حسین محتشم
پونچھ // شبِ شہادتِ حضرت امیرالمومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے موقع پر ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالسِ عزا کا اہتمام عقیدت و احترام کے ساتھ کیا گیا۔ ان مجالس میں مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حضرت علی علیہ السلام کی شہادت پر غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی عظیم خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔مجالس کے دوران ثنا خوانوں اور ذاکرینِ اہل بیت نے نعت، منقبت اور سلام کے دل سوز نذرانے پیش کئے جبکہ علمائے کرام نے اپنے خطابات میں حضرت علی علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ، عدل و انصاف، شجاعت، تقویٰ اور انسانیت کے لئے آپ کی بے مثال خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی امتِ مسلمہ کے لئے ایک کامل نمونہ ہے اور ان کی تعلیمات بھی معاشرے میں عدل، اخوت اور انسان دوستی کے فروغ کا درس دیتی ہیں۔امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں منعقدہ مرکزی مجلسِ عزا سے مولانا سید امان حیدر رضوی ہلوری نے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت اور اسلامی معاشرے میں آپؑ کے کردار کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت عدل و انصاف اور مظلوموں کی حمایت کا عملی نمونہ ہے۔ مجلس کے اختتام پر تابوتِ علی علیہ السلام برآمد کیا گیا جو امام بارگاہ عالیہ پونچھ سے برآمد ہو کر مسجد علی علیہ السلام تک پہنچا جہاں جلوس اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہوئے اپنے جذباتِ عقیدت پیش کئے۔
اسی طرح امام بارگاہ عالیہ منڈی میں بھی مجلسِ عزا منعقد ہوئی جس سے مولانا شیخ سعید حیدر قمی نے خطاب کیا۔ مجلس میں کشمیری مرثیہ خوانی کی گئی اور عزاداروں نے گریہ و ماتم کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کا پرسہ پیش کیا۔مسجد فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا گرسہ نالہ حسین آباد مینڈر میں منعقدہ مجلسِ عزا سے مولانا سید مختار حسین جعفری نے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کو امتِ مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ قرار دیا۔ اسی طرح امام بارگاہ عالیہ مہندر میں منعقدہ مجلس سے مولانا سید قرار حسین جعفری نے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر گوہلد، سلوای، ہنڈی، موہری گرسائی، سانگلہ، سرنکوٹ، سنائی، پنیالی اور دیگر علاقوں میں بھی مجالسِ عزائے مولائے کائنات کا اہتمام کیا گیا جہاں عزاداروں نے بڑی عقیدت کے ساتھ شرکت کی۔ مجالسِ عزا کے اختتام پر مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں اعمالِ شبِ قدر بھی ادا کیے گئے اور عالمِ اسلام سمیت پوری انسانیت کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔