صلاحکار کا جموں ، سری نگر سوریج نیٹ ورک پروجیکٹوں کی جلد تکمیل پر زور

جموں/گورنر کے مشیر کے کے شرما نے ریاست کے دو دارالخلافائی شہروں جموں اور سری نگر میں سیوریج نیٹ ورک پروجیکٹوں کی جلد از جلد تکمیل پر زور دیا ہے تاکہ ماحولیاتی مسائل کو حل کیا جاسکے۔مشیر موصوف نے ان باتوں کا اِظہار ایک میٹنگ کے دوران کیا جو ریاست میں این بی سی سی کے ذریعے سیوریج ٹریٹمنٹ پروگرام کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے طلب کی گئی تھی۔میٹنگ میںفائنانشل کمشنر مکانات و شہر ی ترقی کے بی اگروال ، سیکرٹری مکانات و شہری ترقی انیل کمار گپتااور جنرل منیجر این بی سی سی کے علاوہ دیگر کئی افسران بھی موجود تھے۔مشیر موصوف نے سیوریج پروجیکٹوں کی جلد تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عمل آوری ایجنسیوں کو دیگر محکموں کے ساتھ قریبی تال میل قائم کر کے حائل رُکاوٹوں کو دُور کریں تاکہ ان پروجیکٹوں پر باقی ماندہ کام کو مکمل کیا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ اس کے دُور رَس نتائج برآمد ہوں گے اور لوگ ان پروجیکٹوں سے اِستفادہ کرسکیں گے۔مشیر کو جنرل منیجر این بی سی سی نے بتایا کہ رقومات کی واگزار ی میں تاخیر کی وجہ سے کام میں کچھ رُکاوٹ آئی ہے اور جونہی رقومات واگزار کی جائیں گی تو ان دونوں پروجیکٹوں پر کام دوبارہ شروع کر کے انہیں 30؍ ستمبر2019ء تک مکمل کیا جائے گا۔مشیر نے متعلقہ افسران کو ان پروجیکٹوں کے تعلق سے رقومات کی واگزاری کے احکامات دئیے ۔ انہوں نے عمل آوری ایجنسی کے عہدہ دار کو ہدایت دی کہ وہ ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے متعلق مقررہ وقت کا خاص خیال رکھیں۔میٹنگ میں بتایا گیاکہ سری نگر اور جموں کے لئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ پروجیکٹوں کو مرکزی حکومت نے منظور ی دی ہے جن پر بالترتیب 132.92کروڑ روپے اور 129.23کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔اس دوران سری نگر پروجیکٹ کے لئے 108.85کروڑ روپے واگزار کئے گئے ہیں جس میں سے اب تک 96.70کرو ڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں ۔ اسی طرح جموں پروجیکٹ کے لئے مارچ 2018ء کے آخیر تک واگزار کی گئی رقم 70.21کروڑ روپے میں سے 66.06کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ سری نگر سیوریج پروجیکٹ کی گنجائش 60ایم ایل ڈی ہوگی جس میں بیشتر حصے کو مکمل کیا گیا ہے جبکہ جموں سیوریج پروجیکٹ کی گنجائش 27ایم ایل ڈی ہوگی۔مشیر نے متعلقہ چیف انجینئر ، یو ای ای ڈی اور میونسپل کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ کام پر نگرانی کے لئے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دیں تاکہ ان پروجیکٹوں کی راہ میں حائل رُکاوٹوں کو موثر طور دور کیا جاسکے۔انہوں نے ان پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لئے کہا۔