ڈاکٹر عریف جامعی
ربّ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کرکے اسے اپنی دیگر مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ انسان کو یہ فضیلت کسی ایک خاص شعبے میں حاصل نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر میدان میں اسے اس فضیلت سے نوازا گیا ہے۔ ایک طرف اسے بہترین ساخت (احسن التقویم، التین، ۴) دیکر اسے جمال عطا کیا گیا ہے، تو دوسری طرف عقل و شعور عطا کرکے اس کے لئے تسخیر کائنات کی راہیں ہموار کی گئی ہیں۔ ان تمام صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو اشیاء اور تصورات کا حسن و قبح جانچنے کے لئے حسِ اخلاق سے نوازا گیا ہے۔ اسی حس کی بدولت انسان عقل اور جمالیات کے دائروں کو بھی مزین کر پاتا ہے۔
اسلامی عبادات کا پورا ڈھانچہ دراصل حسِ اخلاق کے ذریعے ہی انسانی زندگی کو ترتیب دیتا ہے، تاکہ انسانی عقل شترِ بے مہار بنے اور نہ ہی انسان کا حسِ جمال اسے دنیائے فانی کی نزاکتوں میں مصروف رکھے۔ انسانی عقل کی تربیت اور اس کے ذوقِ جمال کی افزائش کے لئے کائنات کی مختلف اکائیاں اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ تاہم اخلاق کی نشوونما کے لئے انسانی معاشرے میں بننے والے انسانی رشتے سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں ہی انسان ایک دوسرے پر عدل یا ظلم کرکے اپنی حیثیت متعین کرتے ہیں۔ معاشرے میں ہی انسان حلم کا مظاہرہ کرتا ہے، یا پھر تندخُو بن کر دوسروں کے لئے اذیت کا سامان کرتا ہے۔ معاشرہ ہی انسان کے لئے ایسے مواقع پیدا کرتا ہے جن کے ذریعے انسان کہیں صبر کا مظاہرہ کرکے بناؤ کا کام کرتا ہے، یا پھر بے صبری سے کام لیکر بگاڑ کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ معاشرہ ہی انسان کو یا تو حق کا حامی بناتا ہے، جس سے حق کا بول بالا ہوتا ہے، یا پھر انسان باطل کا پیروکار بن کر حق پر چلنے کی راہیں مسدود کرتا ہے۔
فضائل اور رذائل کی اس کشمکش میں یا سادہ تر الفاظ میں رزم گاہِ حق و باطل میں صومِ رمضان مؤمن کو اس بات کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ حق کا علمبردار بننے کے لئے اپنی تربیت کرے۔ ظاہر ہے کہ بندۂ مؤمن کو اصل میں ’’محارِم‘‘ سے ہی اجتناب کرنا ہوتا ہے، لیکن تربیت کی خاطر اسے رمضان کے دوران ’’حلال‘‘ اعمال اور اشیاء سے بھی کنارہ کش ہونا پڑتا ہے۔ غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ’’مقررہ اوقات میں حلال اعمال اور اشیاء سے رکنے‘‘ کے پیچھے یہی ترتیب کی حکمت کار فرما ہوتی ہے۔ یہ بات نہایت ہی دلچسپ ہے کہ صوم کے معنی ہی ’’احتراز و اجتناب اور خاموشی‘‘ کے ہیں۔ امام راغب کے مطابق: ’’صوم کے اصل معنی کسی کام سے رک جانے کے ہیں، خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو یا بات چیت کرنے اور چلنے پھرنے سے ہو۔‘‘واضح رہے کہ اگلی شریعتوں میں ’’کلام سے رکنا‘‘ بھی روزہ کی ایک قسم سمجھی جاتی تھی۔ حضرت مریم ؑ کا مسیح ؑکی پیدائش کے بعد اپنی قوم کو یوں خطاب کرنا کہ ’’میں نے اللہ رحمٰن کے نام کا روزہ مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی،‘‘ (مریم، ۲۶) اس قسم کے روزہ کا بین ثبوت ہے۔
صوفیاء کرام کے قلتِ کلام، قلتِ طعام، قلتِ منام اور قلتِ اختلاط مع الانام والے اصول میں بھی یہی حکمت کار فرما ہے کہ انسان کو زندگی کے سطحی مسائل سے اوپر اٹھایا جائے اور اسے اعلیٰ حقائق سے روشناس کرایا جائے۔ ان اصولوں کی پاسداری سے ہی یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ انسان سادہ زندگی گزارتے ہوئے اعلی سوچ کا حامل بن جائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان فقط تعیش اور تنعم کا شکار ہوکر زندگی کے اصل مقصد سے دور ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں انسان کی وہی حالت ہوگی جسے قرآن نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے: ’’یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔ پھر اسے نیچوں سے نیچا کردیا۔‘‘ (التین، ۴ـ۵) قرآن نے انسان کے اس رویے کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: ’’زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جاپہنچے۔‘‘(التکاثر، ۱۔٢)
صوم دراصل انسان کے مجموعی رویے کو منضبط کرنے کی ایک مشق کام نام ہے۔ صوم انسان کو کس طرح بامقصد بناتا ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لئے عرب کے اس گھوڑے کو دیکھنا پڑے گا جسے وہ چھاپہ مار کارروائیوں کے لئے خصوصی طور پر تیار کرتے تھے۔ اس قسم کے مخصوص گھوڑے، جسے وہ کئی کئی دنوں تک چلچلاتی دھوپ میں بھوکا پیاسا رکھتے تھے، کو وہ ’’خَیلٌ صائمٌ‘‘ (روزہ دار گھوڑا) کہتے تھے، جبکہ ایسا گھوڑا جو اس قسم کی تربیت سے نہیں گزرتا تھا، اسے وہ ’’غَیرُ صائمۃٍ‘‘ (چارہ کھانے والا گھوڑا) کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی ترتیب یافتہ گھوڑے کو قرآن میں اس بات پر گواہ بنایا گیا ہے کہ ’’انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا‘‘ہے۔ (العٰدیٰت، ۱۔۶)
واضح ہوا کہ رمضان المبارک میں صوم کی تربیت سے گزار کر ہی انسان کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے، اور اس تربیت سے تمام پیغمبران کرام ؑ کی امتیں گزاری گئی ہیں۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر (صوم) فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘(البقرہ، ۱۸۳) اب جہاں تک تقویٰ کا معاملہ ہے، تو یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسان کی زندگی کو با مقصد بناکر اس کو آخرت رخی بناتا ہے۔ اس طرح انسان کے اندر ربّانیت کی ایسی خُو پیدا ہوتی ہے کہ وہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے۔ چونکہ اس ماہ میں انسان صبر کے رنگ میں رنگ جاتا ہے، اس لئے اس مہینے کو ’’شَھرُ الصّبر‘‘ (یعنی صبر کا مہینہ) بھی کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان دوسروں کا بہت زیادہ خیال کرنے لگتا ہے، اس لئے رمضان المبارک کو ’’شَھرُ المواسات‘‘ (یعنی ہمدردی کا مہینہ) بھی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات نہایت ہی دلچسپ ہے کہ قرآن بھی انسان میں بنیادی طور پر یہی خوبیاں پیدا کرنا چاہتا ہے، اس لئے صومِ رمضان قرآن کے نزول کا ایک بڑا مقصد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خوبیاں تقویٰ کے جلو میں ہی پنپ پاتی ہیں، اس لئے قرآن کا اعلان ہے: ’’الم، اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں، متقین کو راہ دکھانے والی ہے۔‘‘(البقرہ، ۱۔۲)
صوم کے ذریعے انسان اپنے اندر فضائل اخلاق کی کچھ اس طرح نشوونما کرتا ہے کہ وہ سراپا رب تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ خدا کی کبریائی بیان کرنا ہی اب اس کا امتیاز بن جاتا ہے، کیونکہ انسان سحری سے افطار تک اور رات کی تنہائیوں میں قیام کے دوران تکبیر باری کرتا رہتا ہے۔ تاہم قولاً ہی نہیں بلکہ فعلاً بھی خدا کی کبریائی اسے عاجزی اور فروتنی کا مجسمہ بنا دیتی ہے۔ ایسے انسان کی تصویر قرآن کے ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے: ’’رحمٰن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے (الجھ جاتے) مخاطب ہوتے ہیں، تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔‘‘ (الفرقان، ۶۳)
خدائے رحمٰن نے اپنے انہی بندوں کے لئے رمضان المبارک میں ایک ایسی رات کا اہتمام فرمایا ہے جس میں وہ خدا کی رحمت اور مغفرت کو سمیٹنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگرچہ بندۂ مؤمن پورا رمضان المبارک خدا کی خاص عبادت (صوم) میں گزارتا ہے، لیکن اس رات کو وہ بیدار رہکر ’’ان لمحات‘‘ کو تلاش کرنے کی سعی کرتا ہے جن میں خدا کا آخری ہدایت نامہ (قرآن) خدا کے آخری نبیؐ پر نازل (ہونا شروع) ہوا۔ یہاں اس بات کا اعادہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ قرآن کے نزول کی حکمت، نزول کے مہینے کو صوم کے لئے مختص کرنے کا مقصد اور نزول قرآن کے مخصوص لمحات (لیلتہ القدر) کو توبہ و استغفار میں گزارنے کی غرض و غایت ایک ہی ہے، یعنی خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ہدایت کا انتظام کرنے کے لئے خدا کا شکر بجا لانا اور اس کی کبریائی کے نغموں سے اپنی زبان کو تر رکھنا۔ قرآن نے نزول قرآن، صوم اور لیلتہ القدر کے آپسی تعلق کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے: ’’وہ (اللہ) چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔‘‘ (البقرہ، ۱۸۵)
اب جہاں تک لیلتہ القدر میں شب بیداری کا تعلق ہے، تو اس عمل میں انسان کی روحانی تسکین کا کافی سامان رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ انسان ایک معاشرتی وجود (سوشل بیئنگ) ہے، لیکن اس کا وجود تنہائی پسند بھی واقع ہوا ہے۔ انسانی شخصیت کے اسی پہلو نے اسے معاشرے سے کنارہ کش ہونے پر ابھارا ہے اور اسے جنگلوں بیابانوں اور غاروں گپھاؤں کی طرف راغب کیا ہے۔ تاہم دینِ مبین نے انسان کو معاشرے سے مکمل طور پر لاتعلق ہونے سے روکا تو ہے، لیکن انسان کی اس جبلّت کو مکمل طور پر کچلا نہیں ہے۔ اس کے برعکس انسان کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ اس جبلّت کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر کرے۔ انہی فوائد کو حاصل کرنے کے لئے بندۂ مؤمن کو اعتکاف کرنا سکھایا گیا ہے۔ انسان کی فکری، نظری اور روحانی بالیدگی کے لئے اعتکاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابو الانبیاء، سیدنا ابراھیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ خانۂ کعبہ کو ’’اعتکاف کرنے والوں‘‘کے لئے پاک صاف رکھیں: ’’ہم نے ابراھیمؑ اور اسماعیلؑ سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔‘‘(البقرہ، ۱۲۵) یوں محسوس ہوتا ہے کہ اعتکاف کے دوران ہی بندۂ مؤمن پر وہ کیفیت طاری ہوتی ہے، جس کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے: ’’اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘ (البقرہ، ۱۳۸)
خدا کی عبادت کے اسی رنگ میں رنگ کر بندۂ مؤمن تیس دن ہر غروبِ آفتاب کے وقت افطار کرتے کرتے اب بڑے افطار، یعنی عیدالفطر کو رب تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ یعنی قرآن کے ذریعے ہدایت یاب ہونے پر اس کا شکر بجا لانے کے لئے عیدگاہ میں قدم رکھتا ہے۔ مسلسل تیس دن “حدود آشنائی کی مشق” کرکے وہ اس فرحت بخش احساس سے سرشار ہوتا ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے عفو و درگزر کا مستحق اسی لئے ٹھہرا کہ اس نے قرآن کا راستہ اختیار کیا۔ اسی لئے وہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کررہے ہیں۔‘‘(یونس، ۵۸)چونکہ بندۂ مؤمن نے صوم کے تمام معاملات اجتماعی طور پر مکمل کیے ہوتے ہیں، اس لئے وہ عید الفطر کو خدا کا شکر بھی اجتماع کی صورت میں ہی بجا لاتا ہے۔ اس طرح بندۂ مؤمن اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ ایک معاشرتی وجود (سوشل بیئنگ) ہے جو اپنی شخصیت کی تعمیر اس معاشرے کے اندر کرتا ہے جس کی بنیاد ’’تکبیرِ رب‘‘ کے کلماتِ طیبہ پر اٹھائی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کو حکم دیا کہ دعوتِ دین کی ابتداء ’’تکبیرِ رب‘‘ کے اسی قاعدۂ کلیہ سے فرمائیں: ’’اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے۔ اور اپنے ہی رب کی بڑائیاں بیان کر۔‘‘(المدثّر، ۱۔۳)
(مضمون نگار محکمۂ اعلیٰ تعلیم، جموں و کشمیر میں اسلامک اسٹڈیز کے سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ۔ 9858471965
[email protected]
��