مبلغ حضرات جب اصراف و تبذیر پر وعظ فرماتے تو منہ میں جھاگ جما جما کر وازوان، ون وُن اور فروعی مصارف پر جہنم کے فری پاس بانٹتے ہیں۔ سرسری جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہر سال کشمیر میں پچیس ہزار سے زائد شادیاں ہوتی ہیں۔ مطلب پچاس ہزار نفوس زندگی کی نئی دہلیز پر قدم رکھ کر ایک نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس تعداد میں نصف ایسے ہیں جو زندگی کی اگلی کم از کم دس بہاریں عدالتوں، مفتیان اور مقامی پنچایتوں میں گزارتے ہیں کہ ان کی ازدواجی زندگی آپسی کدورت، خاندانی مخاصمت اورغلط فہمیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں یا باپ کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور عمر کے انتہائی حساس مرحلہ پر اُن کی پرورش میں ماں یا باپ کی شفقت کا خلا رہ جاتا ہے۔
پوری دنیا میں شادی کو بحیثیت ادارہ بچانے کے لئے کیتھولک عیسائیوں نے وسیع مہمات چلائیں، اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں۔ چونکہ اسلام کے بنیادی اقدار پر صنعتی اور سرمایہ دارانہ انقلاب کا اثر نہیں پڑا، مسلم معاشرے میںا بھی تک شادی سماجی زندگی کا ایک جزوِ لاینفک ہی بنا رہا ہے۔ امریکہ، یورپ ،بعض ایشیائی ممالک، یہاں تک کہ انڈیا میں بھی شادی کی جگہ Live-in رشتوں کا رواج چل پڑا ہے،لیکن ابھی بھی عیسائی، مسلم، یہودی اور ہندو معاشروں میں شادی ایک باقاعدہ اور سرگرم سماجی ادارہ ہے۔
ہمارے یہاں مسلہ یہ نہیں کہ سماج شادی کے عمل سے بیزار ہے، مسلہ یہ ہے کہ شادی کا عمل جس قدر خوبصورت ہوتا ہے، اُسی قدر اس سے وجود میںآنے والارشتہ غلط فہمیوں، لالچ، ایگو اور دوسرے مسائل کے مہیب سایوں میں گھِرجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میاں بیوی ایک نئے خاندان کی بنیاد نہیں بلکہ میدان جنگ بن جاتے ہیں۔
کشمیر میں تعلیم کے فروغ اور عالمی امور تک عوامی رسائی سے دقیانوسی خیالات اب سماجی عمل کا مین سٹریم بیانیہ نہیں ہیں۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ شادی طے کرنا دو گھرانوں کا منڈیٹ ہے اور اس میں لڑکے اور لڑکی کا کردار فقط نکاح خوانی کے وقت ہوگا۔ اکثر اوقات تو جوڑے شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جان چکے ہوتے ہیں۔ اسے عرف عام میں ’’کورٹ شپ ‘‘کہتے ہیں۔ اکثر معاملات میں نہایت سلیقے سے لڑکا والدین سے ذکر کرتا ہے اور والدین لڑکے والوں کے یہاں پیغام بھیجتے ہیں۔ دوسرے طریقے میں درمیانہ دار ایک رشتہ لاتا ہے، پھر لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور بات آگے بڑھتی ہے۔ لیکن رشتے قائم کرنے کے ان دونوں طریقوں کے دوران دیرینہ رسوم سے کوئی فرار نہیں ہوتا۔ لین دین کی باتیں بھلے ہی دو ٹوک نہ ہوں، لیکن تحائف کا باقاعدہ منصوبہ بنتا ہے۔ ساس، نند، بھاوج، دیور وغیرہ کے لئے تحائف ۔ پھر بہو آتی ہے اور باقی آپ جانتے ہیں۔ لڑکی کی نفسیات پر منحصر ہے کہ وہ باتوں کے دورُخی تیروں کو سہن کرپاتی ہے یا بغاوت کرکے گھر چلی جاتی ہے۔ اگر وہ برداشت پر قانع ہے تو اس کا خمیازہ اس کے خاوند کو اُٹھانا ہوگا، اور بغاوت پر آمادہ ہے تو دونوں گھرانے طویل جنگ میں الجھ جاتے ہیں۔ ایسے میں پڑھی لکھی خواتین فیس بک پر تحفظ نسواں Feminismکی تحریک کی مختلف شکلوں سے متاثر ہوکر شادی یا گرہستی کو ہی خیر باد کہتی ہیں۔
دو بنیادی مفاسد ہیں جن سے ہمارے یہاں شادی کا ادارہ ڈگمگا رہا ہے۔ ایک ساس۔بہو تناؤ اور دوسرا دنیوی امور میں خاوند۔ بیوی میں خالص مادی اصولوں پر مبنی مسابقت۔ ساس بہو تناؤ کی ضمن میں یہ بات مسلمہ ہے کہ صدیوں کے جبر، غلامی اور امتیاز نے خاتون کونفسیاتی طور اس قدر بے اختیار کردیا ہے کہ وہ اختیار کی ہوس Power lust کی تسکین کے لئے خواتین کو سرنگوں دیکھنا چاہتی ہے، خواتین پر ہی حکم جھاڑنا چاہتی ہے اور جب بات نہ بنے تو بیٹے کا ایموشنل بلیک میل کرکے اپنا انتقام پورا کرسکتی ہے۔ یہ وہ سلسلہ ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے اور مرد چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس کر کبھی ماں کی طرفداری میں بیوی پر ظلم کرتا ہے اور کبھی بیوی کے حقوق کا تحفظ کرتے کرتے نافرمان اور نالائق قرار پاتا ہے۔ اس طویل تناؤ نے ہی سونے کی خریداری میں ہوشربا اضافہ اور زمینوں کے بھاؤ میں اُچھال پیدا کردیا ہے۔ شادیوں کو لے کر جو کچھ سماج کی اندرونی پرتوں میں پنپ رہا ہے، وہ ایک خاموش لاوا ہے اور ستم ہے کہ یہ لاوا خاموشی سے ہی معاشرے کو اندر ہی اندر بوسیدہ کررہا ہے۔ اس رجحان کو سمجھنے کے لئے کسی دقیق تحقیق کی ضرورت نہیں کہ لڑکیا ں اب تن من دھن سے اعلی تعلیم کیلئے تیاریاں کرتی ہیں کہ انہیں شادی کے لئے مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ شادی اُن کے لئے نازک ارمانوں کا رقص نہیں بلکہ اذیتوں کا سامان ہوتا ہے۔ اب تو بعض لڑکے بھی ساس۔بہو کی سرد جنگ میں دونوں کی شفقتوں سے محروم ہونے کا خطرہ لینے کے لئے تیار نہیں۔ جب کوئی معاشرہ جنگ و جدل کے طویل سفر میں ہو تو عمرانی امور اکثر صرف نظر ہوجاتے ہیں۔ صاحب رسوخ حضرات ، خاص طور پر مولوی صاحبان پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ شادی شدہ جوڑوں کے بنیادی حقوق پر بھی چند کلمات سامعین کی نذر کیا کریں۔سماجی روایات ہوں یا کسی مذہب کے ارد گرد بننے والی روایات ، زمانے کی رفتار اِ ن روایات کو دیر یا سویر پچھاڑ دیتی ہیں۔ اگر شادی کے ادارے کو بچانا ہے تو کشمیر میں نکاح کو روزگار کے ساتھ نتھی کرنے کی مہلک روایت کو نیا موڑ دینا ہوگا۔ اسی طرح خاندان اب ایک ہی چھت کے نیچے پلنے والی کئی نسلوں کا نام نہیں، بلکہ شفقتوں،محبتوں اور خلوص کے جذبات سے پروئی گئی وہ مالا ہے جس کے موتی الگ الگ وجود رکھتے ہیں لیکن انہیں ایک دھاگا باندھے رکھتاہے۔ اگر آپ اور آپ کی بیوی کل ملاکر ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتے ہیں، تو آپ وقت پر بیٹے کی شادی کرکے اس کے پانچ سال سپانسر کرسکتے ہیں، تاکہ وہ مستقبل کی تشکیل میں یکسوہوکر محنت کرسکے۔ لیکن اس میں دِقت لڑکی والوں کو ہوگی۔ زیرتعلیم نوجوان کے ساتھ کون اپنی بیٹی کی شادی کرے گا؟ جب کسی معاشرے کے اجتماعی مزاج سے توکل اُٹھ جائے تو وہ کسی بھی دین کا نقیب ہو، وہ مذہب کی روح سے کوسوں دُور ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ دونوں طرف سے نقدی اور زیوارت کا بنڈار لگادیا جائے اور چند ماہ بعد یہ جوڑا زمین کی شاپنگ کے لئے وادی کے طول و عرض ناپتا رہے۔ اگر اس سب سے محبتیں باقی رہیں گی، تو صد مبارک! اس مسلے میں وازوان اور نذاکتوں پر اصراف کو ہدف بنانا فضول ہے ، کیونکہ شادی بجائے خود ایک صنعت ہے جو کئی طبقوں کے لئے روزگار کا وسیلہ بھی ہے نیز ہماری مقامی روایات اور ثقافت کا بنیادی حوالہ بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘