شیلا کی جوانی افسانہ

پرویز مانوس

رات بھر برف باری ہونے کے بعد اب برف پوری طرح تھم چُکی تھی ،شہر کی سڑکوں اور محلے کے کوچوں سے معمور کی گئی سرکاری گاڑیاں برف ہٹانے میں جُٹ گئی تھیں _ آفتاب نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا۔ _دفعتاً نزدیک کی مسجد سے اعلان ہوا کہ ابھی ابھی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ہماری مقامی مسجد کے صدر حاجی عثمان علی صاحب اس دارِ فانی سے دارالبقا کی جانب کوچ کر گئے ہیں، اُن کی نماز جنازہ ٹھیک پانچ بجے مِنی اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی۔ _اعلان سُنتے ہی کچھ لوگ آپس میں بات کرتے ہوئے کہنے لگے _”ابھی ظہر کی نماز تو انہوں نے ہمارے ساتھ باجماعت ادا کی ،واقعی دیندار اور نیک انسان تھے اور ہر ایک کے ساتھ بڑی انکساری اور خلوص سے پیش آتے تھے کتنی آسان موت ہوئی ہے، اللہ تعالی انہیں جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے _۔
حاجی عثمان علی گزشتہ پینتیس برس سے اسی کالونی میں رہتے تھے ، محکمہ تعلیم میں چالیس سال ملازت مکمل کرنے کےبعد وہ اعلٰی عہدے سے سُبکدوش ہوئے تھے۔ _ بُلند قد، بھاری جسم، سفید لمبا ریش، نُورانی چہرہ ،محلے کے تمام لوگ اُن کا بے حد احترام کرتے تھے ،اسی لئے اُن کی شریف النفسی اور دیانتداری کو دیکھتے ہوئے محلے والوں نے اُنہیں بااتفاقِ رائے مقامی مسجد کا صدر مقرر کردیا تھا _۔
دو بیٹیوں کی اعلی خاندانوں میں شادی کرنے کے بعد اُنہوں نے حج کا فریضہ بھی ادا کیا ہوا تھا اور فلاحِ دین کے لئے متعدد بار تبلیغ کے لئے بھی جاچکے تھے۔ اب بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔
شریک حیات کے انتقال کے بعد اُنہوں نے نچلی منزل سے اُٹھا کر اپنا بیڈ مکان کی دوسری منزل میں کھڑکی کے ساتھ لگا دیا تھا جہاں سے وہ علی الصبح مسجد سے لوٹ کر کھڑکی کے ساتھ والے برآمدے پر کبوتروں کو دانہ ڈال کر اپنے دل کو تسلی دیتے کہ اُنہوں نے اپنی پینشن میں سے خُدا کے نام پر کچھ تو خرچ کیا ہے ،ویسے تو یہ اُن کا روز کامعمول تھا لیکن اب جبکہ وہ زندگی کی پچہتھر بہاروں میں زیادہ تر خزاں دیکھ چُکے تھے اس لئے اپنی تنہائی کو دُور کرنے کے لئے یہی اُن کا مشغلہ تھا۔
آج آدھی رات کو جب وہ تہجد کی نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھے تو کھڑکی کا دبیز پردہ اُٹھا کر باہر دیکھا تو سفید برف نے تمام علاقے کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا تھا، ،صُبح کبوتروں کی گُٹرگوں سے اُن کی آنکھ کھلی تو اُنہوں نے دیکھا کہ کبوتروں کا ایک بڑا غول برآمدے پر اپنی پیٹ کے دوزخ کی آگ بُجھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف تھا _وہ سوچنے لگے کہ اس برف میں یہ بے زبان کہاں دانوں کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ،اچھا ہوا جو اُنہوں نے کل شام کو ہی دانہ ڈال دیا تھا کیونکہ ابر آلود آسمان دیکھ کر اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ضرور رات میں برف باری ہوگی۔ _ وہ ٹکٹکی باندھے اُنہیں دیکھنے لگے۔ اُن میں ایک کبوتر تھوڑا سُست تھا جسے باقی کبوتر پیچھے دھکیل کر دانہ چُگ رہے تھے، اُنہوں نے سوچا اگر کھڑکی کھولی تو انہیں دانہ چگنے میں خلل پڑے گا وہ چُپ چاپ دیکھتے رہے _،،دادا جی……! اُنہوں نے کبوتروں سے نظریں ہٹا کر دیکھا تو اُن کی چہیتی پوتی انعمتہ تھی،آجا میری بچی ….! یہ دیکھ کیا ہے دادو کے پاس ؟ ،عثمان علی نے انعمتہ کو کھڑکی کے قریب لاتے ہوئے کہا۔
اتنے سارے پجنز ۔۔۔! واؤ کیا ویو ہے _، ایک منٹ ابھی آتی ہوں، وہ دوڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب لوٹی تو اُس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا۔
کیا کرنا ہےاس کو ؟ عثمان علی نے انعمتہ کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ’’دادا جی میں ایک ریل بناکر انسٹا گرام پر ڈالوں گی‘‘ وہ تو ٹھیک ہے لیکن اُس سے کیا ہوگا؟
دادا جی آپ کو پتہ ہے جب ممّا انسٹا پر کوئی ریل ڈالتی ہے نا تو اُس کو اتنےسارے لائکس ملتے ہیں، انعمتہ نے اپنی دونوں با نہیں پھیلاتے ہوئے کہا _لیکن ابھی تک کوئی ریل وائرل نہیں ہوئی۔ _ٹھہرئیے میں آپ کو ممّا کی ریل دکھاتی ہوں، پھر اُس نے موبائل پر سکرول کرکے موبائل دادا کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا”یہ دیکھئیے ….! ‘‘عثمان علی نے موبائل ہاتھ میں لے کر اُس پر نظریں جمائیں تو اپنی بہو کا واہیات ڈانس دیکھ کر اُن کے منہ سے نکلا “لاحول ولا قوة……!‘‘
وہ سوچنے لگا عورت کی میت کو نامحرم بھی نہیں دیکھ سکتا پھر یہ زندہ عورتیں کس جواز کے تحت لباسِ آبِ رواں پہن کر اپنے جسم کی نمائش کرتی ہیں، ایک طرف ہم لوگ لمبا ریش رکھ کر مساجد میں طویل سجدے کرتے ہیں اور دوسری طرف ہماری بہو بیٹیاں چند لمحات کی شہرت کے لئے سوشل میڈیا پر واہیات ڈانس کرکے ساری عزت مٹی میں ملادیتی ہیں۔ ’’دادا جی۔۔۔۔! یہ دیکھئے پاپا کی بھی‘‘، عثمان نے دیکھا تو اُس کا بیٹا بھی کسی فلمی نغمے پر تھرک رہا تھا، _اُس نے سوچا تھا کہ وہ اس معاملے پر بیٹے سے بات کرے گا لیکن وہ بھی۔۔۔۔۔۔۔!
داداجی آپ کہاں کھو گئے ؟ انعمتہ نے اُس کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے پوچھا وہ جیسے گہری نیند سے جاگ گیا ہو ۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔۔!
چلئیے نا آپ ان کو دانہ ڈالتے رہیئے میں ویڈیو بناتی ہوں۔ _نہیں بیٹا مجھ سے یہ دکھاوا نہیں ہوگا _، میں ان کو دانہ خدا کی رضا کے لئے ڈالتا ہوں دکھاوے کے لئے نہیں، تمہیں معلوم ہے دکھاوے کی عبادت ضائع ہوجاتی ہے، گناہ کرنا بہت آسان ہے لیکن بخشوانا کافی مشکل ہے میری بچی ،میں بیت الللہ میں توبہ کرکے آیا ہوں ،میں اپنی آخرت سنوارنے میں لگا ہوں، _میں اپنی آخرت خراب نہیں کرنا چاہتا۔ عثمان علی نے معذرت چاہی تو انعمتہ نے کہا،
اُس دن جو اُٹھائی تھی میں نے ،جس میں آپ تسبیح پھیرتے تھے _ کیا میں نے اپلوڈ کی؟ نہیں نا؟
ارے بیٹی وہ تو میں نے تمہاری خوشی کے لئے بنائی تھی ۔
آج بھی میری خوشی کے لئے بنوائے نا۔
نہیں بیٹی آج نہیں _۔
انعمتہ روٹھتے ہوئے انداز میں بولی “جاؤ میں آپ سے بات نہیں کرتی، اُس کی اس ضد پر وہ انکار نہ کر سکا کیونکہ انعمتہ میں تو اُس کی جان بسی ہوئی تھی۔ _چلو ٹھیک ہے لیکن ایک شرط پر، تم میری ریل کہیں بھی اپلوڈ نہیں کرو گی ،پرومس؟عثمان علی نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا تو انعمتہ نے کہا”پرومس _ ؟ پنکی پرومس نا ؟ عثمان علی نے چھنگلی انگلی آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا تو انعمتہ نے دادا کی انگلی میں انگلی ڈالتے ہوئے کہا” بول دیا نا پنکی پرومس۔۔۔…!
آپ پجنز کو دانہ ڈالتے رہئیے ، تھوڑا سا ہلئے نا دادا جی کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔! پوتی کی خوشی کے لئے وہ ہلنے لگے، پھر انعمتہ نے دو منٹ کی ایک خوبصورت ویڈیو تیار کرلی جس کی تربیت اُسے ماں نے دی ہوئی تھی _انعمتہ بہت خوش تھی کہ دادا نے اُس کی بات مان لی ،اُس نے آگے بڑھ کر دادا کے گال کو چُومتے ہوئے کہا
” تھینکو دادا جی _آپ میرے اچھے دادا جان ہیں۔ _بدلے میں عثمان علی نے بھی اُس کو چُوما ،،اتنے میں پاس کی مسجد سے لوڈ اسپیکر پر صدا آئی کہ کلیم صاحب کے فرزند صارم کا انتقال ہوگیا ہے اُن کی نماز جنازہ ٹھیک بارہ بجے ادا کی جائے گی۔
یہ سُن کر عثمان علی سوچنے لگا، باپ پچھلے آٹھ سال سے بستر مرگ پر ہے اور جواں سال بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’یہ زندگی بھی کیا کیا دکھاتی ہے‘‘۔
انعمتہ ،جو اب اُس کی آغوش میں بیٹھی کبوتروں کو دیکھ رہی تھی، سُن کر پوچھ بیٹھی، دادو یہ زندگی کیا ہوتی ہے ؟
بیٹی زندگی تو اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔بتائیے نا دادا جی۔۔۔۔ _میری بچی تُو ابھی چھوٹی ہے تو کیا کرے گی زندگی کے معنی سمجھ کر۔ _دادو کل کو میں بڑی ہوجاؤں گی ،اسی لئے پوچھ رہی ہوں ،انعمتہ عمر میں تو چھوٹی تھی لیکن باتیں سیانی کرتی تھی۔ _میری دانست میں زندگی کے بارے میں پوچھنا ایک پُر پیچ کہانی ہے ،جو بظاہر دشوار گزار راستوں سے گزرتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے _جس کا نہ تو آغاز انسان کی منشا سے لکھا جاتا ہے اور نہ ہی اختتام اُس کی مرضی سے پوچھ کر کیا جاتا ہے _ مگر المیہ یہ ہے کہ جب تک ہمیں زندگی کی سمجھ آتی ہے تب تک یہ ختم ہوجاتی ہے۔ _داداجی ہماری ٹیچر کہتی ہے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے ؟انعمتہ نے معصوم سا سوال کیا۔ _بیٹی زندگی واقعی خوبصورت ہے لیکن دولت مندوں کے لئے ،مفلسوں کے لئے یہ بوجھ ہے۔ دولت مندوں کی لاعلاج بیماریاں بھی ادویات سے ٹھیک ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ لائف سیونگ کی مہنگی دوائیاں خریدنے کی سکت رکھتے ہیں جبکہ غریب کی لئے سر درد بھی بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے _۔
پھر خُدا نے غریبوں کو پیدا کیوں کیا؟
بیٹی یہ تو اپنی اپنی قسمت ہے ،ہر کوئی اپنا مقدر لے کر پیدا ہوتا ہے ،یہ سب اُس کے کھیل ہیں کبھی ایاز کو محمود کا مشیر بنادیتا ہے تو کبھی یوسف کو عبدالملک بن مروان کا وزیر۔ _دراصل خواہشات ہی انسان کو غریب بنا دیتی ہیں ،جس کی جتنی بڑی خواہش ہوں اُس کے لئے اتنی زیادہ سختیاں _۔
دادا جی ٹیچر کہتی ہے زندگی ہمیں سبق سکھاتی ہے ، کیا وہ ہم کو پڑھاتی ہے ؟ انعمتہ نے اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو عثمان علی اُسے ایک ٹک دیکھتا رہا اور سوچنے لگا اتنی چھوٹی عمر میں یہ لڑکی زندگی پر گہری تحقیق کرنے لگی ہے، یہ کہیں فلاسفر نہ بن جائے۔ _اُس نے کہا” بیٹی زندگی نشیب و فراز اور مد و جزر کا نام ہے اور انسان پر قدرت کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ اُس کے جذباتی یا جسمانی زخم خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں مندمل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر عثمان علی نے کھڑکی سے باہر ایک نظر ڈالی تو دیکھا کہ برف کے موٹے موٹے گالے مکانوں کی چھتوں پر گر رہے تھے۔ _دادا جی کیا زندگی میں اپنوں کا ساتھ ضروری ہے؟انعمتہ کے معصوم سوال پر عثمان علی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے اپنی چھ سالہ پوتی کو سینے سے لگاتے ہوئے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا’’ بیٹی زندگی میں اپنوں کا ساتھ بوڑھاپے میں بیساکھیوں کی طرح ہوتا ہے جو لڑکھڑاتے وقت سہارا دیتی ہیں ،سانس ٹوٹنے سے تو انسان ایک مرتبہ مرتا ہے لیکن کسی کا ساتھ چھوٹنے سے انسان بار بار مرتا ہے _ اُسے اپنی شریک حیات یاد آگئی۔ _دادا جی آپ رو کیوں رہے ہیں ؟ چُپ ہوجائیے ورنہ مجھے بھی رونا آئے گا، _انعمتہ نے اپنے ننھےّ ننھےّ ہاتھوں سے عثمان علی کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ اُس نے کہا” نہیں میری بچی نہیں…….! میں تو اپنی قسمت پر آنسو بہا رہا ہوں ،یہ جو تنہائی ہےنا بہت بڑی سزا ہے _۔
دادا جی یہ تنہائی کیا ہوتی ہے ؟ ابھی وہ خود کو سنبھال ہی رہا تھا کہ انعمتہ نے ایک اور سوال کر ڈالا۔بیٹی تُو ابھی چھوٹی ہے تُو اس بات کو نہیں سمجھے گی،اُس نے انعمتہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ _وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اُسے کیا جواب دے اُس نے دل مضبوط کرتے ہوئے کہا جیسے میں اکیلا ہوں ،بوڑھاپے میں کسی ایسی ہستی کا ہونا بہت ضروری ہے جس کو دل کا حال سُنانے کے لئے لفظوں کی ضرورت نہ پڑے،ہر انسان کی زندگی میں ایک چہرہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو ہر پل اُس کی سوچوں کے آئینے میں جھانکتا رہتا ہے لیکن موت کو اُس پر حم نہیں آتا _۔
دادا جی یہ موت کیا ہوتی ہے ؟اور کہاں سے آتی ہے ؟ اُس ننھی سی جان کے مُنہ سے یہ لفظ سُن کر وہ حیران رہ گیا، یہ جُملہ سُن کر عثمان علی نے کہا میری بچی….! خُدا کی طرف سے انسان کو عطا کی ہوئی زندگی رفتہ رفتہ گزر کر اُسے اُس مقام تک پہنچاتی ہے جسے موت کہتے ہیں ،دراصل ہمارے اندر ایک روح ہوتی ہے جو ہمارے جسم کے پنجرے میں قید ہوتی ہے ،جب یہ پنجره کُھل جاتا ہے تو وہ روح نکل کر آسمان کی طرف خدا کے پاس چلی جاتی ہے۔ _چلو شاباش اب موبائل اُٹھا ؤ اور اپنی ماں کے پاس جاؤ ورنہ وہ بگڑ جائے گی _۔
انعمتہ عثمان علی کی گود سے اُتری اور موبائل لے کر نیچے چلی گئی تو ماں نے کہا ” آج دادا کے پاس کافی وقت بتایا ،کیا باتیں ہورہی تھیں ؟ممّا آپ دیکھو میں نے دادو کا کیسا ویڈیو بنایا،اُس نے ماں کے ہاتھ میں موبائل دیتے ہوئے کہا تو ماں نے کہا ، ویڈیو؟ وہ تو کبھی مانتے ہی نہیں تھے آج کیسے مانا؟
مّما میں نے اُن سے پنکی پرونس کیا کہ پوسٹ نہیں کروں گی تب وہ مانے۔
ماں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا “زرا دکھاؤ تو ۔۔۔۔!
ویڈیو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں چمک سی آگئی، یہ تو بڑی کمال کی ویڈیو بنی ہے۔
او کے بیٹا ۔۔۔۔! صبح سے کافی مستی ہوگئی اب آپ اپنا ہوم ورک کرو کہہ کر وہ موبائل پر ریلیں دیکھنے لگی اور انعمتہ اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
عثمان علی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر پہنچا تو کچن پر ایک اُچٹتی ہوئی نظر ڈالی تو اُس کی بہو کی نظریں موبائل فون پر جمی ہوئی تھیں اور وہ ویڈیو دیکھ کر ہلکے ہلکے قہقہے لگا رہی تھی _۔ اُسے اس قدر خوش دیکھ کر عثمان نے سوچا شاید اُسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ پھر وہ اپنے کمرے داخل ہوگیا چونکہ اُس کا زیادہ تر وقت عبادت میں ہی گزرتا تھا اُس نے طاق سے قرآن مجید اُتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اُس کے موبائل کی بیل بج اُٹھی ،اُس نے دیکھا تو بیٹی کا فون تھا، وہ سوچنے لگا آج صُبح ہی تو بات ہوئی تھی ،اُس نے دوبارہ کال کیوں کی ،خیر اُس نے فون اُٹھایا تو بیٹی نے کہا؛
“ابّا جان آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟
ہاں بیٹی میں تو باکل ٹھیک ہوں ،تم کیوں پوچھ رہی ہو؟
آپ مجھے سسرال میں عزت سے جینے نہیں دیں گے ؟
لیکن بیٹی میں نے ایسا کیا کردیا ،تم یہ کیسی باتیں کررہی ہو ؟
اس عمر میں آپ نے کیا حرکتیں شروع کردی ہیں ؟ابھی ابھی آفس سے ان کا فون آیا تھا کہ تمہارے باپ نے میری عزت کا جنازہ نکال دیااُن کی کبوتروں کو دانہ ڈالنے والی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس کے بیک گراونڈ میں “شیلا کی جوانی ” کا میوزک چل رہاہے _۔
آپ کو معلوم ہے لوگ کیسے کیسے واہتات کمنٹس کررہے ہیں؟
کیا ؟؟؟؟؟لیکن بیٹی میں نے تو کوئی ویڈیو پوسٹ نہیں کی _تو کیا ہم نے پوسٹ کی ؟ اپنا نہیں تو کم از کم بیٹیوں کی عزت کا تو سوچا ہوتا _۔
اتنے میں گیٹ کھٹکھٹانے کی آواز آئی تو انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا ، باہر چند میڈیا والے ہاتھوں میں مائکیں لے کر کھڑے تھے، اُن کے پسینے چھوٹنے لگے، دفعتاً اُن کی آنکھوں کے سامنے بہو کا قہقہے والا منظر رقص کرنے لگا ،پھر تیز دھڑکن کے ساتھ اُن کے قلب میں شیدید درد اُٹھا اور گھٹنے بیٹھنے لگے وہ دیوار کو تھام کر نیچے بیٹھ گئے۔
دوسری جانب سے مُسلسل آواز آرہی تھی _ابّا جی….. ابّا جی لیکن عثمان علی کی روح آسمان کی جانب پرواز کرچکی تھی _ ۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487