جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کی جانب سے اُردوطلباء واسکالروںکیلئے توسیعی لیکچرکااہتمام کیاگیاجس کے تحت ماریشس کے اُردوپروفیسر،پروفیسرآصف علی عادل محمدطلباء واسکالرس سے روبروہوئے اورماریشس میں اُردوزبان کی صورتحال پرپرمغزاورمعلوماتی لیکچرپیش کیا۔اس دوران توسیعی لیکچرکی صدارت ماریشس کے ایک اورمعروف شاعراورادیب قاسم علی محمدنے کی۔ اس دوران پروگرام میں طلباء، اسکالرس ،فیکلٹی ممبران اورسول سوسائٹی ممبران نے شرکت کی۔اپنے لیکچرکے دوران پروفیسرعلی محمد عادل محمدنے بتایاکہ ماریشس ایک چھوٹاساجزیرہ ہے جس کی کُل آبادی 13لاکھ ہے ۔جزیرے کے خوبصورت سمندری کنارے ماریشس کوایک خوبصورت ملک بناتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماریشس کے سرکاری سکولوں میں نویں جماعت تک مسلم طلباء کیلئے اُردوجبکہ ہندوطلباء کیلئے ہندی زبان لازمی مضمون کے طورپرپڑھایاجاتاہے۔اگرچہ ماریشس میں بیشتر آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے باوجودوہاں ہندواورمسلمان بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔پروفیسرآصف علی عادل محمدنے بتایاکہ ماریشس حکومت نے سرکاری سطح پراُردواورہندی زبان کے فروغ کیلئے یونینوں کاقیام بھی عمل میں لایاہے ۔یہ یونینیں اُردو،تمل، تیلگو، سنسکرت ،ہندی زبانوں کی ترویج کیلئے شاندارکام انجام دے رہی ہیں۔مہاتماگاندھی انسٹی چیوٹ ایک یونیورسٹی کی طرح کام کررہاہے جہاں مختلف زبانوں میںانڈرگریجویٹ اورپوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم دی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک کے اُردوطلباء ،پی ایچ ڈی اُمیدوارکے طورپراپنااندراج اوپن یونیورسٹی آف ماریشس کے ذریعے کرواسکتے ہیں جن کی رہنمائی مہاتماگاندھی انسٹی چیوٹ (ایم جی آئی )کے اساتذہ کرتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ مہاتماگاندھی انسٹی چیوٹ میں اُردومیں انڈرگریجویٹ اورپی جی سطح پر70 کے قریب طلباء زیرتعلیم ہیں۔مہاتماگاندھی انسٹی ٹیوٹ ایک شاندارکیمپس اورصاف ستھری سڑک ،خوبصورت درخت اورجدیدطرزکی عمارتوں پرمبنی ہے۔انہوں نے مزیدبتایاکہ ماریشس کی کلیدی یونیورسٹی بھی مختلف مضامین میں طلباء کوتعلیم دینے میں سرگرم عمل ہے۔اوپن یونیورسٹی آف ماریشس میں ریسرچ بھی کرائی جاتی ہے لیکن ابھی تک وہاں اُردوشعبہ کاقیام عمل میں نہیں لایاگیاہے جبکہ مہاتماگاندھی انسٹی چیوٹ میں تمام اورینٹل زبانوں کوپڑھایاجاتاہے ۔اس دوران طلباء نے پروفیسرآصف سے مختلف سوالات بھی پوچھے جن کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔پروفیسرآصف نے مزیدبتایاکہ ’کرول‘ ماریشس کی مقامی زبان ہے جوکہ فرنچ اورانگلش کاایک امتزاج ہے ۔انگریزی اورفرنچ ماریشس کی سرکاری زبانوں کادرجہ رکھتی ہیں۔ماریشس میں برطانیہ اورفرانس کی حکومت تھی جس کی وجہ سے ان دونوں زبانوں کوسرکاری زبانوں کادرجہ حاصل ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں ماریشس کے نامورشاعراورڈرامانگارقاسم علی محمدنے جموں یونیورسٹی بالخصوص وائس چانسلر پروفیسرایم ۔کے دھرکے شاندارمہمان نوازی کے رول کوسراہا۔انہوں نے کہاکہ شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی ،ملکی یونیورسٹیوں میں سے متحرک ترین شعبہ ہے ۔اس دوران قاسمی علی محمد نے شرکاء کے سامنے اپناایک افسانہ ’’گیند‘‘جوان کی زندگی کے اُتارچڑھائوپرمبنی تھاپیش کیا۔قبل ازیں صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اورڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسرشہاب عنایت ملک نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کااستقبال کیا۔انہوں نے کہاکہ جموں یونیورسٹی،یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے قراردی گئی A+ گریڈیونیورسٹی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرایم کے دھرتندہی سے دن رات کام کرکے یونیورسٹی کی کارکردگی کوبہتربنارہے ہیں اورشعبہ اُردوکوترقی دینے کیلئے ہرممکن تعاون دے رہے ہیں۔وائس چانسلرموصوف کی کوششوں کے نتیجے میں شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی جے اینڈکے اکیڈمی آف آرٹ،کلچراینڈلنگویجزکے اشتراک سے16 اور 17 ستمبر 2019 کودوروزہ عالمی کانفرنس کاانعقاد کررہاہے جس میں کنیڈا، مصر، ایران، بنگلہ دیش ،ازبکستان ،ماریشس اورانگلینڈسے مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔کانفرنس کے دوران ایک شامِ غزل کاانعقادبھی کیاجارہاہے جس میں رام پورگھرانہ کے ناموراُستادسخاوت حسین شرکاء کومحظوظ کریں گے۔صدرشعبہ اُردواورڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسرشہاب عنایت ملک نے شرکاء کومہمانوں سے متعارف کرایا۔ ڈاکٹرریاض احمد ،ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی نے بھی خیالات کااظہارکرتے ہوئے ماریشس کوایک خوبصورت جزیرہ قراردیا۔اس دوران ڈاکٹرریاض احمد نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیئے ۔اس موقعہ پرڈاکٹرچمن لال ،ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس اورڈاکٹرفرحت شمیم ودیگرفیکلٹی ممبران بھی موجودتھے۔