دنیا کے ہر سماج و تہذیب میں زبان اپنی شناخت اور ساخت کی وجہ سے ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔ مواصلاتی نظام ہو یاسماجی انضمام، تعلیم و ترقی ہو یا تجارتی لوازمات، اِس نے زندگی کے ہر گوشے تک رسائی حاصل کی ہے۔ اگرخالق ِ کائنات نے انسان کو اشرف المخلوق کے شرف سے نوزا ہے تو زبان اس مخلوقیت کے تقاضے پر کھرا اترنے کے لئے پائے دان کا کام کرتی ہے۔ زبان انسانی جذبات ،احساسات، اور تعلقات کو ظاہر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ دنیا میں سات ہزار سے زائدزبانیں بولی جاتی ہیں لیکن ان میں سے دوہزار ایسی زبانیں ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد صرف ایک سے دو ہزار افراد تک ہی سمٹ گئی ہے۔پانچ ہزار ایسی زبانیں ہیں جن کو مادری زبان کا درجہ حاصل توہے لیکن دن بہ دن اپنا وجود کھونے کے زمرے میں شامل ہو رہی ہیں۔ iونیسکو کے لسانی نقشے کے مطابق ہر سال دنیا کی کئی زبانیں خصوصاً مادری زبانیں معدودہورہی ہیں۔ان زبانوں کے معدوم ہونے کے باعث ہم بہت سارے سماجی، ثقافتی اطلاعاتی ، اور روشن مستقبل کے مواقع کھو رہے ہیں۔ یہاں یہ بات کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ زبان کی ترقی و ترویج اور اس کی زندگی کا انحصاراس کے بولنے اور لکھنے والوں پر ہوتا ہے اور رسم الخط اس کی پہچان اورشناخت کا ضامن ہوتا ہے۔
اس بات کا تقریباًہم سب کو علم ہے کہ انسان کے حافظے اور یاداشت تک رسائی صرف اور صرف زبان سے ہی ہوتی ہے۔ اس زبان سے میری مراد مادری زبان ہے۔ وہ زبان جس میں ماں اپنے بچے کو لوری سناتی ہے، بولنا سکھاتی ہے، بچہ اپنی تہذیب وتمدن کو جان جاتا ہے۔ اپنی تہذیب اور ثقافت کا ہر پنہ شعور اور تحت الشعور میں تحریر کرتا ہے۔ مادری زبان کی تعریف سورج کی طرح تابناک اور واضح ہے۔ڈاکٹر حسن رضا صاحب کے مطابق انسان شعور اور تحت الشعور کا سفر مادری زبان کی قیادت میں ہی کرتا ہے کیونکہ مادری زبان انسان کی فطرت و جبلت کا جزولانیفک ہوتی ہے۔مادری زبان انسان کی فطرت میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اس کی لسانی اور سائنٹفک اہمیت اظہر من الشمس ہے۔اس کی ترقی و ترویج ایک قوم کی ترقی کی ضامن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم دانشوروں، مفکروں ، ماہر ِ لسانیات اور سائنس دانوں نے مادری زبان کو انسانی غورو فکر اور ذریعہ اظہار کا ایک اہم، کامیاب اور صحت مند وسیلہ ٹھہرایا ہے۔
ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتی ہے۔بچے کی تعلیم و تربیت میں مادری زبان کو ہی اہمیت دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام ماہرین ِ تعلیم نے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لئے مادری زبان استعمال کرنے پر ہی زور دیا ہے۔ سائنسی ماہرین کے مطابق مادری زبان بچوں کو بے شمار ذہنی اورجسمانی امراض سے بچاتی ہے۔ ان کی پرورش میں مادری زبان ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک مادری زبان پرزور دے رہے ہیںجس کی مثالیں ہمیں چین، روس اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ملتی ہیں جہاں ثانوی درجے تک کی تعلیم مادری زبان میں ہی دی جاتی ہے۔ اور اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ان ممالک کی ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے ۔
انہی حقائق کو اُجاگر کرنے کے لئے پوری دنیا میںہر سال کل یعنی21 فروری کو مادری زبان کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن کوئی عام دن نہیںبلکہ ایک تواریخی حیثیت کاحامل ہے ۔ اسی دن بنگالی زبان کو مادری زبان کا درجہ دلانے کی خاطر1952میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے چار طلباء مارے گئے تھے۔ اور یوں اس دن کا آغاز بنگلہ دیش کی جدوجہد سے ہوا۔ اس دن کی تصدیق اور منظوری اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1999میں دے دی جس کے بعد 2000سے اس کو با ضابطہ طور پر ہر سال منایا جا رہا ہے۔ اور اسی کے پس منظر میں2008کو زبانوں کا عالمی سال بھی قرار دیا گیا۔
زبان کے تعلق سے کسی دن کو مخصوص کیا جائے اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اس زبان کی سمت رفتار کا جائزہ لیا جائے اوراسکے فروغ کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے۔لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کو ابھی فرنگی پھندے سے آزاد ہی نہیں کر پائے ہیں۔ ہم اب تک انگریزی کو ہی ترقی کا سبب ٹھہراتے ہیں ۔اور اس ظاہری فیشن کی جھکڑ نے ہمارے معاشرے کی صورتحال ہی بدل ڈالی ہے۔ اگرچہ مادری زبان متفقہ طور پر ذہنی نشو نما کی بنیاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس ہم نے اپنی مادری زبان ’کشمیری‘ کو بالائے تاک رکھا ہوا ہے ۔ یہ زبان کوئی نئی زبان نہیں بلکہ اس کی تواریخ سات سو سال پرانی ہے ۔ داردک زبانوں میں یہ واحد ایک زبان ہے جس کی ایک منفرد پہچان اور ادب ہے۔یہ وہ زبان ہے جو نند ریشی ،شمس فقیر اور لل عارفہ جیسی شخصیات کی صوفی شاعری سے مالا مال ہے، جس میں شتی کنٹھ، حبہ خاتون اور رُسل میر کے عشقیہ کلام کی فراوانی ہے، جس میں مہجور اور زندا کول کی ندائیں شامل ہیں۔یہ وہ زبان ہے جس میں بلا مذہب و ملت زندگی کا فلسفہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یہ صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک سماج کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک رسم الخط ہی نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے۔
لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ ہم اس سماج کی اصلیت سے کوسوں دور آچکے ہیں ۔ آج ہم اس خوش فہمی میں رہ رہے ہیں کہ سمیناروں، مشاعروں اور لسانیاتی پروگراموں سے ہی ہماری مادری زبان کی ترقی ممکن ہے لیکن اپنا محاسبہ کرنا ہم کو کبھی گواراہی نہیں ہوتا کہ یہ زبان ہمارے گھروں سے بے دخل ہو رہی ہے۔ ہماری فرنگی سوچ نے اس کا جنازہ تو بہت پہلے ہمارے گھروں سے نکالا ہے۔ اگر والدین کی یہ سوچ ہے کہ انکے بچے انگریزی سیکھ کر ترقی کی بلندیوں میں پرواز کریں گے اور مادری زبان کی بول چال اس ترقی میں روک ڈال سکتی ہے تو وہ خوابِ غفلت میں رہ رہے ہیں۔ایک بچے کی کامیابی کا راز مادری زبان کی تعلیم میں ہی چھُپا ہے۔ مادری زبان کی بدولت نہ صرف وہ دوسری زبانوں کو بلکہ بیشتر علوم و فنون کو بھی آسانی سے سیکھ سکتا ہے اور اپنی علمی و سماجی زندگی کا سفر احسن طریقے سے گذار سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کشمیری زبان سے بالکل ناواقف ہو رہی ہے۔اس میں ان معصوموں کی کوئی غلطی ہی نہیں!! ہم تو اپنی بناوٹی شان بان کی خاطر ان سے یہ ورثہ چھین رہے ہیں۔ان کے ادبی اور ثقافتی ورثے کی کھلم کھلا لوٹ ہو رہی ہے۔ شائد ہم اس بات سے بے خبر ہیںکہ یہ لوٹ آگے چل کر ایک سماجی ناسور کی شکل اختیار کر لے گی۔ ایک ایسی صورتحال جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ایسے حالات جن کو ہم نے خود دعوت دی ہے ۔مستقبل میں ہماری نئی نسلیں ہمارا دامن ضرور پکڑیں گی۔ہم سے ایک دن ضرور یہ سوال ہوں گے کہ انکا وجود کیا ہے؟ انکا ادب کیا ہے؟ انکی ثقافت کیا ہے؟ ان کا ورثہ کیا ہے؟لیکن وقت تب بہت دور نکل چکاہوگا۔
اگرچہ ثانوی درجے تک سرکار نے کشمیری زبان کو نصاب میں شامل کیا ہے لیکن وہاں پر اس کے تدریسی عملے کے فقدان نے اس کی حالت اور بدتر کر رکھی ہے۔کسی جگہ ماہرین ِ سائنس اس مضمون میں طبع آزمائی کر رہے ہیں تو کہیں ریاضی کے اساتذہ اپنے جمع اور تفریق کے فن کو کشمیری املاء پر آزمانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور اس طرح کشمیری پڑھانے کا عمل ان تجربوں کی نذرہوتا رہا۔ حالانکہ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ بھی نہیں کہ اس کا حل ناممکن ہو ۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں کشمیری پڑھانے والوں کی بالکل بھی کمی نہیں۔ سینکڑوں ایسے نوجوان جو اس ادب میںپوسٹ گریجویشن اور پی۔ ایچ ۔ ڈی کر چکے ہیں ،حالات کی ٹھوکریں کھا رہیں ہیں ۔ احساسِ کم تری ان کے نفس کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھوکھلاکر رہا ہے۔ ان کے تئیں اس سرد روئیے کی وجہ سے کالج سطح پرلوگ اب اس مضمون کو لینا پسند ہی نہیں کرتے اور دن بہ دن یہ سلسلہ گھٹتا جا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس زبان کے رسائل و جرائد اور کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد نا کے برابر ہو رہی ہے۔کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے کہ کسی بھی زبان کے پڑھنے اور بولنے والوں کی تعداد کم ہوتے ہی اس کی تحریریں فروخت ہونا گھٹ جاتی ہیں۔جو اس کے فروغ میں رکاوٹ کا باعث ضرور بنتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیری کو مادری زبان ماننے والے زبانی دعوئوں سے پرہیز کریں اور سرکاری مراعات کا رونا چھوڑ کر اس کے تئیں اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیں۔ تاکہ آنے والے وقت میں ہم کو اس زبان کے زوال کا رونا نہ رونا پڑے۔
پتہ۔برنٹی، اننت ناگ کشمیر
موبائل۔9906705778
ای میل۔[email protected]