ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
تعلیم انسانوں کے درمیان ہر لحاظ سے امتیازی شناخت بخشنے کا ذریعہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہر فرد کے لیے بلا تفریق جنس، حصول تعلیم کے ذرائع آسان ہوں۔ ۱۴ سال کی عمر تک بلا تفریق صنف اور مذہب، حصول تعلیم کے مفت اور لازمی تعلیم کے لیے (Free and Compulsory Education) کو رکھا گیا ہے، تاہم اعلی تعلیم کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اعلیٰ تعلیم سے مراد کسی بھی قسم کی ثانوی تعلیم کے بعدقانوی سطح پر دی جانے والی ایسی تعلیم جو باضابطہ ترتیب دئے گئے نصاب کے ساتھ ایک مخصوص مدت کے لئے دی جاتی ہے، اسے ہائر ایجو کیشن (Higher Education) اور اعلی تعلیم کہتے ہیں۔ اس میں کسی بھی شعبے کی بیچلر اور ماسٹر ڈگری یا ٹیکنالوجی کے ڈپلومہ کورس کو شامل کیا جاتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کالج، یونیورسٹی، گریجویٹ اسکول، جونئیر کالجز، پروفیشنل اسکولز اور ڈگری دینے والے ادارے شامل کیے جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم ہندوستان میں خواتین کے امپاور ہونے میں سب سے اہم رول ادا کرتی ہے۔ اقتصادی تحفظ، مواقع، سماجی، سیاسی و اقتصادی نظام کا حصہ بننے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ ثقافتی اور روایتی اقدارکی بقا میں بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون بہتر رول ادا کر سکتی ہے۔
لڑکیوں کی اعلی تعلیم سماجی تبدیلی کی ضمانت: ۔ سماجی تبدیلی کی رفتار کو تیز تر کرنے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کا طبقہ بہتر رول ادا کر سکتا ہے ۔ صنفی تفریق کا انصاف کی بنیاد پر خاتمہ اور صنفی مساوات کا انصاف پر مبنی فروغ اعلیٰ تعلیم ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ پورے خاندان پر ایک عورت سے بہتر کوئی اثر انداز نہیں ہوتا۔عورت کی تعلیم اور شعور و آگاہی پورے خاندان کے لیے فریم کا کام انجام دیتی ہے۔
بحیثیت ماں، تعلیم یافتہ عورت کا اپنے بچوں کی تعلیمی ضرورت کو ترجیح دینا، ان کے مزاج کے مطابق سبجیکٹ کے انتخاب، ان کے تعلیمی رجحان اور میلان کو سمجھنے میں خاطر خواہ تعاون کے لیے مستعد رہتی ہے۔ اس کی زندہ مثال انقلاب ایران کی ہے۔ ایران میں آبادی کا مسئلہ در پیش تھا اور خامنہ ای کے سامنے آبادی سے متعلق اسلامی اصول کے پیش نظر آبادی کے کنٹرول کا اعلان ناممکن تھا۔ یہ حل بہتر لگا کہ خواتین کی اعلی تعلیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر خاتون اپنے خاندان کی تعلیم ، روزگار اور معیار زندگی پر ذاتی فیصلہ لے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ بچوں کی تعلیم، معیشت، معیار زندگی کا تصور، سماجی سرگرمیوں میں فعالیت، سیاسی و اقتصادی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی گرفت میں خاندان کی باگ ڈور ہو تو اثرات بھی مثبت پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ خواتین بہتر معیار زندگی کو سپورٹ کرنے میں بہترین رول ادا کرتی ہیں۔ اس کی مثال بھی انقلاب ایران کی بنیاد میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو یقینی بنانے کا اقدام اہم ہے۔
خاندان کے معیار زندگی کی ضمانت : ۔ اعلی تعلیم یافتہ عورت بچوں کی صحت ، غذائیت اور تعلیم کا بہتر خیال رکھ سکتی ہے۔ نہ صرف وہ، بلکہ اس کے بچے اور پورا خاندان ہی سماجی تبدیلی کا فعال کردار ثابت ہوتے ہیں۔ معاشی کامیابی کا دارو مدار بھی بہت حد تک اعلیٰ تعلیم میں مضمر ہے۔
ملک کی سیاسی اور اقتصادی ترقی: ۔ملک کی ترقی پر غور و خوص کرنے والے دانشوران کے پاس خواتین کے سیاسی حقوق پر بحث سر فہرست ہے۔ جمہوری نظام میں آبادی کانصف حصہ خواتین ہیں۔ نصف آبادی کے سیاسی شعور اور ووٹ کاسٹ کرنے پر گفتگو جاری ہے ۔ خواتین کا سیاسی شعور نہ صرف یہ کہ ووٹ کے لیے ضروری ہے، بلکہ شفاف اور مبنی بر انصاف سیاست میں خواتین کی باضابطہ لیڈر شپ کے لیے بھی لازم ہے۔ ورنہ ہر شعبے کی طرح اس میں بھی خواتین کا مرد کا ضمیمہ بن کر استعمال ہونا، سیاسی محاذ پر پورےملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ قدیم وروایتی تصور کو دور ترقی میں رد کر دیا گیا اور خواتین کی ذہانت اور فعال رول کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ حکومتی ایجنسیز میں بھی خواتین کی شرکت کو نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ پالیسی سازی میں، سول سروسز میں ، ایجنسیز کے تعاون کے لیے شرکت، براہ راست یا بالواسطہ ، رسمی یا غیر رسمی ہو سکتی ہے۔ یہ کام سیاسی، سماجی یا انتظامی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ معاشی، تعلیمی خواندگی کے فروغ، نیز عوام میں رائے دہی کی گیرائی پیدا کرنے کا عمل بھی خواتین کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا رہین منت ہے۔
و و من امپاورمنٹ : ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے طریقوں اور ذرائع کو تیز کرنے میں اعلیٰ تعلیم کا بڑا دخل ہے۔ خواتین کو با اختیار بنانا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ دنیا بھر میں کئی رسمی اور غیر رسمی مہمات میں خواتین کو بااختیار بنانے کا تصور پیش کیا گیا۔ ۱۹۸۵ء میں ناروے میں خواتین کی بین الا قوامی کانفرنس میں تعلیم یافتہ خواتین کو با اختیار بنانے کا سنگ میل تسلیم کیا گیا۔ کیوں کہ یہ انھیں چیلنجوں کا جواب دینے ، اپنے روایتی کردار کا مقابلہ کرنے اور اپنی زندگی کو بدلنے کے قابل بناتی ہے۔ ہم . خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
لڑکیوں کی اعلی تعلیم میں اضافہ : ۔گزشتہ چند سالوں سے بھارت میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے تناسب میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجو کیشن (AISHE) کے مطابق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی ان سالوں کے دوران بڑھی ہے۔ ۲۰۱۲- ۲۰۱۳ کے درمیان۲۱ء۵ فی صدی سے ۲۰۱۹- ۲۰۲۰ میں اء۲۷ فی صدی ہو گئی۔ مردوں کی آبادی کے لیے جمی ای آر ۲۲ء۷ فی صدی (۲۰۱۲-۲۰۱۳) سے۲۶ء۹فی صدی (۲۰۱۹-۲۰۲۰)۔ خواتین کی آبادی کے لیے ۲۰ء۱ فی صدی (۲۰۱۲- ۲۰۱۳) سے بڑھ کر ۲۷ء۳فی صدی (۲۰۲۰-۲۰۱۹) ہو گیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کا مقصد ۲۰۳۵ تک کل GER (بشمول پیشہ ورانہ تعلیم ) کو ۵۰ فیصد تک بڑھانا ہے۔
ہندوستان کے تمام شہریوں کا تعلیم حاصل کرنا ، آئینی حق ہے۔ آئین نہ صرف یہ کہ ضمانت دیتا ہے بلکہ انڈین ایجو کیشن کمیشن ۱۹۶۴ء اور نیشنل سفارشات تعلیم پالیسی ۱۹۶۸ء نے اعلیٰ تعلیم کی ذمہ داری مرکزی حکومت کو سونپ دی۔ یکے بعد دیگرے ترمیمات میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا معیار روز افزوں بڑھتا رہا ہے۔
مضمون کے لحاظ سے اندراج : ۔ ۲۰۱۹ – ۲۰۲۰ میں، انڈر گریجویٹ سطح پر سب سے زیادہ تعداد میں طلبہ نے آرٹس، ہیومینٹیز اور سوشل سائنسز کے کورسز میں داخلہ لیا ، جو ۳۲ء۷ فیصد ہے۔ اس کے بعد سائنس میں ۱۶ فیصد، کامرس میں۱۴ء۹فیصد اور انجینئرنگ میں ۱۲ء۶فیصد۔ AISHE رپورٹ کے مطابق’’ پوسٹ گریجویٹ سطح پر ، سوشل سائنس اسٹریم میں سب سے زیادہ طلبہ نے داخلہ لیا، جس میں سائنس دوسرے نمبر پر رہی۔ پی ایچ ڈی کی سطح پر ، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے سلسلے میں سب سے زیادہ طلبہ داخلہ لیتے ہیں، اس کے بعد سائنس۔ پچھلے پانچ سالوں میں پی ایچ ڈی کے امیدواروں کی تعداد میں بھی ۶۰فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘‘ تعلیم رمیش پوکھرانے نے ’نشنگ ‘سروے جاری کیا۔ وزارت تعلیم کے ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ رپورٹ ملک میں گیا اعلیٰ تعلیم کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اہم کار کر دگی کے اشارے فراہم کرتی ہے۔‘‘
سال ۲۰۰۰ کا ہندوستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام، دنیا کے بڑے نظاموں میں سے ایک ہے۔ یہ کالجوں پر مشتمل ہے۔ یونیورسٹیاں، قومی اہمیت کے ادارے (جیسے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس وغیرہ) اور خود مختار ادارے جیسے ڈیمنڈ یونیورسٹیاں وغیرہ۔ ۲۰۰۲۔۲۰۰۳ میں ملک میں ۳۰۰ یونیورسٹیاں قائم تھیں، جن میں سے ۱۸۳ صوبائی، ۱۸ وفاقی ، اے ڈیمنڈ یونیورسٹیاں، ۵ مرکزی اور ۵ ریاستوں کے ذریعے قائم کی گئیں۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کی رکاوٹیں اور سماجی سطح پر کیے جانے والے اقدامات : ۔قومی تعلیمی پالیسی (NEP) ۲۰۲۰ کا مقصد ۲۰۳۵ تک کل GER بشمول پیشه و ورانہ تعلیم کو ۵۰ فیصد تک بڑھانا ہے۔ اس راہ میں کچھ چیلنجز بھی ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ہدف کو سہل بنائے جانے کے باوجود ملک کی دیہی آبادی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ذرائع کی کمی یا دیگر سماجی روایات کے اثرات کی وجہ سے خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں۔ اس سلسلے میں بیداری مہم کی اب بھی ضرورت ہے۔ ایسے مقامات پر نیشنل اور انٹر نیشل یونیورسٹی کے فاصلاتی نظام کو از سر نو متعارف کروانے کی ضرورت ہے ۔ فاصلاتی تعلیم میں جدید کورسیز بڑھانے کی رفتار کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ا۔ عموماً نوجوان نسل (بشمول لڑکیاں) کے لیے تیز رفتار ٹیکنالوجی کے دور میں ضروریات زندگی کی تکمیل کی غرض سے ڈپلوما کورسز / ووکیشنل ڈپلوما / فری لانس کی مخصوص مہارت یا گریجویشن کے بعد روزگار حاصل کرنا، ضرورت بن چکا ہے۔ اس لیے اعلیٰ تعلیم کو خیر باد کرنا ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ ملک کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے ہر کمیونٹی کی خواتین کو اعلی تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے پر توجہ دینا از حد ضروری ہے۔
۲۔بعض طلبہ معاشی کمزوری کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کی فیس ادا نہیں کر پاتے ہیں اور ہائر ایجو کیشن کا خیال چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو پوسٹ گریجویشن اسکالر شپ اسکیم سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
۳۔ بعض تجزیہ نگاروں نے قصبے اور دیہات سے لڑکیوں کا اعلیٰ تعلیم کے لیے ہجرت کو عیب سمجھنا بھی تعلیم ترک کرنے کی وجہ بتائی ہے۔ ایسی طالبات کو فاصلاتی تعلیم سے متعارف کروا کر اس ہدف کو تکمیل تک پہنچانے میں معاون بن سکتا ہے۔
۴۔بعض تجزیہ نگاروں نے لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کو مزاحمت بتایا ہے۔ جب کہ شادی کے بعد بھی اعلی تعلیم کو جاری رکھنے کے مزاج کو ہر دو صنف کے لیے رواج دیا جاسکتا ہے۔ جہاں ہر شعبے میں سماجی تبدیلی ممکن ہے، اس تصور کو بھی معمول بننا چاہیے۔
نئی تعلیمی پالیسی میں فراہم کی گئی سہولیات اور نئی یو نیور سٹیز کے قیام اور مستحکم بنانے کی پالیسی سے امید ہے کہ اس راہ میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔
(مضمون نگارہ ،ھادیہ ای میگزین میں بحیثیت ایڈیٹر فرائض انجام دے رہی ہیں)
طالبات کے اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھتے قدم