شہ رگ افسانہ

طارق شبنم

موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں تھے ،آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بارشیں بھی ہو رہی تھیں۔ جہاز سے اتر کر وسیم نے ایک لمبی انگڑائی لی او ر کچھ دیر طیران گاہ کی نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ٹیکسی لے کر فرط نشاط وانبساط میں جھومتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوا۔دوران سفر وہ اپنی دھرتی کے بدلے بدلے مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔سڑک کے دونوں اطراف میں اونچے اونچے خوب صورت بنگلے ،تجارتی کمپلکس،شو روم اور دیگرنئی کنکریٹ تعمیرات کی بھرمار اور بیچ بیچ میں خالی اراضی کے ٹکڑے بالکل بنجر اور ویران حالت میں ۔۔۔۔۔۔۔
’’ بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔آج ہماری دھرتی کا منظر ہی بدل گیاہے؟‘‘
اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
’’ ہاں صاحب۔۔۔۔۔۔ اب وہ پرانا زمانہ نہیںرہا بہت ترقی ہوئی ہے یہاں۔دیکھئے تو کیسی نئی نئی کالونیاں اور دیگر عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں‘‘۔
اس نے فخریہ لہجے میں شانے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔
’’ لیکن صاحب ۔۔۔۔۔۔ خراب موسم نے بہت پریشان کیا ہے‘‘ ۔
اس نے کچھ توقف کے بعد آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افسردہ لہجے میںکہا،وسیم نے اس بات میں سر ہلایا اور نظارے دیکھتے ہوئے سوچوں میں گُم ہوگیا۔وسیم اچھا تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی ذہین ،باہمت اور محنتی لڑکا تھا جو آنکھوں میں خوشحال زندگی کے خواب سجائے ہوئے روزگار کمانے کے لئے بیرون ملک گیا ہوا تھا اور آج کئی برسوں بعد واپس اپنے وطن لوٹا تھا ۔جب وہ گیا تھا تو سچ مچ اتنی ترقی نہیں تھی۔نئی نئی کالونیاں اور اونچے اونچے تجارتی کمپلکس نہیں تھے۔اتنی زیادہ گاڑیاں بھی نہیں تھیں۔سڑک کے دونوں اطراف دور دور تک ہرے بھرے میوہ باغات اور لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے جنہیں دیکھ کر انسان کے روح کو تراوت ملتی تھی۔اراضی کا ایک بھی ٹکڑا اس طرح بے کار نہیں ہوتا تھا ۔وسیم کی وادی کو اوپر والے نے بے پناہ حسن وجمال کے ساتھ ساتھ بہت ساری نعمتوں سے نوازا تھا ۔گھنے جنگلات ۔۔۔۔۔۔برف سے ڈھکے فلک بوس پہاڑ۔۔۔۔۔۔اچھلتی کودتی ندیاں۔۔۔۔۔۔خوب صورت جھیل اور جھرنے ۔۔۔۔۔۔معتدل آب وہوا ۔۔۔۔۔۔یہاں کی جفا کش آبادی کا زیادہ حصہ زراعت کے پیشے سے وابستہ تھا اور لوگ باگ اول بہار ہی کھیت کھلیانوں میں ڈیرا ڈال کر قسم بہ قسم کی زرعی اشیا وافر مقدار میں حاصل کرکے خود بھی استعمال کرتے تھے اور دوسرے ضرورت مندوں کے لئے بازار میں بھی دستیاب دکھتے تھے۔۔۔۔۔ ۔ سوچتے سوچتے وسیم کو اپنی وادی کے لوگوں کی تقدیر پر دل ہی دل میں فخر ہو رہا تھا جب کہ سونے پہ سہاگہ کے مانند تعمیر وترقی اور خوشحالی کی نئی جیتی جاگتی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے اس کا دل باغ باغ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
’’ صاحب ۔۔۔۔۔۔ کس طرف جانا ہے‘‘ ؟
سوچوں کی بھول بھلیوں میں گُم وسیم کی سماعتوں سی دفعتاً ڈرائیور کی آواز ٹکرائی۔
’’ ہاں ۔۔۔۔۔۔ اس طرف ‘‘۔
خیالات کے خول سے باہر آکر اس نے توجہ سے باہر جھانک کر ایک گلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔کچھ دیر بعد ہی وسیم اپنے گھر کے سامنے کھڑا تھا ۔ان کا گھر اب وہ چھوٹا مکان نہیں تھا جس میں وہ کبھی رہتا تھا بلکہ رنگ وروغن سے سجا ایک خوب صورت تین منزلہ بنگلہ اور صحن میں ایک قیمتی گاڑی بھی تھی ،جس کو دیکھ کر وہ دل ہی دل میں نہ صرف بہت زیادہ خوش ہوگیابلکہ اس کو اپنے بڑے بھائی پر سخت فخر محسوس ہونے لگاجس نے اس کی غیر حاضری میں ہی ترقی کے وہ منازل طئے کئے تھے جن کے خواب سجائے وہ بیرون ملک چلا گیا تھا۔
واقعی ہمارے یہاں بہت ترقی ہوئی ہے ۔
بڑ بڑاتے ہوئے وہ اندر داخل ہوگیاتو پورا گھر خوشیوں سے جھوم اٹھا۔گھر والوں کی طرف سے خوب خاطر داری اور دیر رات تک ان کے ساتھ باتوں میں مصروف رہنے کے بعد گھر کے حالات سے مطمعن ہوکر وسیم سرور کی کیفیت میںبستر پر لیٹ کر اپنے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔دیر رات تک سنجیدگی سے سوچ وچار کے بعد آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئی تجارت شروع کرنے کے ساتھ ساتھ جدید خطوط پر استوار کرکے اپنے آبائی پیشے سے جڑ ا رہنا مناسب رہے گا ۔ کیوں کہ ان کے پاس ایک ایکڑ میوہ باغ اور اس سے کچھ زیادہ زرعی کھیت تھا۔جس پر وہ خوب محنت کر کے اچھی آمدنی کے ساتھ ساتھ سال بھر کے لئے اناج ،سبزی ،دالیںوغیرہ حاصل کرتے تھے ۔ وسیم، جس نے بیرون ملک خون پسینہ بہا کے اچھی کمائی کی تھی، نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے کچھ اور اراضی خریدنے کا بھی من بنا لیا۔
’’ اگر آپ آج بھی بازار سے خریداری نہیں کر پائے تو بہت پریشانی ہو جائے گی‘‘۔
صبح وہ ابھی ناشتہ ہی کر رہے تھے کہ وسیم کی بھابھی سرگوشی کے انداز میں اپنے شوہر سے مخاطب ہوکر بولی۔
’’ نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔راجہ ابھی شہر جاکر ساری چیزیں لائے گا ‘‘۔
اس نے مختصر ساجواب دیا اور ایک فہرست اپنے بیٹے کو سونپ کر شہر روانہ کردیا۔
’’ بھیا ۔۔۔۔۔۔ میں تھوڑا باغ میںگھوم کے آتا ہوں‘‘ ۔
کچھ دیر بعد وسیم بھی جانے کے لئے اٹھا ۔
’’ہاں ہاں شوق سے جائو۔۔۔۔۔۔ وہاں ہمارا نیا مکان زیر تعمیر ہے اور شاپنگ کمپلکس کے لئے میں نے میٹیریل بھی ڈلوایا ہے ‘‘۔
اس نے فخریہ لہجے میں وسیم کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ کئی برسوں بعدتازہ سیب اور ناشپاتی کھانے کی چاہت میں وسیم جب خوشی خوشی باغ میں پہنچا تو اس کا دماغ چکرانے لگا کیوں کہ ہر ا بھرا میوہ باغ ،جسے اس کے باپ نے اپنے ہاتھوں سے لگا کرساری عمر اپنے خون پسینے سے سینچا تھا، بانجھ عورت کی کوکھ کی طرح ویران ہوچکا تھا ۔ زیر تعمیر مکان اور شاپنگ کمپلکس کی تعمیر کی آڑ میں ثمر دار درختوں کو بڑی بے رحمی سے کاٹ دیا گیا تھا ۔خستہ حالت میںکھڑے کچھ بچے کھچے پیڑوں ،جن کے اوپر ایک دانہ بھی میوہ نہ تھا،کو دیکھ کر اس کے دل پر چھریاں چلنے لگیں ۔ جگہ جگہ خارداد جھاڑیاں اور بھنگ کے پودے اُگ آئے تھے ،جب کہ ارد گرد کے دوسرے ثمر دارباغات بھی تعمیرات کی زد میں آکر خود اپنی بربادی کی داستان بیاں کر رہے تھے ۔کچھ وقت اداسی کی حالت میں وہاں گزار کر اس نے دل ہی دل میں اولین فرست میں باغ کو نئے سرے سے آباد کرنے کی ٹھان لی اور افسردگی کی حالت میں واپس نکل آیا۔ چلتے چلتے بازار میں اس نے ایک بند دکان کے سامنے لمبی قطار میں سینکڑوں مردو زن کو کھڑا دیکھا اور دوسرے لوگ بھی تیزی سے آکر قطار میں شامل ہو رہے تھے لیکن جلد ی میں ہونے کے سبب وہ لوگوں کے اس ہجوم کو نظر انداز کرکے چلا گیا ۔ گھر پہنچ کر اس نے دبے الفاظ میں باغ کی ویرانی پر اپنی نا گواری کا اظہار کرتے ہوئے بھائی کواپنے ارادوں سے بھی با خبر کردیا اور پھائوڑا لے کر اُلٹے پائوں واپس جانے لگا۔
’’ اب کہاں جا رہا ہے‘‘ ؟
’’ میں اپنی کھیت پر سے گھوم کے آتا ہوں‘‘۔
’’ کھیت ۔۔۔۔۔۔کونسا کھیت۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ ارے بائی پاس پر اپنا جو ایک ایکڑ سے زیادہ زرعی کھیت ہے وہی ‘‘۔
’’ وسیم ۔۔۔۔۔۔ میں تو آپ کو بتانا بھول ہی گیا تھا کہ وہاں اب ہماراکو ئی کھیت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ترقی کے اس دور میں کھیتی باڑی کا ٹینشن کون لیتا ہے۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ کیوں؟؟؟‘‘
’’ دیکھو وسیم ۔۔۔۔۔۔ برادری کے دوسرے لوگوں کے ساتھ برابری کرتے ہوئے اتنا اچھا مکان بنایا میں نے ۔۔۔۔۔۔گاڑی خریدی۔۔۔۔۔۔ دوسرے مکان پر کام چل رہا ہے اور شاپنگ کمپلکس کے لئے ساز وسامان بھی خریدا ۔۔۔۔۔ ۔ یہاں سب نے ایسا ہی کیا اور میں۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔
’’ اور دیکھا دیکھی میں آپ نے بھی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دی ‘‘۔
وسیم ،جس کے کانوں میں جیسے پگھلتا ہوا سیسہ اتر گیا ،نے انگلی دانتوں تلے دباتے ہوئے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔اسی لمحہ راجہ شہر سے واپس لوٹااور فہرست اپنے باپ کے حوالے کرتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ پاپا ۔۔۔۔۔۔شہر کے بازار میں بھی قحط جیسی صورت حال ہے اور ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔چاول ،سبزی ،دودھ ،گوشت سمیت کوئی بھی چیز دستیاب نہیں ہے اور لوگ پریشانی کی حالت میںدر بدر بھٹک رہے ہیں۔سرکاری راشن سٹور پر بھی چاول کا ایک دانہ بھی دستیاب نہیں ہے ‘‘۔
’’ چند دن سڑک کیا بند ہوگئی کہ قحط پڑگیا ۔۔۔۔۔۔کیسی زندگی ہے یہ؟؟؟‘‘
وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میںکہتے ہوئے ہارے ہوئے جواری کے مانند اپنا سر پیٹنے لگا ۔
’’بھیا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی شہہ رگ کاٹ کر ترقی کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کا بھیانک انجام ہے یہ‘‘۔
کہہ کر وسیم ایک نئے عزم کے ساتھ پھائوڑا لے کر باغ کی طرف چل پڑا جب کہ اس کا بھائی بند راشن سٹور کے سامنے لوگوں کی لمبی قطار میں شامل ہو گیا۔

���
اجس بانڈی پورہ کشمیر
ای میل؛[email protected]
موبائل نمبر؛9906526432