یو این آئی
لاس اینجلس /فٹ بال کی دنیا میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب رواں سال ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کرنے والی ٹیموں سمیت 13 ممالک نے یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفرین کے اس مبینہ بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے توسیعی ٹورنامنٹ کے کچھ میچوں کو “مکمل طور پر غیر دلچسپ” قرار دیا تھا۔اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں ان 13 فٹ بال ایسوسی ایشنز نے جن میں پہلی بار ورلڈ کپ کا حصہ بننے والے ممالک کیپ ورڈے، کیوراساؤ اور ازبکستان بھی شامل ہیں،نے سیفرین کے تبصرے کو “احترام کے ساتھ لیکن سختی سے” مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ یوئیفا سربراہ کا یہ انٹرویو سلووینیا کے ایک مقامی اخبار ڈیلو میں شائع ہوا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ “ہمارے ممالک کے لئے ورلڈ کپ کا کوئی بھی میچ غیر اہم نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کہ یہ میچز کسی نہ کسی طرح کم اہمیت کے حامل ہیں، انتہائی مایوس کن ہے۔ یہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں، کوچز، کلبوں، فٹ بال رہنماؤں اور شائقین کی محنت، قربانیوں اور امنگوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔”رواں سال ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل مبینہ طور پر دیے گئے ایک بیان میں الیگزینڈر سیفرین نے کہا تھا کہ ٹیموں کی تعداد میں اس بڑے اضافے سے ٹورنامنٹ کے معیار پر اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا”ہمارے پاس اب ایسے بہت سے میچز ہوں گے جو مکمل طور پر غیر دلچسپ ہیں۔”تاہم، سلووینیا کے ایک اور میڈیا ادارے کے مطابق، سیفرین نے اپنے بیان کا دوسرا رخ پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا۔”دوسری طرف، اس فیصلے سے چھوٹے ممالک کو بھی ورلڈ کپ کا حصہ بننے اور اس کے سحر کو محسوس کرنے کا موقع ملے گا، جو کہ ایک بڑی بات ہے۔”احتجاج کرنے والی ٹیموں نے اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی ہر قوم عزت کی حقدار ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہر ٹیم نے اپنی محنت اور میرٹ کے بل بوتے پر ورلڈ کپ میں جگہ بنائی ہے۔اس احتجاجی بیان پر دستخط کرنے والے دیگر بڑے ممالک میں مراکش، الجزائر،تیونس، مصر، گھانا، سینیگال، آئیوری کوسٹ، جنوبی افریقہ، جمہوریہ کانگو،ہیتی کے فٹبال فٹ بال فیڈریشنز شامل ہیں۔