یواین آئی
دھرم شالہ/ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا پہلا مقابلہ 13 جون کو دھرم شالہ میں کھیلا جائے گا، جہاں ایک جانب نئی قیادت کے تحت میدان میں اترنے والی ہندوستانی ٹیم ہوگی، جبکہ دوسری جانب اسپن بولنگ پر انحصار کرنے والی پُراعتماد افغان ٹیم چیلنج پیش کرے گی۔ہندوستانی ٹیم کے کپتان شبھمن گل ہوں گے ۔ سینئر کھلاڑی وراٹ کوہلی، روہت شرما اور ہاردک پانڈیا انجری کے باعث دستیاب نہیں ہیں، جس کے سبب نوجوان کھلاڑیوں کو خود کو ثابت کرنے کا اہم موقع ملے گا۔بیٹنگ لائن اپ میں یشسوی جیسوال، ایشان کشن، شریاس ایئر اور تجربہ کار کے ایل راہل پر بڑی ذمہ داری ہوگی۔ راہل وکٹ کیپر کے فرائض بھی انجام دیں گے اور درمیانی اوورز میں ٹیم کو استحکام فراہم کرنے کی کوشش کریں گے ۔ نچلے مڈل آرڈر میں نتیش کمار ریڈی اور واشنگٹن سندر سے آل راؤنڈ کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے ۔گیند بازی کے شعبے میں، ہندوستان کی زیادہ تر امیدیں ارشدیپ سنگھ اور پرسدھ کرشنا پر ٹکی ہوں گی تاکہ وہ شروعاتی اوورز میں وکٹیں دلا سکیں، جبکہ کلدیپ یادو مڈل اوورز کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔
ہاردک پانڈیا کی غیر موجودگی نے ہندوستان کے پارٹ ٹائم اور نئے آل راؤنڈرز پر ذمہ داری مزید بڑھا دی ہے ۔واضح رہے کہ افغانستان کے دورۂ ہندوستان 2026 کا یہ پہلا ون ڈے میچ کل ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، دھرم شالہ میں کھیلا جائے گا۔دوسری جانب افغانستان ایک متوازن اور منظم ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گا۔ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کی اسپن بولنگ ہے ، جس کی قیادت عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر راشد خان کریں گے ۔ ان کے ساتھ تجربہ کار محمد نبی اور فارم میں موجود عظمت اللہ عمرزئی بھی ٹیم کو مضبوطی فراہم کریں گے ۔ عظمت اللہ عمرزئی کی حالیہ آل راؤنڈ فارم ٹیم کو مزید گہرائی فراہم کرتی ہے ، جو افغانستان کو دونوں اننگز میں مسلسل دباؤ بنائے رکھنے کے قابل بناتی ہے ۔ٹاپ آرڈر میں رحمن اللہ گرباز اور ابراہیم زدران سے جارحانہ شروعات کی توقع ہے ، جبکہ صدیق اللہ اٹل اور رحمت شاہ مڈل آرڈر کو استحکام فراہم کریں گے ۔ فضل حق فاروقی نئے گیند کے ساتھ تیز رفتار حملے کی قیادت کریں گے اور دھرم شالہ کے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شروعاتی سوئنگ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم کی پچ کے بارے میں امید ہے کہ یہ شروعات میں تیز گیند بازوں کو مدد فراہم کرے گی اور بعد میں بلے بازوں کے لیے سازگار ہو جائے گی۔ دھرم شالہ کی وکٹ سے ابتدائی اوورز میں تیز گیند بازوں کو مدد ملنے کا امکان ہے ، تاہم بعد میں بیٹنگ آسان ہو سکتی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور 280 سے 300 رنز کے درمیان رہتا ہے ۔ دوسری اننگز میں شبنم بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے ، اس لیے ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے گیند بازی کو ترجیح دے سکتی ہے ۔اگرچہ گھریلو حالات اور مضبوط بینچ اسٹرینتھ کی وجہ سے ہندوستان کو پسندیدہ ٹیم قرار دیا جا رہا ہے ، لیکن محدود اوورز کی کرکٹ میں افغانستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ اور اس کا مضبوط اسپن اٹیک اس مقابلے کو یکطرفہ نہیں ہونے دے گا۔ کرکٹ شائقین ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں، جہاں ہندوستان کی نئی نسل اور افغانستان کی منجھی ہوئی ٹیم آمنے سامنے ہوں گی۔
دونوں ٹیمیں درج ذیل ہیں:
ہندوستان:
شبمن گل (کپتان)، یشسوی جیسوال، کے ایل راہل (وکٹ کیپر)، کلدیپ یادو، نتیش کمار ریڈی، پرسدھ کرشنا، شریاس ایّر، روہت شرما، ہاردک پانڈیا، واشنگٹن سندر، ہرش دوبے ، ایشان کشن (وکٹ کیپر)، ارشدیپ سنگھ، گرنور برار، پرنس یادو۔
افغانستان:
حشمت اللہ شاہدی (کپتان)، صدیق اللہ اٹل، رحمن اللہ گرباز (وکٹ کیپر)، اکرام علی یل (وکٹ کیپر)، عظمت اللہ عمرزئی، بلال سمیع، ننگیالیہ خاروٹی، فرید احمد ملک، اے ایم غضنفر، محمد نبی، راشد خان، درویش رسولی، ابراہیم زدران، ضیاء الرحمن شریفی، رحمت شاہ۔