ٹی بی کی تشخیص صرف آدھی جنگ ، اصل چیلنج مریض کے مکمل علاج اور صحت یابی تک اس کے ساتھ چلنا ہے
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا نے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور عوام سے اپیل کی ہے کہ ٹی بی (تپ دق) کی جانچ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے، ٹی بی سے متاثرہ حساس علاقوں کی نشاندہی کی جائے اور گھر گھر آگاہی مہم چلائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہر خاندان کو یہ بتایا جائے کہ ٹی بی کی علامات کی جانچ اور علاج بالکل مفت ہے اور مکمل صحت یابی ممکن ہے۔انہوں نے کہا’’آگاہی میرے نزدیک ہماری سب سے طاقتور دوا ہے۔ کسی مریض کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ ٹی بی کی تشخیص صرف آدھی جنگ ہے، اصل چیلنج مریض کے مکمل علاج اور صحت یابی تک اس کے ساتھ چلنا ہے۔ نِکشے متر پروگرام اسی ضرورت کا بہترین حل ہے۔ میں تمام متعلقہ افراد سے مکمل وابستگی کی توقع رکھتا ہوں‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر یہ بات کنونشن سینٹرجموں میں ’’ٹی بی مُکت بھارت ابھیان۔ 100 دن مہم‘‘کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔یہ ملک گیر مہم مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے شروع کی، جس کا مقصد ٹی بی کے خاتمے کی پیش رفت کو مزید تیز کرنا ہے، جس میں مربوط، ہدفی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے تمام متعلقہ اداروں سے کہا کہ جموں و کشمیر کو صرف اس قومی مہم میں حصہ لینے والانہیں بلکہ ایک قائدانہ کردار ادا کرنے والا خطہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا’’یہ ہمارا عزم ہے کہ اس مہم کو جموں و کشمیر میں عوامی تحریک میں تبدیل کیا جائے۔ اس سال کی مہم زیادہ شدت کے ساتھ، زیادہ توجہ کے ساتھ اور پورے خطے کی کمیونٹیز میں گہرائی تک پہنچنی چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا کہ صحتِ عامہ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ٹی بی فری جموں و کشمیر” کا عزم اسی یقین پر مبنی ہے کہ صحت کی ٹیمیں اور کمیونٹی ہر ضلع میں مل کر کام کریں، آخری مریض تک پہنچیں، ہر کیس کی تشخیص کریں، ہر مریض کے مکمل علاج تک اس کے ساتھ کھڑے رہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کریں‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس مہم کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنے پر زور دیا، جہاں دور دراز پہاڑی علاقوں میں صحت کارکنوں کی رسائی اور نِکشے متر پروگرام کے تحت غذائی امداد مریضوں کی زندگی بدل دے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم میں ہر شہری کو شامل کیا جائے اور اس کی ملکیت کا احساس دیا جائے۔انہوں نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ خود امدادی گروپس ،طلبہ، سکولوں، صنعتوں، این جی اوز اور سرکاری اداروں کو اس مہم میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے ٹیسٹنگ آلات اور ادویات کی دستیابی کا جامع جائزہ لینے اور شہریوں کی شکایات کے لیے ایک خصوصی پورٹل بنانے کی بھی ہدایت دی۔انہوں نے کہا’’آج ہم عہد کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں کوئی مرد، عورت یا بچہ ٹی بی کی وجہ سے اپنا مستقبل نہیں کھوئے گا۔ ہر سانس قیمتی ہے، ہر زندگی منفرد ہے۔ کوئی کیس نظر انداز نہیں ہوگا اور کوئی مریض غیر معاون نہیں رہے گا‘‘۔اس موقع پر نِکشے وین کو روانہ کیا گیا اور غذائی کٹس تقسیم کی گئیں۔ ضلع ڈوڈہ اور ضلع سرینگر کو ٹی بی فری پنچایتوں کے اعزاز سے نوازا گیا۔اس موقع پر نِکشے پلج(عہد) بھی دلایا گیا اور نِکشے متر کو اعزازات سے نوازا گیا۔