمین کا مستقبل تاریک بنایا جا رہا ہے۔کشمیر پی ایچ ای جوائنٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدرسجاد احمد پرے نے عالمی یوم آب کے موقعہ پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جموں کشمیر میں عالمی یوم آب پر جنوب و شمال میں تقاریب کا اہتمام کیا جا رہا ہیں اور ان تقاریب پر کروڑوں روپے صرف کئے جاتے ہیں وہیں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ محکمہ آب(جل شکتی) کے ملازمین کو ضروری ساز و سامان اور اوزاروںکی قلت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو اب وردیاں بھی فراہم نہیں کیجارہی ہیں۔پرے نے کہا کہ عالمی یوم آب منانا ایک اچھا قدم ہے،تاہم اس کے منتظمین اور افسران کو ان عارضی ملازمین کے بارے میں بھی فکر کرنی چاہے تھیں،جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس محکمہ کی خدمت میں گزاری۔ سجاد پرے نے کہا’’ نامساعد موسمی حالات اور دیگر صورتحال کے بیچ بھی عارضی ملازمین نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ہمیشہ صف اول پر عوامی خدمات کو سرانجام دیا تاہم ان کے مستقبل کو ہی تاریک بنایا جا رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنی قیمتیں اراضی فلٹریشن پلانٹوں اور ریزروائیروں کے قیام کیلئے دی اور کچھ لوگوں نے اپنی جوانی،تاہم حکام ان کی جانب پشت کر رہے ہیں،اور انکے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔پرے نے عالمی یوم آب پر لوگوں کو اس قیمتی و انمول شے کی قدر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کفایت شعاری سے پانی کا استعمال کریں اور اسکا بے جا استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔